?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نئی تاریخ کے حکم پر کہا ہے کہ حکومت اس پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے۔
نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے رہنما امجد شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات کے بارے میں سپریم کورٹ نے اس طرف گئی کہ ان کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے لیکن اس کی توسیع کا اختیار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ اتھارٹی جس کے پاس تاریخ دینے کارروائی کرنے کا اختیار ہے تو اس کے پاس توسیع کا اختیار بھی ہے جو اس کو جنرل کلاز دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا آج کا جو فیصلہ ہے جو سب پر لازم ہے لیکن افسوس اس بات پر کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا تو اتنا تنازع نہیں بنتا اور مجھے اس فیصلے پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بڑی ذمہ داری تھی وہ اپنے ادارے کو کسی تنازع میں نہیں ڈالتے اور پاکستان بار کونسل نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ فل کورٹ بنا دیں۔
سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے سمانیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین جہاں سپریم کورٹ کو اختیار دیتا ہے وہی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہے اور الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے، جس میں بغیر کسی دباؤ آزادانہ انتخابات کرانا ہے، اس دباؤ میں چاہے سپریم کورٹ کا ہو یا کسی فرد کا ہو لیکن الیکشن کمیشن پابند ہے کسی کا دباؤ قبول نہ کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ فخرالدین ابراہیم جی نےسپریم کورٹ سے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آپ کے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ادارہ ہے۔
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ فیصلہ آئینی ہے اور اس میں کوئی غیرآئینی بات نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ نے حکومت کا استدلال نہیں مانا کہ ایسے حالات ہوں تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 258 کے تحت الیکشن منصوبہ تبدیلی کے الیکشن کمیشن کے اختیار کو بھی تسلیم نہیں کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اس ایکٹ کے تحت انتخابات کی تاریخ تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کی نگران حکومت، مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے متعلق دیے گئے دلائل تسلیم نہیں کیے لیکن سپریم کورٹ اپنے اندر موجود مسائل ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھا رہی ہے۔
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کے فیصلے کے حوالے سے سب سے بڑا تنازع ہے کہ جو 4/3 کا تھا یا ¾ کا تھا لیکن سپریم کورٹ نے صرف اتنا کہا کہ وہ قابل عمل نہیں ہے اور قانون کے اندر اس کی اہمیت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے نہیں ہوتا کیونکہ جن جج صاحبان نے وہ فیصلہ دیا تھا وہ بھی کسی کالج کے قانون کے طالب علم نہیں بلکہ ان کی اپنی ایک حیثیت ہے، وہ ہائی کورٹ سے سفر طے کر سپریم کورٹ تک آئے، ان کی صلاحیت پر کوئی سوال نہیں ہے صرف سپریم کورٹ کے اندر جو اختلاف ہے اور چیف جسٹس کسی جج صاحب کو اپنے ساتھ بٹھانا پسند نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں اگر کوئی کہہ رہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب جسٹس کارنیلیئس کے رستے پر چل رہے ہیں تو مجھے وہ جسٹس سجاد علی شاہ کے رستے پر چلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
منیب فاروق نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت پر لاگو ہے اور اس پر عمل درآمد کی پابند ہے لیکن سوال یہ ہے کیا حکومت اس پر عمل درآمد کرے گی، کیا یہی ارادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو قانون منظور کیا ہے وہ ابھی تک مکمل قانون نہیں بنا ہے کیونکہ اس کو صدرمملکت کی توثیق نہیں ملی ہے، 20 دن کے بعد حکومت کے پاس 184 تھری کے تحت مقدمے پر اپیل کا اختیار آجائے گا۔
منیب فاروق نے کہا کہ اپیل کے اندر اگر 5 رکنی بینچ ہے یا 3رکنی بینچ ہوگا تو اپیل میں 5 رکنی بینچ ہوگا اور اس میں یہ 5 رکنی بینچ نہیں بیٹھا ہوگا جبکہ نظرثانی کا حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں یہی جج صاحبان سنیں گے جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہے تو لہٰذا حکومت کو مزید 20 دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔
وکیل عبدالمعیز جعفری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی بحران واپس، جہاں سے چلے تھے واپس وہاں آ گئے۔
سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے میاں داؤد نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت کو ہمیشہ ججوں نے نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا آئینی و قانونی حکم غیرقانونی قرار دے کر منسوخ کر دیا۔
وکیل محمد احمد پنسوتا نے کہا کہ فیصلہ قانونی طور پر درست ہے، ہم تقسیم کو نظر انداز کر سکتے ہیں، مجھے خوشی ہے کہ تمام 17 ججز مختلف سوچتے ہیں۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست پر الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات کا شیڈول بحال کرتے ہوئے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کی تاریح دے دی۔


مشہور خبریں۔
بلتستان: شاہراہِ قراقرم لینڈ سلائیڈنگ سے بند، سیکڑوں مسافر، سیاح پریشانی کا شکار
?️ 22 جولائی 2021بلتستان( سچ خبریں) گلگت بلتستان میں چار روز سے جاری شدید بارشوں
جولائی
130 بین الاقوامی تنظیموں نے صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کا مطالبہ کیا
?️ 6 جون 2025سچ خبریں: 130 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں نے غزہ کی پٹی
جون
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان زبانی جھگڑے کا ذمہ دار کون ہے؟
?️ 2 مارچ 2025سچ خبریں: انگلش تجزیہ کار الیگزینڈر مرکیورس کا خیال ہے کہ یوکرین کے
مارچ
ایران امریکہ کشیدگی کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں؛ صیہونی حکومت کا دعویٰ
?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران
جولائی
انڈونیشیایی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے
?️ 1 ستمبر 2025انڈونیشیایی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کر لیے انڈونیشیا میں ارکانِ
ستمبر
صیہونی آباد کار نیتن یاہو کے کس دعوے پر ہنستے ہیں؟
?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: سدیروت کی مقبوضہ بستی میں رہنے والے صہیونی آبادکاروں نے
اپریل
عالمی تیل منڈی پرسعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے اثرات
?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:بلومبرگ نیوز نے اطلاع دی ہے کہ یمنی فورسز کے سعودی
مارچ
مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر اسرائیلی پابندیاں پہلے سے زیادہ سخت
?️ 23 فروری 2026مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر اسرائیلی پابندیاں پہلے سے زیادہ سخت فلسطینی
فروری