اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بڑا بیان، بھارت سیخ پا ہوگیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بڑا بیان، بھارت سیخ پا ہوگیا

?️

نئی دہلی (سچ خبریں)  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکر  نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بالکل مسئلہ فلسطین کی طرح ہے اور یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مؤثر انداز میں اٹھائے جس کے بعد بھارت میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے اور بھارت اس بیان پر سیخ پا ہوگیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندن باگچی نے اس پریس کانفرنس پراپنے ردعمل میں کہا کہ بھارت نے بوزکر کے بیان کی شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ بیان کہ مسئلہ کو اقوام متحدہ میں شدت کے ساتھ اٹھانا پاکستان کی ذمہ داری ہے، ناقابل قبول ہے اور نہ ہی کسی اور عالمی تنازع سے اس کو تشبیہ دی جاسکتی ہے۔

بھارتی ترجمان نے کہا کہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موجودہ صدر گمراہ کن بیانات دیں تو وہ اپنے عہدے کی اچھی خدمت نہیں کر رہے ہیں، ان کا رویہ شرم ناک تھا اور عالمی پلیٹ فارم کے شایان شان نہیں تھا۔

خیال رہے کہ جنرل اسمبلی کے صدر نے کہا تھا کہ میں خیال میں یہ خاص کر پاکستان کی ڈیوٹی ہے کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرمضبوطی سے لائے، ان کا کہنا تھا کہ میں اس بات سے متفق ہوں کہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر ایک جیسے ہیں۔

انہوں نے تمام فریقین سے جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ مسئلے کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جیسا کہ شملہ معاہدے میں بھارت اور پاکستان نے اتفاق کیا تھا انہی پیرائے میں پرامن طور پر نکالاجائے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ہی بھارت کے خارجہ امور کے وزیر سبرامینم جے شنکر کے اسٹینفرڈ یونیورسٹیی کے ہوور انسٹیوٹشن میں گزشتہ روز خطاب کے دوران پاکستان پر سرحد میں دراندازی کا الزام عائد کیا تھا جس کو دفترخارجہ سے مسترد کردیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہدحفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ ‘خطے میں امن و استحکام کے لیے بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ ظلم و ستم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں، عالمی برادری اور کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے کے مطابق مسئلہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ کرنا خطرے کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ کشمیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مرکزی مسئلہ ہے اور 1947 سے عالمی قوانین کے مطابق حل طلب ہے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ ‘بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیرمیں بین الاقوامی قانون اور امن مخالف یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کیے گئے’۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے جابرانہ قبضے اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف تحریک کشمیریوں کی اپنی ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا تصفیہ نہیں کرتا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کو باور کرایا جاتا ہے کہ پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے مسئلہ جموں و کشمیر کے تنازع اور دیگر مسائل کے حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی راہ ہموار کرے۔

مشہور خبریں۔

عرب نیٹو نام کی کوئی چیز نہیں ہے: ریاض

?️ 17 جولائی 2022سچ خبریں:    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے

ایران جنگ کے باعث امریکی فوج کو بجٹ خسارے اور اسلحہ ذخائر میں کمی کا سامنا

?️ 14 مئی 2026سچ خبریں:ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ

صیہونی انٹیلی جنس سروسز پر حزب اللہ کا میزائلی حملہ

?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں:حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ٹیپے کوبرا

ترکی اور 2026 کے لیے پرجوش اقتصادی اہداف

?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: ترکی کی اقتصادی تصویر کے موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا

ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے اضافہ، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ

?️ 16 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے اگلے 15 دن کے لیے

امریکہ کی یوکرین کے لیے نئے امدادی پیکج کی تیاری

?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی حکام کے مطابق اس ملک کی حکومت یوکرین کی

اٹلی کی ریاض کو اسلحے کی فروخت پر پابندی منسوخ

?️ 1 جون 2023سچ خبریں:اطالوی حکومت نے اپنی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک بیان

ہم  مزید کئی سالوں تک لبنان میں رہیں گے: اسرائیل

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی کابینہ کے ذرائع نے عبرانی زبان کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے