?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پی اے سی کے چیئرمین کی طرف سے لگائے گئے الزامات مسترد کر دیے، جنہوں نے سابق وفاقی وزیر پر مرکزی بینک کی اسکیم کے تحت اربوں ڈالر کی ’مشکوک لین دین‘ کا الزام لگایا تھا جس کا مقصد کاروبار کو کم شرح سود پر قرضے دینا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت ترین نے بیان میں بتایا کہ معمولی شرح سود پر قرضے کووڈ کے بعد کے مالیاتی محرک اقدامات کا حصہ تھے جو پچھلی حکومت نے اٹھائے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے علم میں آیا ہے کہ پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے مجھ پر ایس بی پی کے زیر انتظام ٹیمپرری اکنامک ری فنانس فسیلٹی کے تحت ’4 ارب ڈالر کی مشکوک لین دین‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
شوکت ترین نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان خودمختار ادارہ ہے اور کاروبار کے لیے مختلف قرضوں کی سہولت دیتا ہے، جس میں ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) اور لانگ ٹرم فنانسنگ فسیلٹی (ایل ٹی ایف ایف) شامل ہیں۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک ایک تفصیلی بیان جاری کرے گا جس میں ان اقدامات کے مقاصد، خوبیوں اور افادیت کو واضح کرے گا۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید وضاحت کی کہ وہ اپریل 2021 میں وزیر خزانہ بنے تھے جبکہ اسٹیٹ بینک نے ایک سال قبل مارچ 2020 میں ری فنانس اسکیم کا آغاز کیا تھا اور یہ سہولت مارچ 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔
شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ لہٰذا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا بیان ’گمراہ کن اور غیر مناسب ہے‘ ۔
خیال رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں عالمی وبا کے دوران کمرشل بینکوں سے زیرو مارک اپ پر تقریباً 3 ارب ڈالر قرض حاصل کرنے والے 600 کاروباری افراد کی فہرست طلب کی تھی۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران رکن برجیس طاہر نے مطالبہ کیا کہ ’اسٹیٹ بینک کو کمیٹی کے سامنے 600 افراد کی تفصیلات پیش کرنی چاہیے جنہوں نے یہ قرضے حاصل کیے تھے‘۔
چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہا تھا کہ ’کس قانون کے تحت ان 600 افراد کو قرضے جاری کیے گئے‘۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ بینکوں نے وبا کے دوران رعایت پر ان قرضوں کی پیش کش کی تھی، اس سہولت کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے متاثر ہونے والی معیشت میں سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔


مشہور خبریں۔
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کی ہلاکتیں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں سے بڑھ گئیں
?️ 31 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) 2025 کی پہلی سہ ماہی میں غیر قانونی
مارچ
پاکستان کی پاک افغان سرحدی علاقے میں کارروائی، دہشتگردوں کے 7 ٹھکانے تباہ کردیے
?️ 22 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) افغان طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے جواب
فروری
حکومت کی توجہ برآمدی صنعتوں کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے پر ہے: وزیر اعظم
?️ 27 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ زراعت کو
دسمبر
زلنسکی نے ٹرمپ اور پوٹن کی ملاقات کے موقع پر کیا کہا؟
?️ 17 اگست 2025سچ خبریں: ولادیمیر زلنسکی، صدر یوکرین، نے کہا کہ ہمیں امید ہے
اگست
صدر مملکت نے سری لنکن عوام کو بڑا آفر دیا
?️ 20 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان کے دورے پر موجود سری لنکا کی فوج
مارچ
ایرانی صدراتی امیدوار
?️ 26 مئی 2021سچ خبریں:ایران کی الیکشن کونسل نے صدارتی انتخابات کے نامزدگی کے کاغذات
مئی
پاکستان کے وزیر مذہبی امور: مذہبی سیاحت کے انتظام کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط کیا جائے گا
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے تہران میں ایران، پاکستان
جولائی
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے آج دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر
?️ 5 فروری 2021کراچی (سچ خبریں) صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد کشمیر کی قانون
فروری