ایران جنگ نے وائٹ ہاؤس کو ہلا دیا؛ 60 فیصد سے زائد امریکی ٹرمپ کے خلاف

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:امریکہ میں ہونے والے تازہ ترین سروے کے مطابق ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگی پالیسیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ اکثریت نے جنگ کو مہنگائی، توانائی بحران اور عالمی تنہائی کی وجہ قرار دیا۔

امریکہ میں ہونے والے تازہ قومی سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کی جنگی حکمت عملی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو ان کے دور صدارت کی کم ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

ٹیلی سور کے مطابق PBS News، NPR اور Marist کے مشترکہ سروے میں 63 فیصد امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف وائٹ ہاؤس کی جارحانہ پالیسی کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکہ کی عالمی حیثیت کمزور ہوئی، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور خوراک و توانائی کے شعبوں میں عدم استحکام پیدا ہوا۔

سروے میں شامل 60 فیصد سے زائد افراد نے کہا کہ ریپبلکن حکومت کی ایران مخالف فوجی حکمت عملی ایک غلط فیصلہ تھی۔ جواب دہندگان کی بڑی تعداد کا ماننا تھا کہ واشنگٹن کی جنگی پالیسیوں نے امریکہ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور توانائی و غذائی تحفظ کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق کیمیائی کھاد کی سپلائی چین میں رکاوٹ کے باعث عالمی غذائی منڈی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ Yara International کے چیف ایگزیکٹو سوین توره ہولسٹر نے خبردار کیا کہ اگر ترسیل میں رکاوٹ برقرار رہی تو دنیا بھر میں اربوں کھانے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اسی دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی خاندانوں پر شدید مالی دباؤ ڈالا ہے، جبکہ 80 فیصد سے زائد افراد نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے گھریلو بجٹ کو براہ راست متاثر کیا ہے۔

اس قومی سروے میں امریکی عوام کی معاشی بے چینی بھی واضح طور پر سامنے آئی۔ 63 فیصد افراد نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال ان کے حق میں نہیں، جبکہ 56 فیصد نے اپنے علاقے کی معاشی حالت کو کم قابل برداشت یا بالکل ناقابل برداشت قرار دیا۔

سروے میں 61 فیصد شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں سے فائدے کے بجائے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ تاہم نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ٹرمپ اب بھی اپنے اس سیاسی حلقے کی حمایت رکھتے ہیں جو ان کی جارحانہ پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے کشیدگی بڑھانے اور مذاکرات میں اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوششوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکی مطالبات اسلامی جمہوریہ ایران کے بنیادی مؤقف سے متصادم ہیں، جس سے سفارتی اور عسکری تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ادھر واشنگٹن پوسٹ اور ABC نیوز کے مشترکہ سروے میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عوامی ناراضی کو ان کے دور صدارت کی بلند ترین سطح قرار دیا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل ریپبلکن پارٹی ایک خراب سیاسی ماحول کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ امریکی عوام ایران جنگ اور دیگر اہم مسائل پر ٹرمپ سے شدید نالاں ہیں۔

اسی طرح تحقیقی ادارے Focaldata کے حالیہ سروے میں مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کو ووٹرز کی سب سے بڑی تشویش قرار دیا گیا۔

نتائج کے مطابق تقریباً 58 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ مہنگائی اور اخراجات زندگی کے معاملے پر صدر کی کارکردگی سے شدید یا کسی حد تک غیر مطمئن ہیں۔ 50 فیصد سے زائد افراد نے معیشت اور روزگار کے شعبے میں بھی ٹرمپ کی کارکردگی کو منفی قرار دیا، جبکہ 55 فیصد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے تجارتی ٹیرف نے امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے برعکس صرف 25 فیصد ووٹرز نے کہا کہ صدر کی تجارتی پالیسیوں سے معیشت کو فائدہ پہنچا۔

اس بڑھتی داخلی تنقید کے باوجود ٹرمپ نے سرویز کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے ایران جنگ کو ایک چھوٹی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ پسند نہیں لیکن امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج اور بہترین ہتھیار موجود ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سروے کے سوالات ان کے خلاف جانبدارانہ انداز میں ترتیب دیے جاتے ہیں اور اگر ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے سوال پوچھا جائے تو بھی نتائج جعلی ہی ہوں گے۔

ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی، عسکری اور معاشی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ 2018 میں واشنگٹن کے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکلنے اور تہران پر پابندیاں بحال کرنے کے بعد اختلافات میں نمایاں شدت آئی۔ ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگی حکمت عملی نے نہ صرف امریکی عوام بلکہ عالمی رائے عامہ کے سامنے بھی واشنگٹن اور تل ابیب کے خطرناک منصوبوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

بشار اسد نے اقتدار کی کرسی کیوں چھوڑ دی؟

?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کی محورِ مزاحمت سے عارضی طور پر علیحدگی کے بعد

غزہ کی جنگ سے اسرائیلی معیشت اور فوج تباہ

?️ 9 جولائی 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار معاریف کے صحافی ایوی اشکنازی نے اپنی رپورٹ میں

سپریم کورٹ نے تجوری ہائٹس کو گرانے کا حکم دے دیا

?️ 12 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے کراچی کے

اسرائیل غزہ میں کس کے خلاف لڑ رہا ہے؟

?️ 2 دسمبر 2023سچ خبریں: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے غزہ کی پٹی کی صورتحال کو

پچھلے 24 گھنٹوں میں یمن کے الحدیدہ صوبے میں سعودی اتحاد کی 243 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی

?️ 4 فروری 2021سچ خبریں:سعودی اتحاد نے یمن کے صوبہ الحدیدہ صوبے میں گذشتہ چوبیس

جنگ بندی کے امریکی منصوبے پر لبنان کا ردعمل

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں:لبنان نے امریکہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے جنگ

جیل سے خود احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا، عمران خان

?️ 4 جون 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے

”سنگل“ ہوں لیکن کسی رشتے کے لیے دستیاب نہیں، نعیمہ بٹ

?️ 21 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) ’کبھی میں کبھی تم‘ میں رباب کا کردار ادا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے