?️
سچ خبریں:عراقی صدر تحریک کے رہنما اور عراقی پارلیمنٹ میں سائرون اتحاد کے حامی ، مقتدی الصدر نے اپنے ایک اور متنازعہ فیصلے میں اس ملک میں 10 اکتوبر کو ہونے والے ابتدائی پارلیمانی انتخابات سے دستبرداری کا باضابطہ اعلان کیا ۔
صدر تحریک کے رہنما اور عراقی پارلیمنٹ میں سائرون اتحاد کے حامی مقتدی الصدر جو حالیہ برسوں میں عراقی سیاسی منظر نامے پر ہمیشہ ایک نمایاں سیاستدان رہے ہیں ، نے15 جولائی کو ایک اور متنازعہ فیصلے میں اس ملک میں ہونے والے ابتدائی پارلیمانی انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کیا ،اس فیصلے کو میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں نے نیوز بم قرار دیا ہے۔
موجودہ کالم میں الصدر کی انتخابات سے دستبرداری کے محرکات اور ممکنہ نتائج کی دو سطحوں پر جانچ پڑتال اور تجزیہ کیا گیا ہے، اکتوبر کے انتخابات سے دستبرداری کے مقتدی الصدر کے ارادے کے بارے میں دو اہم نکات یا محور پر غور کیا جاسکتا ہے؛اپنے حامیوں میں الصدر تحریک کی معاشرتی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھن۔
مقتدا الصدر نے 2007 کے بعد سے سالوں میں بحرانوں اور سیاسی واقعات کے بیچ اپنی تحریک کی سماجی اور قانونی حیثیت کو متوازن کرنے کی کوشش کی ہے جب انھوں نے جیش المہدی تنظیم کو ختم کردیا اور آہستہ آہستہ انتخابی میدان میں داخل ہوئے جہاں مختلف اوقات میں مقتدی الصدر اور ان کے ساتھیوں کو کابینہ میں مختلف سیاسی عہدوں کی پیش کش کی جاتی رہی ہے ، جو ہمیشہ ابتدائی قبولیت کے ساتھ رہا ہے اور پھر غیر متوقع انداز میں ذمہ داری کو قبول نہ کرنا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں ایسا لگتا ہے کہ مقتدی الصدر اکتوبر کے انتخابات میں اپنی شرکت کا اپنی مقبولیت اور ان سے وابستہ اتحادکی مقبولیت کم ہونے کی سمت ایک چیلنج کے طور پر اندازہ کر رہے ہیںدوسرا نکتہ الیکشن ہارنے کا خوف ہے، مقتدا الصدر نے ہمیشہ ہی کوشش کی ہے کہ 2003 کے بعد کے سالوں میں انھین عراقی سیاست اور حکمرانی میں ایک کرشماتی رہنما یا اس سے بھی بڑھ کر ایک سرکردہ شخصیت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف بیانات اور اقدامات کیے ہیں اور غیر متوقع مؤقف بھی اختیار کیے ہیں، موجودہ صورتحال میں سائرون اتحاد جیسےالصدر تحریک کی 54 نشستوں کے ساتھ حمایت حاصل ہے ،کا پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ کنٹرول ہےلہذا ایسا لگتا ہے کہ مقتدی الصدر کو خوف ہے کہ اگر وہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو ان ووٹوں میں بہت کمی واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ حکومت میں ان کے نمائندوں یا رشتہ داروں ، خاص طور پر وزارت صحت کی کوئی مثبت کارکردگی نہیں رہی ہے اور دوسرے سیاسی گروہوں کی انتخابی مہموں کے تناظر میں اس مسئلے پر یقینا زور دیا جائے گا لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ الصدر کا عمل ناکامی کی قبولیت کو روکنے میں ایک قسم کا احتیاط ہے۔


مشہور خبریں۔
فلسطینیوں کی شہریت کی منسوخی کا قانون پاس کرنے سے صورتحال بگڑنے کا خطرہ
?️ 16 فروری 2023خودساختہ تنظیم کی وزارت خارجہ نے صہیونی پارلیمنٹ کی طرف سے فلسطینی
فروری
بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے ملاقات کی تصدیق، مثبت پیش رفت کا دعویٰ
?️ 16 جنوری 2025 راولپنڈی: (سچ خبریں) پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے
جنوری
وزیر تعلیم نے میٹرک اور اینٹر کے امتحانات کے بارے میں اعلان کر دیا
?️ 26 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) نجی ٹیلی ویژن چینل کےپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے
اپریل
یمن کی اتھارٹی کے خلاف برطانوی بحری بیڑے کمزور نظر آئے
?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: ایک ممتاز برطانوی میڈیا نے بحیرہ احمر میں یمنی مسلح
جولائی
1948 کی جنگ کے بعد سے صیہونیوں کے لیے سب سے خطرناک شکست
?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی قومی سلامتی کے سابق وزیر نے اعتراف کیا کہ
اکتوبر
تحریک حریت کا بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کی حالت زار پر اظہار تشویش
?️ 12 مارچ 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں تحریک
مارچ
حزب اللہ کا ایک دن میں اسرائیل کے خلاف 47 آپریشن کر کے ریکارڈ
?️ 26 اکتوبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ حزب
اکتوبر
نئے انکشافات نے پھر شریف فیملی کو مافیا ثابت کردیا: فواد چوہدری
?️ 26 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری کا کہنا ہے کہ شریف
دسمبر