صیہونیوں کا ایرانی سائبر حملوں میں اپنی ناکامی کا اعتراف

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی حکام نے سرکاری طور پر ایک بیان میں ایران سے وابستہ ہیکرز کو تل ابیب کے ایک مشہور تعلیمی ادارے پر سائبر حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کی نیشنل سائبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ٹیکنین ریسرچ اینڈ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ پر سائبر حملے کے پیچھے ایران سے وابستہ ایک گروپ کا ہاتھ تھا۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ ٹیکنین کمپنی صیہونی حکومت کا ایک اعلیٰ تحقیقی اور تعلیمی ادارہ ہے جس کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر یہ حملہ مادی واٹر نامی گروپ نے کیا ہے جس کا تعلق ایران سے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران سے منسوب یہ گروپ دنیا بھر میں کئی دوسرے سائبر حملوں کا ذمہ دار ہے نیز گزشتہ سال امریکہ اور برطانیہ نے بھی کہا تھا کہ ایشیا، افریقہ اور شمالی امریکہ میں سائبر حملوں کے سلسلہ میں اس گروپ کا ہاتھ تھا۔

صیہونیوں کے مطابق ایران سے وابستہ ہیکنگ گروپ تل ابیب میں اداروں اور تنظیموں پر اپنے حملوں میں آپریٹنگ سسٹم کو خفیہ کرنے کے لیے بنائے گئے مالویئر کا استعمال کرتے ہیں،صیہونی تنظیموں نے یہ بھی کہا کہ رمضان کے مہینے کے دوران تجارتی سرگرمیوں میں خلل ڈالنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے مقصد سے تل ابیب کے مختلف اہداف کے خلاف سائبر حملے کیے جائیں گے۔

بیان میں تل ابیب اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں سرگرم تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں اپنے تحفظ کی سطح میں اضافہ کریں جبکہ برسوں سے صیہونی حکومت زیادہ تر خفیہ سائبر جنگ میں مصروف ہے جو کبھی کبھار منظر عام پر آتی ہے۔

قابل ذکر ہے صہیونی حکام مسلسل الزام لگاتے رہے ہیں کہ ایران سے وابستہ ہیکرز نے 2020 میں تل ابیب کے پانی کی تقسیم کے نظام کو ہیک کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ کئی دوسرے کامیاب سائبر حملے کیے جب کہ ان کے پاس ان حملوں کو ایران سے منسوب کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پانی کے نظام پر حملے کے علاوہ، پچھلے سال ایک سائبر حملہ جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ایک ایرانی گروپ نے مقبوضہ بیت المقدس اور ایلات میں میزائل کے الارم کو متحرک کیا جس سے بہت سے صیہونیوں کو بغیر کسی وجہ کے پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔

یاد رہے کہ2021 میں بھی تل ابیب کے ایک اسپتال کو ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں اس کا نظام کئی دنوں تک بند رہا یہاں تک کہ فوجی حکام اور صیہونی حکومت کے دیگر ماہرین نے چند دنوں بعد اس کی معلومات کا کچھ حصہ برآمد کیا۔

مشہور خبریں۔

متنازع ٹوئٹس کیس میں گرفتار اعظم سواتی سندھ سے اسلام آباد منتقل

?️ 15 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل فیض ایچ شاہ نے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس اور ججز کے درمیان اختیارات کی لڑائی شدید ہوگئی

?️ 29 مارچ 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف

مقبوضہ کشمیر کے متعدد علاقوں میں یوم پاکستان مبارک باد کے پوسٹر لگا دیئے گئے

?️ 22 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر کے متعدد علاقوں میں یوم پاکستان مبارک

’2 دہائی کے دوران 3 ارب صارفین‘، فیس بک کو 20 سال مکمل ہوگئے

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں: فیس بُک کے قیام کو 20 سال مکمل ہوگئے ہیں،

حج 2024 کیلئے درخواستوں کی وصولی شروع

?️ 27 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے سرکاری سکیم کے تحت حج 2024ء کے لیے

یمن کے صوبہ شبوا میں متحدہ عرب امارات کو بھاری نقصان

?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:  شبوا میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے

نیتن یاہو کا انجام؛ خود ان کی زبانی

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی وزیر اعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب

ٹرمپ ہر جگہ بحران کیوں ایجاد کر رہے ہیں؟صیہونی ماہر کی زبانی

?️ 9 فروری 2026سچ خبریں:ایک صیہونی  ماہر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی ایران کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے