?️
ماہرین نے ٹرمپ کے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے دعوے کو غیر حقیقی اور پر خرچ قرار دیا
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ پینٹاگون کو فوری طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیں گے، امریکی و بین الاقوامی ماہرین نے اس اقدام کو ناممکن، پرخطر اور پر خرج قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، ایسا منصوبہ کم از کم دو سال درکار رکھتا ہے اور اس پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے مطابق، امریکہ کے پاس ایٹمی تجربات کے لیے صرف ایک زیرِ زمین مرکز موجود ہے جو نوادا میں لاس ویگاس کے قریب واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرکز کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے طویل وقت اور بھاری سرمایہ درکار ہوگا۔
سابق چیئرمین ایٹمی ریگولیٹری کمیشن گریگوری جازکو نے کہا کہ ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کی کوئی فوری ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ہتھیاروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کافی سائنسی ڈیٹا پہلے سے موجود ہے۔
ٹرمپ نے اپنی یہ خواہش چین کے صدر شی جِن پِنگ سے ملاقات کے بعد ظاہر کی اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انہوں نے وزارت دفاع کو "فوری طور پر ایٹمی تجربات شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کو تکنیکی اعتبار سے ایٹمی تجربات کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے خیال میں، اس طرح کے تجربات دراصل چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے، کیونکہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافے کے لیے اسے جواز کے طور پر استعمال کرے گا۔
ویلیم البرک، جو نیٹو کے سابق ماہرِ اسلحہ کنٹرول ہیں، کا کہنا ہے کہ "اگر امریکہ تجربات دوبارہ شروع کرتا ہے تو سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوگا۔” انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد شاید روس پر نئے تخفیفِ اسلحہ معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔
امریکہ اب تک 1,054 ایٹمی تجربات کر چکا ہے، جبکہ آخری تجربہ 1992 میں ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں چین نے مجموعی طور پر 47 تجربات کیے ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر واشنگٹن یہ سلسلہ دوبارہ شروع کرتا ہے تو بیجنگ بھی اسی راستے پر چل سکتا ہے، جس سے عالمی ایٹمی دوڑ تیز ہو جائے گی۔
امریکی وزیر دفاع پِیٹ ہیگسٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون وزارتِ توانائی کے ساتھ مل کر تجربات کی تیاری کرے گا، تاہم کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "قابلِ اعتماد ایٹمی باز deterrence ہماری سلامتی کی بنیاد ہے، اور اس کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات کیے جائیں گے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ٹرمپ کا یہ حکم نافذ ہوا تو یہ جامع ایٹمی تجربہ بندی معاہدے (CTBT) کی خلاف ورزی ہوگی، جو 1996 میں امریکہ سمیت 186 ممالک نے دستخط کیا تھا۔ یہ معاہدہ تمام ایٹمی دھماکوں چاہے وہ فوجی ہوں یا سائنسی پر پابندی عائد کرتا ہے۔
داریل کیمبل، جو واشنگٹن میں اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ دنیا میں فی الحال کوئی ملک، سوائے شمالی کوریا کے، ایٹمی تجربات نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی ذخائر پہلے سے محفوظ اور مؤثر ہیں اور 1992 کے بعد سے کسی تجربے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
امریکی ایٹمی تحفظاتی ادارے کے سربراہ برینڈن ولیمز نے بھی اس سال اپریل میں کہا تھا کہ امریکہ کو ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کی کوئی سائنسی یا عسکری ضرورت نہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعلان سیاسی مقاصد اور انتخابی بیانیے کا حصہ ہے، جس کا عملی نفاذ نہ صرف مہنگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بدقسمتی سے مردوں کو اپنے جذبات چھپانا سکھایا جاتا ہے، ہانیہ عامر
?️ 5 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ ہانیہ عامر نے مردوں کی ذہنی صحت سے
نومبر
ٹرمپ کی غلط فہمیوں کی وجہ سے امریکہ ایک بار پھر یمن کی دلدل میں پھنسا
?️ 18 مارچ 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے براہ راست حکم سے خواتین
مارچ
قابض حکومت کی دھمکیاں استقامت کو تیز کرتی ہیں: اسلامی جہاد
?️ 10 ستمبر 2022سچ خبریں: مغربی کنارے میں فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے میڈیا
ستمبر
صیہونی ریاست میں اگلی جنگ خانہ جنگی ہوگی:شاباک کے سابق رکن
?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس اور داخلی سلامتی کے ادارے کے
جولائی
الحدیدہ پر قبضے کا خواب؟ یمن میں امریکی حملے، اماراتی حمایت یافتہ فورسز اور بڑھتی ہوئی کشیدگی
?️ 22 اپریل 2025سچ خبریں:طوفان الاقصیٰ کے معرکے یہ واضح کر دیا ہے کہ بحیرہ
اپریل
ترکی میں گرفتاریوں کی نئی لہر
?️ 26 اپریل 2025 سچ خبریں:ترکی میں پولیس نے ایک نئی گرفتاریوں کی لہر شروع
اپریل
اسرائیلی فوجی اڈے پر ڈکیتی کی سب سے بڑی کارروائی
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:عبرانی زبان کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بے
دسمبر
حمیمہ ملک شادی کی بےبنیاد خبریں سن کر آپے سے باہر ہوگئیں
?️ 24 جنوری 2022کراچی (سچ خبریں) پاکستانی اداکارہ حمیمہ ملک سوشل میڈیا پر اپنی شادی
جنوری