امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی واشنگٹن کی نظریاتی سوچ کی سخت ترین عکاسی ہے

فرانس

?️

امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی واشنگٹن کی نظریاتی سوچ کی سخت ترین عکاسی ہے

فرانس کی ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کی نئی قومی سلامتی حکمتِ عملی دراصل واشنگٹن کے نظریاتی مؤقف کی انتہائی بےرحمانہ شفافیت ہے، اور یورپ کو اس کے جواب میں اپنی فوجی تیاریوں میں تیزی لانا ہوگی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، فرانس کی وزیر برائے مسلح افواج آلیس روفو نے فرانسیسی قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نئی حکمتِ عملی ’’نہایت سخت اور براہِ راست‘‘ طور پر اس کے نظریاتی رویّے کو بیان کرتی ہے۔

انہوں نے کہا ہم گوشت خوروں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ یورپ کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں، اور اسے تبھی عزت ملے گی جب وہ خود اپنی عزت کا طریقہ سیکھے۔"

روفو، جو حال ہی میں واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع اور قومی سلامتی کے حکام سے ملاقات کر کے واپس آئی ہیں، کا کہنا تھا کہ انہیں توقع تھی کہ یہ حکمتِ عملی خصوصاً روس کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندرونی مباحث کو ہوا دے گی۔

آلیس روفو اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون کی نائب قومی سلامتی مشیر رہ چکی ہیں اور ان کے یہ بیانات امریکہ کی نئی حکمتِ عملی پر کسی فرانسیسی عہدیدار کا سب سے سخت عوامی مؤقف سمجھے جا رہے ہیں۔

جمعہ کو جاری ہونے والی اس دستاویز میں یورپ پر شدید تنقید کی گئی ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ یہ براعظم تمدنی زوال کے خطرے سے دوچار ہے، جبکہ امریکہ کو یورپ میں ’’اندرونی مزاحمت‘‘ کی حمایت کرنی چاہیے۔

امریکی حکمتِ عملی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن یورپی یونین کی قیادت میں تشکیل پانے والی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے گروہوں، بشمول امیگریشن کے معاملات پر اختلاف رکھنے والوں، کی پشت پناہی کرے گا۔

دستاویز میں روس کو دشمن قرار نہیں دیا گیا، تاہم یوکرین میں جنگ کے ’’فوری خاتمے‘‘ کو امریکی مفاد قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد روس کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام کی بحالی اور یوکرین کی ریاستی بقا کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

مزید برآں، اس حکمتِ عملی میں یورپ کے روس کے بارے میں رویّے کو اسٹریٹجک اعتماد کی کمی قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس میں روس کی یوکرین میں فوجی مداخلت یا ماسکو کی پالیسیوں پر براہِ راست تنقید نہیں کی گئی، تاہم یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف امریکہ ہی یورپ اور روس کے درمیان توازن قائم کر سکتا ہے اور یوریشیا میں استحکام لا سکتا ہے۔

دستاویز کے مطابق، امریکہ اپنی عالمی فوجی موجودگی کو دوبارہ منظم کرے گا تاکہ مغربی نصف کرے میں فوری خطرات کا سامنا کیا جا سکے اور وہ خطے چھوڑے جا سکیں جن کی امریکی قومی سلامتی کے لیے اہمیت کم ہو چکی ہے۔

مشہور خبریں۔

ہم کسی بھی اسرائیلی تصادم کے لیے تیار ہیں؛ صمود کے بین الاقوامی بیڑے کے رکن

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کی غزہ کے عوام پر حملوں میں شدت

سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے 100 حفظ قرآن نشستوں کا انعقاد

?️ 3 جولائی 2022سچ خبریں:مسجد الحرام اور مسجد النبی کی انتظامیہ نے بیت اللہ الحرام

کیا پیوٹن ہوں گے ایک بار پھر روس کے صدر

?️ 18 مارچ 2024سچ خبریں: روسی فیڈریشن کے مرکزی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے

یوکرین مغربی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ بن چکا ہے: ماسکو

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:پابندیوں کی فہرست میں 36 برطانوی افراد کے نام شامل کرنے

اسرائیل بے بنیاد الزامات اور جھوٹے بہانوں پر غزہ پر حملے کر رہا ہے

?️ 1 فروری 2026اسرائیل بے بنیاد الزامات اور جھوٹے بہانوں پر غزہ پر حملے کر

منی لانڈرنگ کیس: سلیمان شہباز ایف آئی اے کے روبرو پیش

?️ 17 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز 16

حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہے، قانونی ماہرین

?️ 4 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے

عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے عوام آج باہر نکلیں، عمران خان

?️ 6 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری کشمکش کے پیش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے