چین کا امریکی ٹیرف جنگ کے حوالے سے انتباہ

چین

?️

سچ خبریںگذشتہ ہفتے، چپس اور سیمی کنڈکٹر بنانے والوں پر چین کو برآمدات پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے امریکی اقدام کے جواب میں، بیجنگ نے پہلی کارروائی کرتے ہوئے ان نایاب زمینی عناصر کی برآمدات پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں جو چپس کی سپلائی چین کے لیے اہم ہیں۔
یجنگ کے اس اقدام کے محض دو دن بعد، ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات درآمد کرنے پر 130 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کی۔
امکی حکام کی جانب سے چینی مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے اور تمام اہم سافٹ ویئرز پر برآمد کنٹرول نافذ کرنے کے فیصلے کے جواب میں چین کی وزارت تجارت نے اتوار کے روز کہا کہ نایاب زمینی عناصر جیسی اشیاء پر چین کی برآمد کنٹرول سے متعلق کارروائیاں ملکی ضوابط کے تحت عام اور قانونی اقدامات ہیں جن کا مقصد ملک کے برآمد کنٹرول کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فریق کے بیانات دوہرے معیار کی واضح مثال ہیں۔
چینی عہدے دار کے مطابق، چین کا برآمد کنٹرول کا مطلب برآمدات کو روکنا نہیں ہے، اور جو درخواستیں قانونی ضوابط پر پوری اتریں گی انہیں اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نفاذ سے پہلے، چین نے برآمد کنٹرول کے دوطرفہ مکالمے کے میکانزم کے ذریعے متعلقہ ممالک کو مطلع کر دیا تھا۔
نایاب زمینی عناصر کے برآمد کنٹرول کے نفاذ کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے ترجمان نے وضاحت کی کہ چین نے ممکنہ اثرات کا پیداواری اور سپلائی چین پر جامع انداز میں جائزہ لیا ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس کا اثر بہت محدود ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کا برآمد کنٹرول کا مطلب برآمدات پر پابندی نہیں ہے۔ برآمدات کی کوئی بھی درخواست جو غیر فوجی استعمال کے لیے ہو اور قوانین کے دائرہ کار کے اندر ہو، اسے منظور کر لیا جائے گا اور متعلقہ کمپنیوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکی عہدے داروں کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ امریکہ قومی سلامتی کے تصور کو غیر معقول حد تک پھیلا کر اور برآمد کنٹرول کا غلط استعمال کرتے ہوئے طویل عرصے سے چین کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق، امریکہ یکطرفہ extraterritorial قوانین نافذ کرکے سیمی کنڈکٹر آلات، چپس اور بہت سی دیگر مصنوعات کی برآمدات کو محدود کر رہا ہے۔ امریکہ کی
برآمد کنٹرول کی فہرست میں 3000 سے زیادہ اشیاء ہیں، جبکہ چین کی فہرست میں صرف تقریباً 900 اشیاء شامل ہیں۔
امریکہ برسوں سے ‘برآمد کنٹرول کی کم از کم اشیاء کے حوالے سے قانون’ استعمال کر رہا ہے جو کہ بعض حالات میں صفر فیصد تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ یہ اقدامات کمپنیوں کے جائز حقوق کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، بین الاقوامی تجارتی نظم و ضبط کو درہم برہم کرتے ہیں، اور عالمی پیداواری اور سپلائی چینز کی حفاظت اور استحکام کو کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ چین کی تشویش اور نیک نیتی کو نظر انداز کرتے ہوئے، چین کی سمندری، لاجسٹکس اور شپ بلڈنگ انڈسٹریز کے خلاف سیکشن 301 کے اقدامات نافذ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔ ان رویوں نے چین کے مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات کے ماحول کو تباہ کر دیا ہے۔ چین ان اقدامات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھاری ٹیرف کی دھمکیاں دینا چین کے ساتھ تعامل کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ ٹیرف جنگ کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے: ہم تصادم نہیں چاہتے، لیکن ہم اس سے خوفزدہ بھی نہیں ہیں۔
انہوں نے اختتام پر خبردار کیا کہ اگر امریکہ اپنے راستے پر اصرار کرتا ہے، تو چین اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری جوابی اقدامات اٹھانے میں بھی کوئی دریغ نہیں کرے گا۔
امریکی جہازوں پر بھاری بندرگاہی فیسوں کے حوالے سے چین کی ابتدائی کارروائی
چین نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ 14 اکتوبر سے امریکی اداروں یا افراد کے زیر انتظام، امریکہ میں تعمیر شدہ، یا امریکی پرچم کے تحت چلنے والے جہازوں پر خصوصی بندرگاہی فیس عائد کرے گا۔
یہ اقدام گزشتہ اپریل میں واشنگٹن کے چین سے منسلک جہازوں پر فیسوں کے اعلان کے جواب میں ہے۔ چین کی وزارت نقل و حمل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیسں چینی بندرگاہوں پر بتدریج وصول کی جائیں گی۔
تازہ ترین ردعمل میں، چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اتوار کے روز واضح کیا کہ چینی جہازوں سے فیس وصول کرنے کا امریکی اقدام یکطرفہ پن کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے امریکہ کے ساتھ بات چیت اور مشاورت میں مصروف رہا ہے، لیکن امریکی فریق نے ایک منفی اور سخت گیر رویہ اپناتے ہوئے اس اقدام کو نافذ کرنے پر اصرار کیا ہے۔ چین کا جوابی اقدام ایک ضروری اور دفاعی نوعیت کا پاسیو ایکشن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 17 اپریل کو، یونائیٹڈ اسٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو کے دفتر نے چین کی شپنگ، لاجسٹکس اور شپ بلڈنگ کے شعبوں میں سیکشن 301 کی تحقیقات کے حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ جاری کیا اور کہا کہ 14 اکتوبر سے متعلقہ چینی جہازوں سے بندرگاہی فیس لی جائے گی۔
بیجنگ کے مطابق، امریکہ کا یہ اقدام عالمی تجارتی ادارے (ڈبلیو ٹی او) کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے اور "چین-امریکہ شپنگ معاہدے” میں مساوات اور باہمی عمل کے اصولوں کے متضاد ہے، اور چین نے اس پر اپنی شدید ناراضی اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان نے اختتام پر زور دے کر کہا کہ چین کا جوابی اقدام ایک ضروری اور دفاعی نوعیت کا پاسیو ایکشن ہے، جس کا مقصد چینی صنعتوں اور کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا اور عالمی شپنگ اور شپ بلڈنگ مارکیٹ میں منصفانہ مقابلے کا ماحول برقرار رنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ امریکہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے گا، بات چیت اور مشاورت کے راستے پر واپس آئے گا، اور چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

مشہور خبریں۔

غزہ کے بارے میں امریکہ اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات

?️ 19 اگست 2024سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے، جو اب مقبوضہ علاقوں

لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج کا 5 روزہ فوجی مشق

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے آج سہ پہر لبنان کے ساتھ سرحد

فٹبال میں ٹڑمپ کی مداخلت، کن ممالک کے شائقین ورلڈ کپ کے لیے امریکہ جانے سے محروم ہو گئے؟

?️ 18 دسمبر 2025 فٹبال میں ٹڑمپ کی مداخلت، کن ممالک کے شائقین ورلڈ کپ کے

نیتن یاہو معاملات پر اپنا کنٹرول کھو چکے ہیں: اسرائیلی تجزیہ نگار

?️ 16 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکمت عملی ساز اور دبئی گروپ کمپنی کے بانی اور

ایک سروے کے نتائج: "اسرائیل” میں معاشی صورتحال ابتر ہو گئی ہے

?️ 9 ستمبر 2023سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے ایک سروے کے نتائج سے

بھارتی امداد واہگہ سرحد سے طورخم پہنچائی جائی گی: عاصم افتخار

?️ 4 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)پاکستان نے بھارتی انسانی امداد کو افغانستان پہنچانے کے لیے

ٹرمپ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل چھپا رہے ہیں: امریکی رکن کانگریس

?️ 24 مئی 2026سچ خبریں:امریکی کانگریس کی رکن میلانیا سٹینزبری نے ٹرمپ پر سنگین الزام

شامی عوام نے دہشت گردوں اور ملک کے دشمنوں کے خلاف ایک انقلاب برپا کردیا، بشار اسد کا عوام کے نام اہم پیغام

?️ 29 مئی 2021دمشق (سچ خبریں) امریکا سمیت متعدد مغربی ممالک کی تمام سازشوں کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے