ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف نئی مہم، غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات جاری

ٹرمپ

?️

ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف نئی مہم، غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات جاری
امریکی محکمۂ تعلیم نے پہلی بار ملک کی جامعات کو ملنے والی ہزاروں غیر ملکی مالی لین دین کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ حکومتی حکام اس اقدام کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے اعلیٰ تعلیم کے شعبے پر سیاسی دباؤ اور نگرانی بڑھانے کی کوشش سمجھتے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ اکسیوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ممتاز جامعات کے خلاف ایک نئی مہم کے تحت بیرونی مالی معاونت سے متعلق وسیع ڈیٹا عوام کے لیے شائع کیا ہے۔ یہ اقدام “ہائیئر ایجوکیشن ایکٹ” کی شق 117 کے سخت نفاذ کے تحت کیا گیا ہے، جس کے مطابق جامعات کو سالانہ 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر سے زائد کے غیر ملکی عطیات اور معاہدوں کی رپورٹ دینا لازمی ہے۔
محکمۂ تعلیم کی جاری کردہ معلومات کے مطابق سال 2025 میں 8 ہزار 300 سے زائد غیر ملکی مالی لین دین ریکارڈ کیے گئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 2.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس رقم کا نصف سے زائد حصہ صرف چار جامعات — کارنیگی میلن، ایم آئی ٹی، اسٹینفورڈ اور ہارورڈ — کو موصول ہوا۔ قطر کو 1.1 ارب ڈالر سے زیادہ کے ساتھ سب سے بڑا غیر ملکی ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، جاپان، جرمنی اور سعودی عرب بھی نمایاں ممالک میں شامل ہیں۔ یہ تمام معلومات اب ایک آن لائن پورٹل پر عوامی دسترس میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے شق 117 کے مکمل نفاذ کو مزید سخت کر دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض اوقات غیر ملکی رقوم کی اصل نوعیت چھپائی جا سکتی ہے، اس لیے شفافیت ضروری ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس پالیسی کا مقصد “خیالات کی منڈی کو غیر ملکی حکومتوں کے پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنا” اور امریکی تحقیق و طلبہ کے ممکنہ استحصال کو روکنا ہے۔
جنوری سے اب تک محکمۂ تعلیم ہارورڈ، یونیورسٹی آف پنسلوانیا، برکلے اور مشی گن سمیت چار جامعات کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کر چکا ہے، جن پر غیر ملکی فنڈنگ کی نامکمل یا تاخیر سے رپورٹنگ کا شبہ ہے۔
وزیر تعلیم لنڈا میک موہن کا کہنا ہے کہ بعض رقوم ایسے ممالک یا اداروں سے آتی ہیں جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے مالی شفافیت ناگزیر ہے۔ تاہم ماہرین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔
سیاسیات کے پروفیسر الیگزینڈر کولی کے مطابق اس معاملے کو سکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کرنا مبالغہ آرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ملک کا بطور ذریعہ درج ہونا ضروری نہیں کہ اصل عطیہ دہندہ بھی وہی ہو، جبکہ بعض غیر ملکی رقوم شیل کمپنیوں کے ذریعے منتقل ہو کر سرکاری ریکارڈ میں غیر ملکی امداد کے طور پر ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔
کولی نے نشاندہی کی کہ رپورٹنگ کے تقاضوں میں مختلف نوعیت کی سرگرمیوں کو ایک ہی زمرے میں ڈال دیا گیا ہے، جن میں غیر ملکی طلبہ کی فیس و وظائف سے لے کر بیرون ملک قائم مشترکہ کیمپسز کے معاہدے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر قطر میں متعدد امریکی جامعات کیمپس چلا رہی ہیں، جسے محض سیاسی اثر و رسوخ سے جوڑنا درست نہیں۔
انہوں نے شفافیت کے اصول کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ملکی عطیات کی جانچ ضروری ہے ویسے ہی غیر ملکی ذرائع کی نگرانی بھی ہونی چاہیے، تاہم یہ عمل متوازن اور ہدفی ہونا چاہیے۔ انہوں نے جیفری ایپسٹین کی ابتدائی عطیات اور جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ایم آئی ٹی کے سعودی عرب سے تعلقات پر نظرثانی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات رقوم کے ذرائع پر سوال اٹھانا جائز ہوتا ہے۔
تاہم کولی نے خبردار کیا کہ اگر نگرانی کا عمل سیاسی رنگ اختیار کر لے تو یہ جامعات کی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق مالی اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے، لیکن اصل ذرائع اور ممکنہ اثرات کی درست نشاندہی ضروری ہے، نہ کہ محض تعلق کی بنیاد پر مجرمانہ رنگ دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

وزیر اعظم کا چند اشیاء پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ

?️ 21 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال میں غریب

غزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ 

?️ 1 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی ذرایع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے خبردار

غزہ میں قحط کے سرکاری اعلان پر امریکی سفیر برہم!

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: تل ابیو میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے سوشل میڈیا پر

فلسطینی کیوں حق پر ہیں؟

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں: ازخان کہتے ہیں کہ صیہونی حکومت نے دہائیوں کے دوران

ٹرمپ کا کینیڈا کے خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام پر ردعمل

?️ 31 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کینیڈا کی جانب

صیہونیوں کا سید حسن نصراللہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کا اعتراف

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:سابق صیہونی وزیر اعظم نے ایک ٹویٹ میں حزب اللہ کی

پی ڈی ایم اختلاف وسیع اور شدید ہو گیا

?️ 4 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پی ٖڈی ایم شدید اختلاف ہو گیا ہے اور 

غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے: حماس

?️ 24 فروری 2026غزہ میں اسرائیل دانستہ طو رپر جنگ بندی کو سبوتاژ کرہا ہے:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے