جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے صہیونی فوج کے انخلا کا آغاز

جنوبی لبنان

?️

سچ خبریں:لبنان اور صہیونی حکومت کے درمیان فریم ورک معاہدے پر جزوی عمل درآمد کے دوران جنوبی لبنان کے 3 علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی اجازت دی گئی، تاہم مبصرین نے اس اقدام کو محدود اور علامتی قرار دیا ہے۔

لبنان کے ساتھ فریم ورک معاہدے پر نامکمل عمل درآمد کے دوران صہیونی حکومت نے جنوبی لبنان کے 3 ایسے علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی کی اجازت دی ہے جہاں اس کے لیے مستقل قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔

صہیونی فوج کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں پر مسلسل حملوں اور فریم ورک معاہدے کی خلاف ورزیوں کے باوجود جنوبی لبنان میں نام نہاد "آزمائشی علاقوں” کے نفاذ کا اعلان، معاہدے پر عمل درآمد کے عمل کا ایک نیا امتحان بن گیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی وزارت خارجہ نے فرون، صریف اور زوطر الغربیہ نامی قصبوں میں آزمائشی علاقوں کے منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت ان علاقوں کی سلامتی کی ذمہ داری لبنانی فوج کے سپرد ہوگی، جبکہ اس کی نگرانی لبنان کے خصوصی فوجی رابطہ گروپ کے تحت کی جائے گی۔

اسی دوران الجزیرہ کے نمائندے نے رپورٹ دی کہ لبنانی فوج منگل کے روز نبطیہ کے علاقے اور دریائے لیتانی کے شمال میں واقع قصبہ زوطر الغربیہ میں داخل ہو گئی ہے۔

لبنانی فوج کی انجینئرنگ ٹیموں نے سڑکوں کی صفائی، بارودی مواد اور جنگی باقیات کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جسے نئے انتظامات کے عملی نفاذ کا پہلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مکمل سکیورٹی انتظامات قائم ہونے تک وہ اس قصبے کا رخ نہ کریں۔

اس کے برعکس صہیونی فوج نہاد زرد لائن نامی علاقے میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جس میں تقریباً 60 قصبے اور دیہات شامل ہیں اور جن کے بیشتر رہائشی بے گھر ہو چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق ان 3 علاقوں کو خالی کرنا کسی مستقل قبضے کے خاتمے کے مترادف نہیں، کیونکہ صہیونی افواج فرون اور صریف میں پہلے ہی داخل نہیں ہوئی تھیں، جبکہ زوطر الغربیہ میں بھی انہوں نے صرف محدود کارروائی کے بعد پسپائی اختیار کی تھی۔

اسی وجہ سے فوجی اور تزویراتی امور کے ماہر بریگیڈیئر الیاس حنا کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے حقیقت میں لبنان کو کوئی حقیقی رعایت نہیں دی، کیونکہ ان 3 قصبوں کا مجموعی رقبہ صہیونی فوج کے زیر قبضہ تقریباً 600 مربع کلومیٹر علاقے کے صرف 2 فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔

ان کے مطابق تل ابیب زمینی حقائق پر محدود اثر رکھنے کے باوجود اس اقدام کو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

الیاس حنا نے مزید کہا کہ زوطر الغربیہ، فرون اور صریف کا انتخاب اتفاقی نہیں بلکہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا، کیونکہ یہ تینوں قصبے صہیونی فوج کے قائم کردہ نام نہاد سکیورٹی زون کے قریب واقع ہیں۔

ان کے مطابق اس سے صہیونی فوج لبنان کے اندر اپنے مطلوبہ سکیورٹی دائرے کو برقرار رکھنے اور ان علاقوں کے اطراف پر اپنی فائر کنٹرول صلاحیت محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد لبنانی حکومت اور فوج کی اس صلاحیت کا بھی جائزہ لینا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور پورے علاقے پر اپنی عمل داری قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ عمل عسکری اور سیاسی دونوں حوالوں سے پیچیدہ چیلنجز کا حامل ہے۔

الیاس حنا کے مطابق آزمائشی علاقوں کی کامیابی جانچنے کا طریقہ کار بھی تاحال اختلاف کا شکار ہے۔

روم میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ اس عمل کا جائزہ اطالوی فریق لے، تاہم تل ابیب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ یہ ذمہ داری امریکہ یا امریکی مرکزی کمان کے سپرد کی جائے تاکہ وہ نتائج پر براہ راست اثرانداز ہو سکے۔

غیر واضح زمانی خاکہ

بریگیڈیئر الیاس حنا نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے میں آئندہ مراحل کے لیے کوئی واضح زمانی خاکہ موجود نہیں، جس کے باعث موجودہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔

ان کے مطابق اگر تل ابیب یہ دعویٰ کرے کہ مطلوبہ شرائط پوری نہیں ہوئیں تو وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں میں موجودگی مزید طول دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیلنج صرف فوجی نوعیت کے نہیں بلکہ بے گھر شہریوں کی واپسی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور ایسے سکیورٹی واقعات کی روک تھام بھی اہم مسائل ہیں جو دوبارہ کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیش آئی  ہے جب صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان میں صہیونی میزائل حملوں، ڈرون پروازوں اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مشہور خبریں۔

مزاحمتی تحریک کی میزائل طاقت کو مضبوط کرنے میں جنرل قاسم سلیمانی کا کردار

?️ 24 اپریل 2024سچ خبریں: لبنانی روزنامہ الاخبار کے چیف ایڈیٹر نے مزاحمتی قوتوں کی

ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید خطرے میں؛ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ

?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں:بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ

عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے پیش

?️ 14 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اسلام

ایران جنگ نے امریکی اور صیہونی افسانوی فضائی برتری کو مٹی میں ملا دیا: الجزیرہ

?️ 27 اپریل 2026سچ خبریں:الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ

ہم اسرائیل کی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں:حماس

?️ 14 اپریل 2023سچ خبریں:اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ صہیونی معاشرے کے اندر موجود

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر امریکہ میکسیکو سرحد پر تارکین وطن کے ساتھ سلوک کو دیکھ کر حیران

?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی

آخر کار امریکہ نے ایف 35 لڑاکا طیارے کی ناکامی کا اعتراف کر لیا

?️ 24 فروری 2021واشنگٹن {سچ خبریں} دنیا میں اپنی دھاک جمانے والے امیرکہ کو آخر

دنیا میں اسلحہ برآمد کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں تین اسرائیلی کمپنیاں شامل

?️ 10 دسمبر 2022سچ خبریں:اسٹاک ہوم انٹرنیشنل سینٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے