?️
سچ خبریں:برطانوی اخبار گارجین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ نے امریکی بحریہ کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جنگی اخراجات کے باعث تنخواہوں اور معمول کی مرمت کے لیے بھی وسائل کم پڑنے لگے ہیں،جنگ نے امریکی بحریہ کے مالی وسائل ختم کر دیے؛ فوجی صلاحیت اور ٹرمپ حکومت کے مستقبل کے منصوبے دباؤ میں
روزنامہ گارجین نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس کی جانب سے دیکھے گئے دستاویزات اور متعدد باخبر حکام سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے امریکی فوج کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ امریکی بحریہ کو جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر مالی وسائل سے رقم منتقل کرنا پڑ رہی ہے۔
گارجین کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے امریکی بحریہ کے بجٹ سے متعلق ایک یادداشت میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق اکاؤنٹس کو بجٹ خسارے کا سامنا ہے، کیونکہ محکمہ دفاع نے جنگی کارروائیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان وسائل سے بھی رقم نکالی ہے۔
امریکی ماہرین اور سابق حکام کا کہنا ہے کہ مالی وسائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر ہارلان اولمن نے صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا: پیسے کا بحران آچکا ہے۔
اسی دوران امریکی بحریہ کے ایک اہلکار اور اس ادارے کے ایک کنٹریکٹر نے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث ساحلی علاقوں میں قائم تنصیبات کی بعض غیر ہنگامی مرمتیں بھی مؤخر کر دی گئی ہیں۔
ایران کی جنگ نے امریکی بحریہ کے بجٹ پر دباؤ کیسے ڈالا؟
جب ٹرمپ نے فروری کے اوائل میں جنگ شروع کی تو امریکی فوج، بالخصوص بحریہ کا بجٹ تیزی سے دباؤ میں آ گیا۔ امریکی بحریہ نے نہ صرف جنگ کے پہلے مرحلے کے حملوں میں کردار ادا کیا بلکہ بعد میں ایک وسیع بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔
وائٹ ہاؤس نے بالآخر جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کانگریس سے ہنگامی بجٹ طلب کیا، تاہم اس جنگ کی کم ہوتی عوامی مقبولیت کے پیش نظر اس درخواست کی منظوری کے امکانات زیادہ نہیں ہیں۔
اس حوالے سے امریکی بحریہ کے ایک اہلکار، جو اس ادارے کو درپیش مالی مشکلات سے آگاہ ہے، نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے درمیان مالی وسائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔
اس کے مطابق، تنخواہوں کے لیے مختص رقم نکال کر بیرون ملک ہنگامی فوجی کارروائیوں کے اخراجات پورے کیے گئے، پھر وہ رقم جو ابھی خرچ نہیں ہوئی تھی، واپس تنخواہوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی تاکہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔
یہ مسئلہ کانگریس کے اجلاسوں میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے حال ہی میں سینیٹ کی تخصیصی بجٹ کمیٹی میں کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ بعض فوجی یونٹس کو قلیل مدت میں مالی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
امریکی فوجی حکام کی مالی بحران میں مزید شدت کی وارننگ
امریکی بحریہ کے چیف آف نیول آپریشنز ڈیرل کیڈل نے مئی کے وسط میں کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ مالی دباؤ موسم گرما کے آغاز سے نمایاں ہونا شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ مالی سال 2026 کے بجٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے تھے اور انہیں خدشہ ہے کہ جولائی سے انہیں معمول کی فوجی مشقوں اور دیگر کارروائیوں میں کمی یا تبدیلی کے بارے میں فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں تاکہ جنگ جاری رکھنے کے لیے ضروری مالی وسائل محفوظ رکھے جا سکیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ نے بھی کانگریس سے ہنگامی بجٹ حاصل کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اضافی وسائل کے بغیر امریکی فوج کو اہم کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہیگست نے ایران کے ساتھ جنگ کی لاگت 35.7 ارب ڈالر بتائی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا اس رقم میں جنگ کے تمام اخراجات شامل ہیں یا نہیں۔
امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہارلان اولمن نے نشاندہی کی کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران کانگریس جنگی اخراجات کی فراہمی کے لیے زیادہ آمادہ تھی، کیونکہ ان جنگوں کی باضابطہ طور پر منظوری دی گئی تھی۔ تاہم موجودہ ایران جنگ کے لیے کانگریس کی ایسی کوئی منظوری موجود نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا: کیا کانگریس ایسی جنگ کے اخراجات ادا کرنے کی پابند ہے جس کی اس نے اجازت ہی نہیں دی؟
ٹرمپ کے عزائم اور جنگ کی حقیقت میں بڑھتا ہوا فاصلہ
امریکی بحریہ کو درپیش مالی بحران ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کئی مرتبہ امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ، جو 1901 سے 1909 تک صدر رہے، سے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ روزویلٹ کے دور میں امریکی بحریہ کی توسیع ہوئی اور نام نہاد گریٹ وائٹ فلیٹ کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تھا۔
ٹرمپ حکومت کئی مرتبہ امریکی بحریہ کو وسعت دینے کے لیے ایک بلند حوصلہ منصوبے کا اعلان کر چکی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں ایسی جنگ کے اخراجات پورے کرنا، جس کے اختتام کی کوئی واضح مدت نظر نہیں آ رہی، ٹرمپ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
امریکی بحریہ کے ایک سابق فوجی اہلکار، جو اب بحریہ کے ایک کنٹریکٹر ادارے میں کام کرتے ہیں اور مالی مشکلات سے واقف ہیں، نے موجودہ صورتحال کو ان الفاظ میں بیان کیا:
ان کا کام تمام ہو چکا ہے؛ انہوں نے اپنے تمام ہتھیار چلا دیے، ان کے جہاز تھک کر خستہ اور نقصان زدہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس پیسہ بھی ختم ہو چکا ہے۔


مشہور خبریں۔
ایرانی حملے نے صیہونیوں کو کتنا نقصان پہنچایا؟
?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: ایک عراقی شخصیت نے کہا کہ صرف ہوائی سفر کے
اپریل
اسرائیل خطے کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے
?️ 21 جون 2025سچ خبریں: ترکی کے ایک ممتاز سیاسی تجزیہ کار اور محقق فراس اوغلو
جون
اردن میں اخوان المسلمین پر پابندی کے اسباب
?️ 25 اپریل 2025سچ خبریں: اردن کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اخوان
اپریل
سویلین کو کبھی بھی فوجی عدالتوں میں پیش نہیں کیا جانا چاہیے، سلمان اکرم راجا
?️ 22 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم
دسمبر
مقدمات کی تفصیلات فراہمی کیس: شبلی فراز کی درخواست پر نیب، حکومت، اینٹی کرپشن سے جواب طلب
?️ 26 فروری 2024پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کی
فروری
روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے: اقوام متحدہ
?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور نے خبردار
جولائی
واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی
?️ 12 اکتوبر 2025واشنگٹن اور پکن کے درمیان اقتصادی رقابت نئی سطح پر پہنچ گئی
اکتوبر
نام نہاد ’بند لفافہ‘ کھولیں کہ کیا لکھا ہے، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے، عمران خان
?️ 19 جنوری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اور
جنوری