کیا اسرائیل حماس کو شکست دے سکتا ہے؟موساد کے سابق چیف کی زبانی

اسرائیل حماس کو شکست

?️

سچ خبریں: سابق موساد چیف نے واضح کیا ہے کہ تل ابیب حماس کو شکست دینے کے قابل نہیں ہے اور غزہ جنگ کے اہداف کبھی پورے نہیں ہوں گے۔

رائے الیوم انٹر ریجنل اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ موساد کے سابق چیف دانی یاتوم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔

انہوں نے غزہ میں قابضین کے محدود اختیارات کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ مزاحمت نے متواتر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اسرائیل کو اپنے قیدیوں کی واپسی کے لیے حماس کے ساتھ مذاکرات سمیت ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ جنگ سینئر صیہونی جرنیلوں کے لیے گلے کی ہڈی

یاتوم نے تصدیق کی کہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی بہت اہم ہے اور تل ابیب کو کسی مخصوص مرحلے پر لڑائی کو روک دینا چاہیے۔

موساد کے سابق چیف نے اعتراف کیا کہ صیہونی حکومت غزہ جنگ کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور غزہ کی پٹی پہلے کی طرح باقی رہے گی۔

یاتوم نے مزید کہا کہ حتیٰ اگر غزہ میں جنگ کچھ مہینے مزید جاری رہے اور اسرائیل اپنی زمینی اور زیرزمین کارروائیوں کو جاری رکھے تب بھی وہ کبھی بھی حماس کے سب جنگجوؤں یا حتیٰ ان کی اکثریت کو بھی ختم نہیں کر سکے گا، اسرائیل غزہ میں مزاحمت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے فلسطینی مزاحمت کی جانب سے غوش دان اور تل ابیب کے علاقوں میں مسلسل راکٹ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس خبر پر حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حماس اب بھی راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے چاہے یہ حملے الاقصیٰ طوفان آپریشن کے آغاز کے 233 دن بعد بھی ہو رہے ہوں۔

صیہونی مسلح افوف کے سابق نائب سربراہ متان ویلنائی نے بھی مرکزی مقبوضہ علاقوں پر حماس کے کامیاب راکٹ حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس اب بھی موجود ہے اور اسے ختم کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے صیہونی چینل کان کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ حماس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں محض خیالی ہیں۔

مزید پڑھیں: ممتاز امریکی اور برطانوی میڈیا کا غزہ جنگ کے بارے میں اعتراف

صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ میں صیہونی فوج کی 8 ماہ کی کارروائیوں کے باوجود مقبوضہ علاقوں پر راکٹ حملے صیہونی حکومت کے لیے حیرانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، میڈیا رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ یہ راکٹ غزہ میں اسرائیلی فوجی دستوں سے 800 میٹر کی دوری سے مقبوضہ علاقوں کی طرف داغے جا رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

بجلی کی قیمتوں سے متعلق 20 فیصلوں پر ازسر نو سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ

?️ 3 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپیلیٹ

عراق نے خطے میں تنازعات کو پھیلنے سے روکا

?️ 22 فروری 2025سچ خبریں: عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے ہفتے کے روز بغداد

نیب ترامیم کیس: نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرستیں طلب

?️ 30 اگست 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے قومی

السنوار کے قتل کے بعد عبرانی میڈیا کا تجزیہ

?️ 20 اکتوبر 2024سچ خبریں: عبرانی زبان کے اخبار کالکالسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق

امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان کیا چل رہا ہے؟

?️ 22 جولائی 2023سچ خبریں: تل ابیب میں واشنگٹن کے سفیر نے قبل از وقت

پیپلز پارٹی کا 58 واں یومِ تاسیس، ملک بھر میں ضلعی سطح پر جلسوں کا اعلان

?️ 27 نومبر 2025کراچی (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی 30 نومبر کو اپنا 58 واں

 وینزویلا نے روس، چین اور ایران سے فوجی مدد مانگ لی:امریکی میڈیا کا دعوٰی

?️ 1 نومبر 2025 وینزویلا نے روس، چین اور ایران سے فوجی مدد مانگ لی:امریکی میڈیا

غزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے انگریزی اخبار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے