صیہونی تجزیہ کاروں کی نظر میں نیتن یاہو کی موجودہ حالت

صیہونی تجزیہ کاروں کی نظر میں نیتن یاہو کی موجودہ حالت

?️

سچ خبریں:اسرائیلی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو اپنی سیاسی زندگی کے سب سے کمزور اور نازک دور سے گزر رہے ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو اپنی سیاسی زندگی کے سب سے کمزور اور نازک دور سے گزر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو پر صیہونی میڈیا کی تنقید؛صرف اقتدار کی بقا کی فکر

وہ داخلی اور خارجی دباؤ کے پیش نظر ایسے معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور ہیں جسے وہ خود ناپسند کرتے ہیں، لیکن عوامی دباؤ کی شدت نے انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔

الجزیرہ کے تجزیہ کار تامر المسحال کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے آتش بس معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں ڈالیں، خاص طور پر اس کے پہلے مرحلے سے پہلے میدان میں کشیدگی برقرار رکھی گئی۔

یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جس میں خواتین، فوجی اہلکار اور فوت شدگان کے جنازے شامل ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے، ہر اسرائیلی خاتون قیدی کے بدلے 30 فلسطینی خواتین کو رہا کیا جانا ہے جبکہ ہر اسرائیلی فوجی خاتون کے بدلے 30 خواتین اور 20 دیگر قیدی آزاد کیے جائیں گے۔

حماس نے اسرائیلی فوجیوں کے جنازے واپس کرنے کے بدلے میں تمام خواتین اور بچوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک اور اسرائیلی امور کے ماہرمہند مصطفی نے بیان کیا کہ نیتن یاہو اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے سب سے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اپنی تقریر میں غیر معمولی طور پر کمزور نظر آئے اور انہوں نے عوام کو ایسے معاہدے پر قائل کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر وہ خود بھی یقین نہیں رکھتے۔

مصطفی نے مزید کہا کہ نیتن یاہو داخلی اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت مجبور ہیں، جو ان کے سیاسی کیریئر کے زوال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

الجزیرہ کے رپورٹرالیاس کرام نے بتایا کہ نیتن یاہو کی تقریر کے دوران تل ابیب میں ہزاروں افراد جمع ہوئے، جنہوں نے آتش بس اور اسرا کے تبادلے کے فوری نفاذ کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو دوسرے مرحلے کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دوسرا مرحلہ ناکام ہوا تو مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، جس کی نشاندہی شاباک کے سربراہ نے بھی کی۔

ایک سیاسی ماہر سعید زیاد نے بیان کیا کہ نیتن یاہو کے لیے غزہ میں جنگ کے خاتمے کا اعلان مشکل ہے،اگر جنگ ختم ہوتی ہے تو وہ ممکنہ طور پر عدالت میں مقدمات کا سامنا کریں گے جس سے بچنے کے لیے وہ جنگ کو طول دینے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔

نیتن یاہو کا موجودہ دور نہ صرف ان کی سیاسی کمزوری کا عکاس ہے بلکہ اسرائیلی حکومت کی داخلی کشیدگی اور فلسطینی مزاحمت کے دباؤ کی شدت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو نے ان 4 وجوہات کی بنا پر جنگ بندی کو قبول کیا

داخلی اختلافات، عوامی احتجاج، اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان، یہ واضح ہے کہ اسرائیلی حکومت اب اپنی جارحانہ پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی حکومت میں اخلاقی سکینڈلز کے رجحان میں شدت

?️ 6 دسمبر 2021سچ خبریں:  اسرائیلی فوج کے ایک سینئر افسر نے جلبوع جیل میں

یمن کے خلاف جارحیت امریکہ اور اسرائیل کا نیا جنگی جرم ہے: اسلامی جہاد

?️ 25 اگست 2025سچ خبریں: فلسطینی جہادی تحریک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونیستی

لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کو ونڈوز 11 پر مفت اپ گریڈ کرنے کا طریقہ

?️ 9 اکتوبر 2021کیلیفورنیا(سچ خبریں)  مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈوز 11 بھی لانچ ہونے

پنجاب حکومت نے فضل الرحمان کو بھی ریلیف دینے کا فیصلہ کیا

?️ 9 نومبر 2021لاہور (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق کالعدم مذہبی تنظیم پر پابندی ختم کرنے

شہید نصر اللہ نے مشکل ترین حالات کے لیے مزاحمت کو تیار کیا

?️ 1 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان کی حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمود

پاکستان کا جوہری طاقت بننا بڑی کامیابی ہے: صدرمملکت

?️ 14 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی نے یوم آزادی کے

امریکہ میں کورونا وائرس کی اصل کی تحقیقات کا مطالبہ

?️ 1 مئی 2025سچ خبریں: گزشتہ کل چین کی ریاستی کونسل کے انفارمیشن آفس نے

الشفاء ہسپتال صیہونیوں کے قبضے میں؛ قیدی ملے؟

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: فلسطینی مقامی ذرائع نے الشفاء ہسپتال پر صہیونی فوج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے