کابل ایئرپورٹ کے نزدیک راکٹ حملے، کسی گروپ نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی

کابل ایئرپورٹ کے نزدیک راکٹ حملے، کسی گروپ نے ابھی تک ذمہ داری قبول نہیں کی

?️

کابل (سچ خبریں) افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے نزدیک راکٹ حملے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ راکٹ پیر کی صبح کابل کے سلیم کاروان محلے میں آکر گرے، دھماکوں کے بعد فائرنگ بھی کی گئی لیکن یہ بھی فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس نے کی ہے۔

عینی شاہدین نے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے تین دھماکوں کی آواز سنی اور پھر آسمان میں ایک روشنی اٹھتے دیکھی۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد لوگ اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے نظر آئے، امریکی حکام نے رائے کے لیے درخواستوں کا فوری طور جواب نہیں دیا، امریکی فوجی کارگو طیاروں نے راکٹ فائر کیے جانے کے بعد بھی ایئر پورٹ سے انخلا جاری رکھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایک جاری بیان میں کہا کہ حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کو کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ایئرپورٹ پر راکٹ حملے سے آگاہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ صدر کو بتایا گیا کہ ایئرپورٹ پر آپریشنز بلا تعطل جاری ہیں اور ان سے ان کے حکم کی دوبارہ تصدیق کی گئی کہ کمانڈر زمین پر ہماری افواج کی حفاظت کے لیے جو بھی ضروری ہو اسے کرنے کو ترجیح دینے کی اپنی کوششوں کو دوگنا کریں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز ایک امریکی ڈرون حملے میں افغانستان کے دولت اسلامیہ (آئی ایس) سے وابستہ متعدد خودکش حملہ آوروں کو لے جانے والی گاڑی کو اڑا دیا گیا تھا اس سے قبل کہ وہ کابل کے ایئرپورٹ پر جاری فوجی انخلا پر حملہ کر سکے، ایک افغان اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں تین بچے بھی ہلاک ہوئے۔

امریکا منگل تک افغانستان سے نکل جائے گا، تب تک امریکا ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افغانیوں اور غیر ملکیوں کو دو ہفتوں سے جاری ایئر لفٹ کے آپریشن کو ختم کرنے اور اپنی آخری فوجیں واپس بلانے کے لیے تیار ہے جس سے طالبان کے ساتھ امریکا کی طویل ترین جنگ ختم ہو جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا جس میں تقریبا 100 ممالک کے ساتھ ساتھ نیٹو اور یورپی یونین نے دستخط کیے تھے، اس بیان میں کہا گیا کہ انہیں طالبان کی طرف سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ سفری دستاویزات والے لوگ اب بھی ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

طالبان نے کہا کہ منگل کو امریکی انخلا مکمل ہونے کے بعد وہ عام سفر کی اجازت دیں گے اور وہ ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیں گے، تاہم کئی افغان، طالبان کی جانب سے ماضی میں روا رکھی گئی اس ظالمانہ حکمرانی کی طرف لوٹنے سے خوفزدہ ہیں، جس کے لیے وہ کبھی مشہور تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ائیر پورٹ کے باہر دولت اسلامیہ کے خودکش حملے میں 169 افغان اور 13 امریکی سروس اہلکار ہلاک ہوئے تھے، اس واقعے کے بعد امریکا نے ہفتے کے روز افغانستان میں ایک ڈرون حملہ کیا جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ دولت اسلامیہ کی مقامی وابستگی رکھنے والے 2 ارکان کو ہلاک کردیا ہے، جو ماضی میں طالبان سے بھی لڑ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کے سابقہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے طالبان سے معاہدے کے بعد افغانستان میں امریکی جنگ کے اختتام کے امکانات سامنے آئے تھے۔

اس معاہدے کے تحت افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا ہونا تھا، نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی افواج کے انخلا کے عزم کا اظہار کیا تھا اور رواں سال انہوں نے 11 ستمبر تک مکمل انخلا کا اعلان کیا تھا۔

تاہم امریکی افواج کے انخلا کا جہاں آپریشن جاری تھا وہیں طالبان نے اپنی پیش قدمیوں میں تیزی کردی تھی اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

افغانستان میں کابل ہوائی اڈے پر آج صبح سویرے داغے گئے پانچ راکٹوں کو امریکی میزائل شکن دفاعی نظام نے تباہ کردیا جبکہ امریکا کل اپنا انخلا کا عمل مکمل کرنے جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ راکٹ حملہ ایک گاڑی سے کیا گیا۔

امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تازہ ترین راکٹ حملے میں کسی امریکی ہلاکت کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

مشہور خبریں۔

مولانا فضل الرحمان نے سیلاب کے باعث مردان اور دیر کے جلسے منسوخ کردیے

?️ 5 ستمبر 2025ڈی آئی خان (سچ خبریں) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل

چیئرمین سینیٹ سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

?️ 5 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے برطانوی ہائی

کورونا جنگ میں امریکی حکومت کے 400 ارب ڈالر کی چوری

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جعلسازوں نے ممکنہ طور پر کورونا

روس یوکرین کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے: زیلینسکی

?️ 13 مارچ 2022سچ خبریں:   یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس

صیہونیوں کی جانب سے بیت المقدس میں آباد کاری کے دو بڑے منصوبے

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:  استقامتی کمیٹی کے سربراہ موئد شعبان  نے کہا ہے کہ

صیہونی ریاست میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے، قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کا مطالبہ

?️ 25 مئی 2025 سچ خبریں:صیہونی ریاست کے مختلف شہروں میں شہریوں نے قیدیوں کے

بھارت ظلم و تشدد،گرفتاریوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کر سکتا ، حریت کانفرنس

?️ 9 جون 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارتی

حضرموت اور المہرہ میں پیش رفت پر سعودی عرب کی تشویش، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل

?️ 25 دسمبر 2025حضرموت اور المہرہ میں پیش رفت پر سعودی عرب کی تشویش، کشیدگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے