سعوی عرب اور ترکی میں بڑھتی کشیدگی

سعوی عرب

?️

سچ خبریں:ترک حکام نے سیاسی وجوہات کی بنا پر سعودی عرب میں اپنے اسکولوں کو بند کیے جانے پر تنقید کی ہے۔

عربی 21 نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ترک حکام کا کہنا ہے کہ سعودیوں نے گذشتہ سال کے آخر میں سیاسی وجوہات کی بنا پر متعدد سعودی شہروں میں ترک اسکول بند کردیئے تھے،رپورٹ کے مطابق ترکی کی وزارت تعلیم کے ایک عہدیدار احمد إمره بیلجلی نے ترک اسکولوں کے بے شمار مسائل اور سعودی عرب میں ان اسکولوں کے خلاف سختی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود سعودی حکام مکہ اور مدینہ میں ترک اسکول بند کر دیے۔

ترک حزب اختلاف ریپبلکن پیپلز پارٹی کے رکن اوتکو شاکر اوزر نے کہا کہ سعودیوں کا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اور دونوں ممالک کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کی بنا پر سعودی عرب میں ترک شہریوں کو متاثر اور ہراساں نہیں کرنا چاہئے،یہ ایک انتہائی افسوسناک فیصلہ ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب میں مقیم ترک شہریوں کی ترکی کے اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں درپیش مشکلات کی وجہ سے شکایات موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ ترک نمائندے نے سعودی عرب میں ترکی کی مصنوعات پر پابندی عائد کیے جانے اور اس ملک میں ترک شہریوں کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ یہ قابل قبول نہیں ہے، دونوں ملکوں کے مابین پریشانی ہوسکتی ہے لیکن اس کا شکار سعودی عرب میں رہ رہے ترک شہریوں کو نہیں بنانا چاہئے،انہوں نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد سے جلد ترک اسکولوں کو بند کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، ترک وزارت تعلیم کے ایک عہدیدار لطیف سیلفی نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ سعودی فیصلہ محض ایک سیاسی تھا ، کہا کہ اتنی بڑی بھی کوئی مشکل نہیں تھی کہ ترک اسکولوں کو بند کر دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سعودی عرب نے ترکی کی تعلیمی سرگرمیوں کو ایسے طریقے سے ختم کیا ہے جو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق نہیں ہے اور ایک من مانا اور مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہے،سیلفی نے سعودی عرب میں ترک بچوں کی مشکلات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ممالک کے شہریوں کو ان کی زبان میں اسکولوں میں پڑھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے،اب اسکولوں میں اپنی زبان میں تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہے۔

 

مشہور خبریں۔

فرانس کی گرتی ہوئی عالمی ساکھ ؛میکرون نے عوام کو کیوں مایوس کیا؟

?️ 11 جنوری 2025سچ خبریں:مغربی تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ فرانس، جو کبھی عالمی

معیشت درست سمت میں ہے، قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک

?️ 24 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے

ویانا مذاکرات پر ٹرمپ کی میراث کا وزن

?️ 18 جون 2022سچ خبریں:   نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اقوام متحدہ کو جرمنی میں اظہار رائے کی آزادی پر تشویش 

?️ 7 فروری 2026 سچ خبریں:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی

سوئس مذاکرات کے معاہدوں پر پاکستان اور قطر کا مشترکہ بیان

?️ 22 جون 2026سچ خبریں:  دوستانہ ممالک قطر و پاکستان نے سوئس میں ایران اور

نفتالی اور بن زائد ایک ہی وقت میں مصر میں

?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں:مصر میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی موجودگی

بوگوٹا میں تاریخی فیصلہ؛ 11 ممالک نے صیہونی حکومت کے ساتھ ہتھیاروں کے سودوں پر پابندی عائد کر دی

?️ 17 جولائی 2025سچ خبریں: بگوٹا اجلاس میں شریک عالمی جنوب سے تعلق رکھنے والے

امریکہ نے سعودی عرب کو 2.8 بلین ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی

?️ 25 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 2.8 بلین ڈالر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے