?️
غزہ کی خواتین کے لئے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی
جب غزہ کی مائیں اپنے اجڑے گھروں کے ملبے میں بچوں کے لیے کھانے اور لباس کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور دل ہی دل میں جنگ بندی کی امید لگائے بیٹھی تھیں، تو ان کے اندر ایک اور خاموش جنگ بھڑک اٹھی چھاتی کے کینسرکی وہ بے رحم آگ، جو ان کے دکھوں میں ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔
دو سالہ تباہ کن جنگ نے غزہ کو کھنڈر میں بدل دیا۔ بےشمار خاندان بچھڑ گئے، بچے تعلیم سے محروم ہوئے، مریض ادویات کے انتظار میں جان کی بازی ہار گئے، اور مائیں اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا زخم دل میں لیے دنیا سے مدد کی فریاد کرتی رہیں۔ مگر اسرائیلی محاصرے نے ہر راستہ بند کر دیا — ایندھن، دوا اور خوراک سے لدے ٹرک سرحد پر سڑ گئے، جبکہ دوسری جانب غزہ کے لوگ زندگی کی آخری رمق کے لیے ترستے رہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، ملبے اور پناہ گزینوں کے خیموں کے بیچ غزہ کی عورتیں اب ایک اور جنگ لڑ رہی ہیں — چھاتی کے سرطان کے خلاف۔ برسوں کی محاصرے، غذائی قلت، آلودگی اور تباہ شدہ طبی نظام نے اس مرض کو تیزی سے بڑھا دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں اکتوبر کا مہینہ “بریسٹ کینسر آگاہی ماہ” کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن غزہ کی خواتین کے لیے یہ صرف ایک اور مہینہ نہیں بلکہ بقا کی لڑائی ہے۔
ایک پچاس سالہ خاتون، جو 2008 میں اسرائیلی فاسفورس بمباری سے بچ گئی تھیں، بتاتی ہیں کہ اس کے بعد انہیں چھاتی کے سرطان نے آ لیا۔ دو بار آپریشن کرانے کے باوجود مرض لوٹ آیا اور موجودہ جنگ نے علاج کے آخری امکانات بھی چھین لیے۔
ایک اور 40 سالہ مریضہ کہتی ہیں کہ مسلسل بمباری اور گرد و غبار نے ان کے سینے کو بھاری کر دیا تھا۔ انہیں لگا کہ یہ سانس کی تکلیف ہے، مگر ٹیسٹوں نے بتایا کہ یہ سرطان ہے۔ وہ پہلے ہی چار مرتبہ بمباری سے زندہ بچ چکی ہیں۔
غزہ کے کینسر سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد ابو ندی کے مطابق، یہ صرف ایک طبی بحران نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جنگ نے تشخیص اور علاج کا نظام تباہ کر دیا، جس کے باعث بیماری مزید پھیل گئی۔ ایندھن کی کمی، راستوں کی بندش اور نفسیاتی دباؤ نے خواتین کو اسپتال تک پہنچنے سے بھی روک دیا ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق، کینسر سینٹر جو کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی اور حیاتیاتی علاج کی سہولت دیتا تھا، مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ اب خواتین یا تو دواؤں کے متبادل استعمال کر رہی ہیں یا علاج کے انتظار میں ہیں ایک ایسا انتظار جو اکثر موت پر ختم ہوتا ہے۔
ایک مریضہ کہتی ہیں:“ڈاکٹر نے کہا ہے کہ گوشت اور پھل کھاؤ، مگر ان کی قیمت سونے کے برابر ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ڈبہ بند کھانا نقصان دہ ہے، مگر یہی میرا واحد سہارا ہے۔”
خیموں میں دھواں، سردی اور بھوک کے بیچ، غزہ کی خواتین روز ایک نئی اذیت جھیلتی ہیں۔ ان کے لیے گرمی گوشت جلنے جیسی ہے، اور سردی ہڈیوں کو چیر ڈالتی ہے۔
غزہ کی خواتین دو بار موت کا سامنا کر چکی ہیں ایک بار بمباری کے نیچے، اور دوسری بار اس خاموش مرض کے ہاتھوں جو ان کے جسم اور امید دونوں کو نگل رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں ہر سال 21 لاکھ خواتین کو متاثر کرتا ہے اور خواتین میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ لیکن غزہ کی خواتین کے لیے یہ صرف ایک بیماری نہیں یہ جنگ کا تسلسل ہے، جو ان کے زخمی جسموں اور ٹوٹے دلوں میں اب بھی جاری ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مغرب روس کو عصر حجر میں کیوں نہیں لوٹا سکا؟
?️ 31 جولائی 2022سچ خبریں: جبکہ یوکرین کی جنگ کو پانچ ماہ سے زیادہ
جولائی
میں امریکی عوام کے اتحاد سے ٹرمپ کو شکست دوں گی: ہیرس
?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: آئندہ صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے کے بعد، امریکی صدر
جولائی
وزیر اعظم کے بیان نے امریکا میں تہلکا مچا دیا
?️ 29 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو نے امریکی سفارتی
جولائی
افغانستان کی بدلتی صورتحال کے بعد یورپی ممالک نے ملک سے بھاگنا شروع کردیا
?️ 17 اگست 2021لندن (سچ خبریں) افغانستان کی بدلتی صورتحال اور طالبان کے مکمل قبضے
اگست
یمنی عوام کے حقوق کا احترام کیے بغیر امن و سلامتی کی بات کرنا بے سود:یمنی عہدیدار
?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے اس ملک کے
ستمبر
پی ٹی آئی میں ڈسپلن کا فقدان، بانی کی رہائی جماعت میں ڈسپلن سے مشروط ہے۔ اچکزئی
?️ 9 جنوری 2026لاہور (سچ خبریں) سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے
جنوری
لاپیڈ اور بائیڈن کا بیان علاقائی جنگیں شروع کرنا ہے: فلسطینی تحریک
?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں: مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی
جولائی
زلنسکی سے وائٹ ہاؤس کیوں ناراض ہوا؟
?️ 15 جولائی 2023سچ خبریں:یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے حال ہی میں لیتھوانیا کے
جولائی