اسرائیل حساس سکیورٹی موڑ پر، چھ محاذوں پر ممکنہ تصادم کا خدشہ

اسرائیلی فوج

?️

اسرائیل حساس سکیورٹی موڑ پر، چھ محاذوں پر ممکنہ تصادم کا خدشہ

اسرائیل کے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث اسرائیل اس وقت ایک نہایت حساس اور نازک سکیورٹی موڑ پر کھڑا ہے اور بیک وقت چھ مختلف محاذوں پر ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ حالات ایک ’’سکیورٹی دھماکہ خیز‘‘ ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جس نے تل ابیب کو مسلسل اور فوری فیصلوں کی ضرورت والے دوراہے پر پہنچا دیا ہے۔

اہلکار کے مطابق غزہ میں حماس کی دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں اسرائیلی فوج کے لیے سب سے اہم تشویش ہیں۔ بھاری حملوں کے باوجود حماس کے پاس اب بھی ہزاروں جنگجو اور سینکڑوں راکٹ موجود ہیں جن میں سے کئی فائرنگ کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیلی اہلکار کا دعویٰ ہے کہ تل ابیب کسی صورت حماس کو دوبارہ فوجی یا سیاسی قوت بننے نہیں دے گا اور اس سلسلے میں جلد مزید سخت کارروائیاں متوقع ہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کو بھی ایک مرکزی اور بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق تنظیم کے پاس اب بھی کافی جنگجو اور کم از کم دس ہزار راکٹوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ یہ وقت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا تاریخی موقع ہے اور اگر لبنان کی حکومت ایسا نہ کر سکی تو اسرائیل خود اقدام کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کی تیز رفتار پیش رفت کو بھی اسرائیل سنگین خطرہ سمجھ رہا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں کم ہوتا فرق ایران کی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ ایران کو اسرائیل کے لیے ’’وجودی خطرہ‘‘ بننے سے روکنے کے لیے اسرائیل جلد نئی کارروائی کرے، ساتھ ہی ایرانی سرزمین سے کسی ممکنہ حملے کے امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سوریہ میں سکیورٹی خلا کو انتہا پسند تنظیموں کے دوبارہ متحرک ہونے کے لیے سازگار قرار دیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کسی بڑے فوجی تصادم کو جنم دے سکتی ہے اور سرحدی دفاع سے اندرونی کارروائی تک کا مرحلہ لمحوں میں بدل سکتا ہے۔

یمن کی صورت حال کو جغرافیائی فاصلے کے باوجود ایک متاثر کن اور خطرناک عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام یمن میں انصاراللہ کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کو تو کامیاب سمجھتے ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ یہ واقعات دوسرے گروہوں کو بھی حوصلہ دے سکتے ہیں۔

سب سے پیچیدہ محاذ مغربی کنارے کو بتایا گیا ہے جہاں تیزی سے اسلحہ پھیل رہا ہے اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی اہلکار کے مطابق یہ گروہ اب چھوٹے حملوں سے آگے بڑھ کر غزہ کے واقعے کی طرز پر بڑے حملوں کے منصوبے بنا رہے ہیں جن سے صورت حال پل بھر میں بدل سکتی ہے۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک ساتھ چھ مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جو اسے خطے کے ایک بڑے سکیورٹی گسل لائن پر لے آیا ہے۔ اس دور میں کیے جانے والے فیصلے آنے والے کئی برسوں کی سکیورٹی اور اسٹریٹیجک صورتحال کا نقشہ طے کریں گے۔

مشہور خبریں۔

برطانیہ فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے یوکرین کو 1.7 بلین پاؤنڈ کی امداد فراہم کرے گا

?️ 11 جون 2025سچ خبریں: یوکرائنی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ لندن روسی حملوں

روس نے فلسطین میں ہونے والے انتخابات کے بارے میں اہم بیان جاری کردیا

?️ 12 اپریل 2021ماسکو (سچ خبریں) روس نے فلسطین میں ہونے والے انتخابات کے بارے

فلسطینی ایکشن گروپ پر پابندی کے خلاف برطانوی عدالت کے فیصلے 

?️ 14 فروری 2026 سچ خبریں:برطانیہ کی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک تاریخی

پی ٹی آئی کمزور ہوئی تو ملک برباد ہو جائے گا: فواد چوہدری

?️ 21 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر

افواج پاکستان نے اپنے سے بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ مریم نواز

?️ 14 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے کہا کہ 10 مئی

بغاوت در بغاوت؛ عبدالفتاح البرہان سوڈان میں کیسے برسراقتدار آئے؟

?️ 23 اپریل 2023سچ خبریں:سوڈان کے دارالحکومت میں ملٹری کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے

اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا دھچکا

?️ 21 ستمبر 2025اسلام آباد اور ریاض کا دفاعی معاہدہ تل ابیب کے لیے بڑا

فیس بک میسنجر میں  صارفین کے لئےنئے فیچرز کا اضافہ

?️ 25 اگست 2021نیویارک (سچ خبریں)سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے میسنجر میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے