?️
غزہ میں باغی مسلح گروہوں کو اسرائیلی فوج کی عسکری مدد حاصل
صہیونی اخبار معاریو نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نوارِ غزہ میں موجود مسلح باغی گروہوں کو عسکری اور حفاظتی تعاون فراہم کر رہی ہے۔
روسیا الیوم کے مطابق، معاریو نے بدھ کی شب اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسرائیلی فوج اور خفیہ ادارے ان گروہوں کی مختلف انداز میں حمایت کر رہے ہیں جو غزہ میں حماس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اخبار نے بتایا کہ یہ باغی گروہ خطِ زرد کے قریب، یعنی اسرائیل اور غزہ کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں سرگرم ہیں۔ ان میں سے بعض مشرقی حصے میں جبکہ کچھ مغربی جانب تعینات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے مقامی شہریوں کو ان مقامات کے قریب جانے سے روک دیا ہے، حتیٰ کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، فوج نے دوسری بار ان افراد پر فائرنگ کی جو اس علاقے کے قریب پہنچے تھے۔
ایک سینئر اسرائیلی عسکری اہلکار نے معاریو سے گفتگو میں کہا:”ہم ان گروہوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مختلف طریقوں سے ان کی مدد کر رہے ہیں۔
معاریو کے مطابق، اسرائیلی حکومت ان باغی گروہوں کو غزہ میں حماس کی متبادل قوت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اور ان کی پشت پناہی کے ذریعے حماس کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب، غزہ کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے بتایا ہے کہ حماس کے سیکیورٹی ونگ رادع نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے شبہے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے وسیع آپریشن شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ روز مشرقی غزہ میں حماس کے دستوں اور اسرائیلی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں ان گروہوں کے کئی افراد ہلاک اور حماس کے کچھ مجاہد شہید ہوئے۔
رپورٹوں کے مطابق، انہی باغی گروہوں نے حالیہ دنوں میں فلسطینی پناہ گزینوں پر بھی حملہ کیا، جو جنوبی غزہ سے اپنے گھروں کی طرف واپس جا رہے تھے، جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہوئے۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے اور تمام ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو عوامی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ جھڑپیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، اور ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنے شہروں کو لوٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم، اسرائیلی حکومت باغی گروہوں کی حمایت کے ذریعے ان علاقوں کو دوبارہ غیر محفوظ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ حماس نے ۱۷ اکتوبر ۲۰۲۵ کو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا باضابطہ اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اگلے روز اس کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دستے مخصوص علاقوں میں موجود رہیں گے، اور جنوبی سے شمالی غزہ تک آمد و رفت شارع الرشید اور سڑک صلاح الدین کے ذریعے ممکن ہوگی۔الجزیرہ کے مطابق، شارع الرشید کو کھول دیا گیا ہے اور آوارہ فلسطینی اپنی بستیوں کی جانب واپسی شروع کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ کو حماس کو ختم کرنے اور قیدیوں کی بازیابی کے نام پر غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کی تھی، مگر دو سال بعد بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا اور آخرکار اسے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مجبور ہونا پڑا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
الجولانی کی فلسطینی گروپوں کو شام سے نکالنے کی کوشش
?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشعراء الجولانی کی
مئی
سندھ ہائی کورٹ کا کے ڈی اے کو مجاہد کالونی میں غیرقانونی تعمیرات گرانے کا حکم
?️ 4 جنوری 2025 کراچی: (سچ خبریں) عدالت عالیہ سندھ نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے
جنوری
وزیر اعظم کا عمران خان کے بیان پر رد عمل
?️ 2 جون 2022(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی
جون
واٹس ایپ میں وائس میل جیسے مسڈ کالز میسجز سمیت متعدد نئے فیچرز متعارف
?️ 14 دسمبر 2025نیویارک:(سچ خبریں) واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کے لیے متعدد نئے
دسمبر
ٹرمپ محاصرے کے ذریعے مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنا چاہتا ہے: قالیباف
?️ 21 اپریل 2026 سچ خبریں:ٹرمپ محاصرے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے
اپریل
برطانیہ کا ایران کے خلاف بے بنیاد الزام
?️ 6 ستمبر 2021سچ خبریں:برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بغیر کوئی ثبوت پیش کرتے ہوئے
ستمبر
خیبرپختونخوا کی 7ویں این ایف سی ایوارڈ میں توسیع کی مخالفت
?️ 9 نومبر 2024پشاور: (سچ خبریں) کے پی کے حکومت نے خبردار کیا ہے کہ
نومبر
لاہور ہائی کورٹ نے ریور راوی منصوبے کے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا
?️ 25 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے ریور راوی منصوبے کو غیر
جنوری