?️
سچ خبریں:یمن کے ایک قلم کار اور صحافی علی الدروانی نے کہا کہ ریاض پہلے سے کہیں زیادہ جانتا ہے کہ جب تک جارحیت کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے جائیں مذاکرات کے ماحول کو مثبت بنانا کافی نہیں ہے۔
سعودی وفد کے یمن دورے کے سلسلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے یمنی قلم کار اور صحافی علی الدروانی نے کہا کہ عمانی ثالث کے ساتھ سعودی وفد کا دورہ کسی حد تک مثبت رہا، یہ درست ہے کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا تاہم یہ بھی نہیں کہا جا ستکا ہے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور اسے یمن میں سعودی مطالبے کی حد کو کم کرنے کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ ریاض ماضی میں اپنی مانگ کی سطح کو بڑھا چکا تھا اور صنعا کے سینئر رہنماؤں کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لہٰذا سعودی عرب کی پڑوسی ممالک سے قربت کی پالیسی خطے سے امریکہ کے انخلاء کا باعث بن سکتی ہے جس کی طرف واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے بھی اشارہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا ثالثی اور جنگ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اصرار جارحیت کی قیادت کرنے اور ناکہ بندی مسلط کرنے نیز کرائے کے فوجیوں کی رہنمائی اور یمن کے زیر قبضہ علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ان کی مدد کرنے کے موجودہ کردار سے متصادم ہے۔ ایک طرف ریاض یمن کے سامنے شکست نہیں چاہتا تو دوسری طرف اس کے نتائج بھگتنے سے خوفزدہ ہے۔
الدروانی نے کہا کہ یمن پر جارحیت، قتل و غارت اور محاصرے جیسے جرائم امریکہ کی واضح مدد سے ہوئے اور سعودی عرب نے یمنی عوام کو اپنی حکمرانی یا اس کے غاصبوں کے تابع کرنے کی کوشش کی، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی طرفیمن میں جنگ کی آٹھویں برسی کے موقع پراپنے خطاب میںعبدالملک الحوثی نے اشارہ کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام کی لگن اور استقامت کا نتیجہ ہے کہ اس ملک کو سعودی قبضے سے رہائی ملی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور مغربی میڈیا سعودی عرب کو مشتعل کرنے اور اس کی ناکامی کا مذاق اڑا رہے ہیں جس میں خود مغرب بھی شریک ہے جبکہ واشنگٹن دنیا میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیےچاہتا ہے کہ سعودی عرب اس جنگ میں الجھا رہے جبکہ سعودی عرب نے جنگ چھوڑنے کی اپنی سنجیدہ خواہش ظاہر کی ہے تاکہ غیر تیل کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے محمد بن سلمان کے بڑے اقتصادی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے،جن منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے امن اور استحکام کی ضرورت ہے اور یمن کے خلاف جارحیت کی جنگ ان تمام منصوبوں کوے لیے خطرہ ہے۔


مشہور خبریں۔
کیا اب بھی ترکی اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا؟
?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں:کویت میں اپنی پریس کانفرنس میں ترکی کے وزیر تجارت عمر
نومبر
کورونا وائرس کے بعد بچے اب خسرہ میں بھی مبتلا ہونے لگے
?️ 1 اپریل 2021کراچی(سچ خبریں) پاکستان میں بہت سے بچے کورونا وائرس کا شکار ہو
اپریل
شیڈو وار؛ ایران اسرائیل میں جاسوسی کے حلقوں کو کیسے پھیلاتا ہے؟
?️ 28 نومبر 2025سچ خبریں: آن لائن نیٹ ورکس کا استعمال، مالی مراعات، اور سماجی
نومبر
ترکی کے فوجی دستے اور دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات
?️ 7 اکتوبر 2026سچ خبریں: ترکی کے دفاعی صنعت کے ویب سائٹ کی رپورٹ کے
اکتوبر
غزہ میں قحط اور بھوک کی وجہ سے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی موت
?️ 25 فروری 2024سچ خبریں:فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں غزہ کی پٹی میں
فروری
ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحریہ کے سربراہ کا منصب سنبھال لیا
?️ 7 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل امجد خان
اکتوبر
OPCW نے 2017 میں روس کے ذخائر کو تباہ کرنے کی منظوری دی تھی
?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں: امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے یوکرین میں
مارچ
گوگل کروم کے لیے خطرہ، اوپن اے آئی نے جدید اے آئی ویب براؤزر متعارف کرادیا
?️ 23 اکتوبر 2025سچ خبریں: معروف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے مشہور
اکتوبر