عرب ممالک کو صیہونیوں کی معافی قبول نہیں کرنا چاہیے: عبدالباری عطوان

عرب ممالک کو صیہونیوں کی معافی قبول نہیں کرنا چاہیے: عبدالباری عطوان

?️

سچ خبریں:عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ صیہونی حکام کی توہین‌آمیز حرکتوں کے بعد ان کی معذرت قبول کرنا خطرناک پیغام ہوگا،عطوان نے اس طرز عمل کو قبضے اور نسل‌کشی کرنے والے دشمن کو جواز فراہم دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔

عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے صہیونی حکام کی طرف سے عرب ممالک کے خلاف توہین آمیز حرکات اور پھر ان سے معذرت کرنے کے سلسلے کو خطرناک رجحان قرار دیا اور ان عرب ریاستوں کے سر تسلیم خم کرنے پر سخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں:ایکسوس: قطر کا اسرائیل سے معافی کا مطالبہ

عطوان نے رائے الیوم میں لکھا کہ ان دنوں صیہونی ریاست کی بُلند بازوئی اور عربوں کی خود سپردگی ایک عجیب و قابلِ توجہ مظہر بن چکی ہے؛ ایسا رویہ جو طویل مدتی اعتبار سے خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان معذرتوں کی بات کر رہے ہیں جو امریکی دباؤ کے تحت صہیونی حکام کی طرف سے عرب ممالک کے سامنے پیش کی جاتی ہیں اور دکھ کی بات یہ ہے کہ عرب فریق نہ صرف اس کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ یا تو اسے قبول کر لیتا ہے یا خاموشی اختیار کر کے اس پر اکتفا کر لیتا ہے؛ گویا یہ معذرت کسی عزیز دوست کی طرف سے کی گئی ہو اور کسی چھوٹی لغزش پر پشیمانی ہو جسے دوستی برقرار رکھنے کے لیے معاف کر دینا چاہیے۔

عطوان نے مزید کہا کہ جب بنیامین نتن یاہو نے قطر پر حملے کے بعد براہِ راست ڈونلڈ ٹرمپ کے دستور پر معذرت کی، تو اسی تسلسل میں صیہونی وزیرِ خزانہ بزالل اسموتریچ نے بھی سعودی عرب کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دینے پر معذرت کی اور افسوس کا اظہار کیا۔

اسموتریچ نے کہا تھا کہ اگر سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کرے تو ہم کہیں گے: نہیں، شکریہ۔ آپ اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر ریگستان کی سیر جاری رکھیں۔

عطوان نے لکھا کہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سعودی حکام نے ان بیانات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

عطوان نے زور دے کر لکھا کہ عرب رہنماؤں کو کسی بھی صورت صہیونی حکام کی معذرت قبول نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ معذرت کسی دوست کی طرف سے غلطی کی پشیمانی نہیں بلکہ ایک ایسے دشمن کی طرف سے ہے جس نے عرب اراضی پر قبضہ کیا، غزہ میں نسل‌کشی کی، ستر ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا، غزہ کے 95 فیصد مکانات و عمارتیں تباہ کر دیے اور روزانہ مسجدِ الاقصیٰ پر حملے کرتا ہے۔

انہوں نے استدلال کیا کہ جب نتن یاہو نے اپنے لڑاکا طیارے قطر پر حملے کے لیے روانہ کیے اور اس حملے میں چھ افراد شہید ہوئے جن میں ایک قطری سکیورٹی افسر بھی شامل تھا، تو ایسی صورت میں معذرت کس کام کی؟ کیا یہ معذرت شہداء کو زندگی واپس لا سکتی ہے؟

عطوان نے کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے نتن یاہو پر معذرت کرنے کا دباؤ دراصل قطر کے ساتھ اس کے بڑے اتحادی ہونے کے ناطے اس کی خیانت کو چھپانے کی کوشش تھی۔

ان کے مطابق قطر العدید ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے اور یہ اڈہ میزبان ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کے خطرے کی صورت میں اس کی حفاظت کے لیے ایک کلیدی عنصر ہے، عطوان نے کہا کہ ٹرمپ نے محض معذرت کے پیش‌مسودے کی تیاری کی اور جارح صہیونی حکومت کے خلاف کوئی پابندی عائد نہیں کی۔

عطوان نے واضح کیا کہ صہیونی حکام کی ان معذرتوں کو قبول کرنا جو غزہ میں نسل‌کشی کے مرتکب ہیں، مغربی پٹی سے الحاق کی قرارداد منظور کرچکے ہیں، اور اپنی فوج بڑے پیمانے پر لبنان پر حملے کی تیاری میں مصروف ہے، اس دشمن کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک نیا، خطرناک معمول پیدا کرے گا: ہم حملہ کریں گے، قتل کریں گے، توہین کریں گے، پھر معذرت کر لیں گے اور یوں معاملات معمول پر آجائیں گے۔

عطوان نے مزید لکھا کہ ہمارے لیے، بطور عرب اور مسلم، شتر چرانی یا بیابان میں چرواہا بن کر رہ جانا شرم کی بات نہیں۔ ہمیں بس نتن یاہو اور اسموتریچ کو یاد دِلانا چاہیے کہ انہیں چوپانوں کے نسل سے وہی مجاہد ہیں جنہوں نے طوفان الاقصی آپریشن کو ڈیزائن اور انجام دیا جو قبضہ کاروں کے خلاف سب سے بڑا فوجی و سکیورٹی آپریشن تھا۔

عطوان کے الفاظ میں فلسطینی مجاہدین نے خطے کا نقشہ بدل دیا، قبضہ کاروں اور ان کی فوج کی شان و شوکت کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور انہیں عالمی سطح پر بدنام کیا، عرب و مسلم وہی قوم ہیں جن کے ہائپر سونک میزائل روزانہ سات ملین صہیونی باشندوں کو پناہ گاہوں میں دھکیلتے رہے ہیں

عطوان نے نتیجہ اخذ کیا کہ فلسطینی رزمندگان نے اشغال کاروں کی شان و جلال کو مٹا دیا اور انہیں عالمِ انسانیت میں منفور کر دیا۔

مشہور خبریں۔

جنوبی کوریا کی یوکرین کو 130 ملین ڈالر کا امدادی پیکج

?️ 17 مئی 2023سچ خبریں:جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ چو کی یونگ ہو اور یوکرین

لاہور پولیس کی چوہدری پرویز الہٰی کی 30 روز کیلئے نظر بندی کی درخواست

?️ 16 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کیپٹل سٹی پولیس نے لاہور کے ڈپٹی کمشنر سے

صیہونی قابض درندے فلسطینی شہداء کی لاشوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟

?️ 27 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کے سرکاری میڈیا کے دفتر نے یہ اعلان کرتے

امریکہ اسرائیل اور انتہا پسندوں کے دباؤ کے باعث ایرانی ایٹمی معاہدہ میں واپس نہیں آرہا:یورپی قانون ساز

?️ 2 فروری 2023سچ خبریں:یوروپی پارلیمنٹ میں آئرش قانون ساز مک والیس نے ایک ویڈیو

ایران کے اسلامی انقلاب نے ثابت کر دیا کہ امریکہ کی ناک خاک میں رگڑنا ممکن ہے

?️ 9 فروری 2023سچ خبریں:اسلامی انقلاب سے پہلے ایران خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ

رقم ادا کرنا اور زمین دینا؛ غزہ میں اسرائیلی فوج کے لیے کرائے کے فوجیوں کا انعام

?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں:  ہآرتض اخبار نے اسرائیلی فوجی افسران کے حوالے سے خبر

روس کی کس ملک سے دشمنی ہے؟ پیوٹن کی زبانی

?️ 29 مارچ 2024سچ خبریں: روس کے صدر نے کہا کہ اس ملک کے کسی

عمران خان نے ایران اسرائیل صورتحال کے پیش نظر احتجاجی تحریک 2 ہفتوں کیلئے مؤخر کردی

?️ 17 جون 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے