?️
سچ خبریں:تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی خبروں کے ذریعے توانائی کی عالمی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کرکے تقریباً 107 ڈالر تک پہنچنے کے بعد تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈی کو قابو میں رکھنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق خبروں کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔
برینٹ کی قیمت میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز میں تہران کی جانب سے بحری جہازوں کی آمدورفت پر مزید سختی اور یمن کی صورتحال میں پیش رفت کے بعد ہوا۔
اس کے فوراً بعد میڈیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی، قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے سے متعلق خبریں ایک بار پھر گردش کرنے لگیں۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس سے قبل ایران کے ساتھ مذاکرات سے واضح طور پر دستبرداری کا اعلان کررہے تھے، اب مذاکرات کے حوالے سے مختلف اشارے دے رہے ہیں۔
اس بار بار دہرائے جانے والے طریقہ کار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی تیل کی قیمت واشنگٹن کی برداشت کی حد سے تجاوز کرتی ہے تو امریکہ عملی اقدام کے بجائے خبر کو مارکیٹ پر اثر انداز ہونے اور تیل کی قیمت کم کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
بارہا دیکھا گیا ہے کہ جب تیل کی قیمت حساس سطحوں، بالخصوص 100 ڈالر فی بیرل کی حد کے قریب پہنچتی ہے تو ایران کے ساتھ مذاکرات، ثالثوں کی روانگی اور ممکنہ معاہدے کے قریب ہونے سے متعلق خبریں سامنے آنے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ 100 ڈالر سے زائد تیل کی قیمت امریکی معیشت پر شدید دباؤ ڈالتی ہے۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 6.2 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے۔
روئٹرز نے اس سے قبل اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اسکولوں کی ٹرانسپورٹ سروسز کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال برقرار رہی تو پوری سپلائی چین میں اشیا کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں وائٹ ہاؤس میدان میں سنجیدہ عملی اقدام کرنے کے بجائے خبری علاج کا سہارا لیتا ہے، یعنی ایران کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچنے سے متعلق مثبت اور بعض اوقات مبینہ طور پر جعلی خبریں پھیلا کر مارکیٹ کو متاثر کرنے اور بغیر کسی عملی اقدام کے تیل کی قیمت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جان بولٹن کا مارکیٹ میں مبینہ ہیرا پھیری سے متعلق بیان
امریکہ کے سابق قومی سلامتی مشیر جان بولٹن کے بیانات اس حوالے سے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں رہنے والے بولٹن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا یہ طرز عمل ایک طرح کی مارکیٹ میں ہیرا پھیری ہے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔
بولٹن کے مطابق ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی وقت معاہدہ ہوسکتا ہے اور محاصرہ بہترین طریقے سے کام کررہا ہے، جبکہ ان کا اصل مقصد تیل کی قیمت کم کرنا ہے۔
انہوں نے ایک اور موقع پر کہا کہ اگر کوئی چیز ٹرمپ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے تو وہ مارکیٹ اور پٹرول کی قیمتیں ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے سامنے آنے والے یہ بیانات خبری علاج کے دعوے کو محض ایک مفروضے کے بجائے دستاویزی دعوے کی شکل دیتے ہیں۔
ایران کے لیے اہم سبق
اس صورتحال میں ایران کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایرانی حکام کو ثالثی، مذاکرات یا ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچنے سے متعلق ہر خبر کو غیر معمولی سیاسی اور میڈیا اہمیت دینے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرح وہ غیر ارادی طور پر اسی مقصد کو تقویت دے سکتے ہیں جسے مخالف فریق حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اگرچہ مذاکرات جاری بھی ہوں، تاہم انہیں ضرورت سے زیادہ نمایاں کرنا اور ان کے گرد میڈیا کی بڑی لہر پیدا کرنا امریکی فریق کے مفاد میں ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر مخالف فریق کی جانب سے جاری کی جانے والی خبریں غلط ہوں تو انہیں فوری اور بلا تاخیر مسترد کیا جانا چاہیے تاکہ مارکیٹ کو مصنوعی ردعمل کا موقع نہ ملے۔
حکمت عملی کے اثرات کم ہورہے ہیں؛ اب کوئی یقین نہیں کرتا
تاہم اس حکمت عملی میں ایک بنیادی کمزوری بھی ہے۔ مختصر مدت میں یہ طریقہ کار تیل کی قیمت کم کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مارکیٹ کے شرکا بار بار آنے والی ایسی خبروں کو زیادہ احتیاط سے دیکھنا سیکھ لیتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی اس حکمت عملی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ تیل کی قیمت کم کرنے کے لیے بہت سی جعلی خبریں پھیلا رہا ہے اور مارکیٹ اب ایسی خبروں پر اعتماد نہیں کرتی۔
دوسرے لفظوں میں، واشنگٹن اس حربے کو بار بار استعمال کرکے اپنے اثر و رسوخ کے ذرائع کو وقت سے پہلے استعمال کرچکا ہوسکتا ہے۔
جب بھی تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچتی یا اس حد کو عبور کرتی ہے، امریکی معیشت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور ٹرمپ فوری طور پر ٹویٹس اور مذاکرات سے متعلق خبروں کے ذریعے میدان میں آجاتے ہیں، جن میں سے بیشتر کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیا جارہا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایرانی حکام کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر مذاکرات واقعی جاری ہوں تب بھی ان کو غیر ضروری طور پر نمایاں کرنا اور میڈیا میں بڑی لہر پیدا کرنا مخالف فریق کے مفاد میں ہوسکتا ہے۔
اسی طرح اگر مخالف فریق کی جانب سے جاری کردہ خبریں درست نہ ہوں تو انہیں فوری طور پر مسترد کیا جانا چاہیے تاکہ مارکیٹ کو مصنوعی ردعمل دینے کا موقع نہ ملے۔
قطر اور پاکستان کے حکام کے دورے کسی حقیقی کشیدگی میں کمی کی کوشش کا حصہ ہوسکتے ہیں، لیکن ایک ملاقات، مشاورت اور حقیقی معاہدے کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔
تہران کو خبر اور حقیقت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ہوگا اور اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ملک کے سیاسی اور اقتصادی فیصلے ایسی میڈیا لہروں سے متاثر ہوں جو ممکن ہے میدان میں کسی حقیقی تبدیلی کے بجائے مارکیٹ کی توقعات پر اثرانداز ہونے کے لیے پیدا کی گئی ہوں۔
ایرانی حکام کے لیے ضروری ہے کہ ملاقاتوں کے اوقات، پیغامات کے تبادلے اور ان کے نتائج کے اعلان میں زیادہ احتیاط اور حکمت عملی سے کام لیں، کیونکہ یہ بھی موجودہ جنگ کا ایک اہم محاذ ہے۔


مشہور خبریں۔
چین سے کوروناویکسین کی بھاری کھیپ آج اسلام آباد پہنچےگی
?️ 29 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) چین سے کورونا ویکسین کی بھاری کھیپ آج
جون
جسٹس صلاح الدین پنہورکابینچ کا حصہ بننے سے معذرت، مخصوص نشستیں کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا
?️ 27 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) جسٹس صلاح الدین پنہورکا بینچ کا حصہ بننے
جون
یمنی عوام کے 80 ہزار ٹن ایندھن والے 3 جہازوں پر قبضہ
?️ 7 نومبر 2021سچ خبریں: یمن کی قومی تیل کمپنی نے آج ہفتہ 6 نومبر کو
نومبر
اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا بحران نئے مرحلے میں داخل، فوجی سربراہ پر سخت تنقید
?️ 30 جون 2026سچ خبریں: اسرائیلی فوج میں افرادی قوت کی شدید کمی اور حریدی
جون
قوم کو وائٹ لسٹ میں پاکستان کی واپسی کی راہ ہموار ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں:وزیر اعظم
?️ 18 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے پاکستان کا
جون
غزہ کے سلسلے میں کینیڈا کا منافقانہ بیان
?️ 18 اکتوبر 2023سچ خبریں:کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے المعمدانی ہسپتال پر بمباری میں
اکتوبر
چین کی بڑھتی طاقت کا فارمولا اور عالمی سیاست میں بدلتا توازن
?️ 29 مئی 2026سچ خبریں:چین نے فوجی طاقت، معیشت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کو یکجا
مئی
امریکی دہشت گردوں کا ایرانی کنٹینر جہاز پر حملہ
?️ 20 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکی دہشت گرد فوجیوں نے چند گھنٹے قبل خلیج عمان
اپریل