حماس کے مجاہدین کا رویہ انسانیت پر مبنی تھا:اسرائیلی قیدی کا اعتراف

اسرائیل

?️

 حماس کے مجاہدین کا رویہ انسانیت پر مبنی تھا:اسرائیلی قیدی کا اعتراف
ایسے وقت میں جب فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کی گواہیوں نے دونوں فریقوں کے رویے میں نمایاں اخلاقی فرق کو آشکار کیا ہے، ایک اسرائیلی اسیر کی تازہ بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ اس اسیر نے اپنی رہائی کے بعد اعتراف کیا کہ حماس کے مجاہدین نے اس کے ساتھ نہایت انسانی سلوک کیا اور تمام بنیادی سہولتیں فراہم کیں۔
رپورٹ کے مطابق، ماتان انگرست نامی اسرائیلی فوجی، جو حال ہی میں قیدیوں کے تبادلے کے دوران غزہ سے رہا ہوا، نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں کہا مجاہدین حماس میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ مجھے عبادت کی مکمل آزادی حاصل تھی۔ جو بھی چیز مانگتا، وہ مجھے مہیا کر دیتے تھے، حتیٰ کہ عبادت کے آلات اور تورات تک فراہم کی۔
اس کے والد نے بھی رہائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا میرا بیٹا روزانہ تین بار عبادت کرتا تھا اور اسے حماس کے ایک رکن نے دعا کی کتاب دی تھی۔ اب جب وہ آزاد ہے، اسے یقین نہیں آ رہا کہ وہ اپنی مرضی سے کھانا کھا سکتا ہے اور پانی پی سکتا ہے۔ کہتا ہے غزہ میں کچھ نہیں تھا، مگر وہ زندہ سلامت واپس آ گیا ہے۔
یہ بیان ان متعدد گواہیوں میں سے ایک ہے جو حالیہ ہفتوں میں سامنے آئی ہیں، جن میں فلسطینی قیدیوں نے اسرائیلی جیلوں میں ہونے والے غیر انسانی مظالم کا انکشاف کیا ہے۔
عماد الإفرنجی، ایک فلسطینی صحافی جو کئی سال قید رہنے کے بعد آزاد ہوا، نے کہا:اسرائیلی جیلوں میں جو کچھ ہم نے دیکھا، وہ ناقابلِ تصور تھا۔ ہمیں برہنہ کیا جاتا، کتوں کو چھوڑا جاتا، آواز اور آنسو گیس کے بم پھینکے جاتے اور تشدد روزمرہ کا معمول تھا۔
ایک اور اسیر ابراہیم تمراز نے رہائی کے بعد بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ساتھ آخری لمحے تک ظلم جاری رکھا ہمیں ہاتھکڑیوں میں رکھا جاتا، کھانے کے لیے صرف چند ٹکڑے نان دیے جاتے، اور دن رات اذیت دی جاتی۔ ہر رات چیخ و پکار اور حملے ہوتے۔
دوسرے فلسطینی قیدی بلال محمد نے جذباتی انداز میں کہا میں جیل سے نکلا تاکہ اپنے گھر والوں کو گلے لگاؤں، مگر صرف ملبہ پایا۔ وہ سب شہید ہو چکے تھے، مگر میرے دل میں زندہ ہیں یہ غزہ کی آزادی کی قیمت ہے۔
دوسری جانب، حماس نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کی جان و سلامت کی حفاظت کرتی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے ان قیدیوں کی جان خطرے میں ہے۔ یہ خطرہ اس وقت حقیقت بن گیا جب اسرائیلی قیدی "تامیر نمرودی” ایک فضائی حملے میں جاں بحق ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ جہاں فلسطینی مزاحمت دشمن کے اسیر کے ساتھ بھی انسانی سلوک کرتی ہے، وہیں اسرائیلی فوج اپنی جیلوں کو تشدد اور ذلت کے مراکز میں بدل چکی ہے۔
اسرائیل کی مسلسل ناکہ بندی نے غزہ کے 24 لاکھ سے زائد شہریوں کو خوراک، پانی اور ادویات سے محروم کر رکھا ہے، جس سے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ خود اسرائیلی قیدی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کی ایک بار پھر لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت

?️ 29 اکتوبر 2021سچ خبریں:لبنانی ذرائع ابلاغ نے اس ملک کے پارلیمانی انتخابی عمل میں

موڈرنا ویکسین کن لوگوں کو لگائی جائے گی

?️ 4 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا

وزیر اعظم نے آئی جی حیدرآباد کے خلاف ایکشن لینے کے احکامات جاری کر دئے

?️ 22 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ایڈیشنل آئی جی حیدرآباد

خیبرپختونخوا: بارشوں، لینڈسلائیڈنگ سے ہونے والے حادثات میں 27 افراد جاں بحق، 38 زخمی

?️ 3 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں جاری بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سے ہونے

یورپ میں غزہ کے حق میں مظاہرے جاری

?️ 8 جون 2025اس ہفتے بھی متعدد یورپی ممالک میں غزہ کے باشندوں کے حق

جنوبی لبنان میں مکانات نذرآتش؛نبطیہ اور التفاح علاقے پر اسرائیلی پروازیں

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی نقل و حرکت

بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

?️ 12 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں)بجلی کی قیمتوں میں ایک بار اضافہ کیا جا رہا

سعودی عرب منصورہادی کو یمن واپس نہیں جانے دے رہا؛ مستعفی یمنی حکومت کے عہدہ دار کا انکشاف

?️ 2 دسمبر 2021سچ خبریں:یمن کی جنگ میں سعودی اتحاد کی شکست کے بارے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے