?️
سچ خبریں:یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی حالیہ پیش قدمی نے یمن میں طاقت کے توازن کے ساتھ خطے کی اسٹریٹجک صورتحال بھی تبدیل کردی ہے، جبکہ باب المندب پر بڑھتے کنٹرول سے سعودی عرب کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
یمن کی انصار اللہ نے حالیہ دنوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے نہ صرف یمن میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے کی اسٹریٹجک صورتحال کو بھی مزاحمتی محاذ کے حق میں تبدیل کردیا ہے۔
یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی حالیہ پیش قدمی اور کامیابیاں مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں موجودہ اسٹریٹجک صورتحال کا جائزہ لینے والے تمام فریقوں اور مبصرین کے لیے بڑے اور حیران کن واقعات ثابت ہوئی ہیں، جن کے اثرات علاقائی حدود سے آگے بڑھ کر عالمی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔
العہد نیوز ویب سائٹ نے ایک تجزیے میں یمن کی جنگ میں انصار اللہ کی حالیہ کامیابیوں کے اسٹریٹجک پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ میدان جنگ میں یہ کامیابیاں متعدد اہم عوامل کا نتیجہ ہیں۔
انصار اللہ کی فورسز نے تقریباً 3 دن کے اندر حدیدہ کے جنوب سے ساحلی شہر المخا تک تقریباً 300 مربع کلومیٹر علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک ایسے زمینی پٹی پر بھی قبضہ حاصل کرلیا جو وازعیہ اور تعز روڈ کو حیس کے علاقے سے ملاتی ہے۔ اس علاقے میں کیمپ خالد بھی شامل ہے، جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ یمنی فورسز کی سب سے بڑی فوجی موجودگی قائم تھی۔
یمنی مسلح افواج اور انصار اللہ نے یہ پیش قدمی 5000 سے بھی کم مجاہدین کی مدد سے اس وقت حاصل کی جب انہیں درع الوطن اور عمالقہ بریگیڈ کی 5 ڈویژنوں اور درجنوں بریگیڈز پر مشتمل تقریباً 50000 جنگجوؤں کا سامنا تھا۔ ان فورسز کو سعودی عرب کی انٹیلی جنس اور وسیع فضائی مدد حاصل تھی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی اور اماراتی قابض قوتوں کی حمایت یافتہ یمن کی کٹھ پتلی حکومت کے ڈھانچے کے انہدام کی کئی وجوہات ہیں، جن میں اس اتحاد میں شامل مختلف اور متضاد فریقوں کے درمیان موجود گہری اور دیرینہ خلیج کے ساتھ ساتھ یمنی مسلح افواج کی نمایاں فوجی صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔
اس کارروائی کے دوران انصار اللہ کی جانب سے ایک ذہانت پر مبنی اور مربوط فوجی حکمت عملی اختیار کیے جانے کے آثار واضح طور پر نظر آئے۔ انصار اللہ نے مأرب، الجوف اور سعودی عرب کے ساتھ شمالی سرحدی علاقوں میں الگ الگ محاذ کھول کر سعودی حمایت یافتہ فورسز کی توجہ دوسری جانب مبذول کرائی، جبکہ اسی دوران مرکزی جنگ کو تیزی سے مغربی ساحل کی طرف منتقل کردیا اور پہلے سے تیار کیے گئے حملہ آور منصوبوں کو مربوط انداز میں عملی جامہ پہنایا۔
اس حکمت عملی کے نتیجے میں درع الوطن اور عمالقہ سے وابستہ ملیشیائیں شدید الجھن کا شکار ہوگئیں اور خود کو محاصرے کے قریب پایا۔ بالآخر انہیں المخا اور باب المندب کے درمیان واقع ساحلی کیمپ ذباب کی جانب پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
العہد کے مطابق ان بڑی کامیابیوں کے اثرات کو یمن کے داخلی حالات اور علاقائی اسٹریٹجک محاذ، دونوں سطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔
یمن کے داخلی حالات پر اثرات
یمن کے داخلی حالات پر اثرات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ اہم فوجی پیش رفت، جس کے نتیجے میں یمنی مسلح افواج نے ایک اسٹریٹجک جغرافیائی علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے، یمن میں کنٹرول اور اثر و رسوخ کے نقشے کو متاثر کرے گی۔
انصار اللہ کے دوبارہ حاصل کیے گئے علاقے ایک جانب اسے مغربی ساحل سے باب المندب کی جانب اپنا کنٹرول بڑھانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب جنوب اور جنوب مغرب سے تعز شہر پر زیادہ وسیع دباؤ اور کنٹرول کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔
اس سے یمن کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں یمنی مسلح افواج کی پوزیشن اور اثر و رسوخ مزید مستحکم اور مضبوط ہوگا۔
علاقائی اسٹریٹجک کشمکش
علاقائی اسٹریٹجک کشمکش کے حوالے سے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ انصار اللہ کی حالیہ کامیابیاں ایران اور خطے میں مزاحمتی محاذ کے خلاف امریکی اور صہیونی حکمت عملی کے لیے ایک کاری ضرب ہیں۔
ان پیش قدمیوں کے نتیجے میں اگر آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ تہران کے یمنی اتحادی بھی باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو یہ ممکنہ امریکی، صہیونی جنگ کی صورت میں ایران کی دفاعی اور فوجی حکمت عملی کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت پر گہرے اسٹریٹجک اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
اس تناظر میں تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یمن کے مغربی ساحل پر انصار اللہ کی پیش قدمی کے ناقابل تردید اثرات اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کو فیصلہ کن انجام تک پہنچانے میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے ایران اور اس کے اتحادیوں کے پاس موجود طاقت کے پتے مزید مضبوط ہوگئے ہیں۔
اس صورتحال نے جنگ کے ایسے اختتام کی راہ بھی ہموار کردی ہے جو ایران اور اس کے اتحادیوں کے مفادات سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب لبنانی اخبار الاخبار نے لکھا ہے کہ انصار اللہ کی نئی کامیابیوں کے سائے میں سعودی عرب کی تیل برآمدات کو شدید دھچکا لگا ہے۔
اخبار کے مطابق ایک طرف آبنائے ہرمز، جو سعودی تیل برآمدات کا مشرقی دروازہ ہے، اس ملک کے لیے بند ہے، جبکہ دوسری جانب مغربی دروازہ یعنی باب المندب بھی، جو کچھ عرصے سے یمنی مسلح افواج کی بحری ناکہ بندی کی زد میں تھا، اب ان فورسز کے مزید مضبوط کنٹرول میں آچکا ہے۔ اس صورتحال نے سعودی عرب کی تیل برآمدات کے تقریباً صفر تک پہنچنے کی راہ ہموار کردی ہے۔
کپلر ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے اوائل میں باب المندب سے سعودی خام تیل کی ہفتہ وار اوسط آمدورفت روزانہ 3.5 ملین بیرل سے تجاوز کرگئی تھی، جس کی بنیادی وجہ ینبع سے تیل کی برآمدات میں اضافہ تھا۔
تاہم جولائی کے وسط سے یہ آمدورفت تیزی سے کم ہونا شروع ہوئی اور اگست میں تقریباً صفر کی سطح تک پہنچ گئی۔
تجزیے کے مطابق سعودی عرب کی پیداوار اور تیل برآمدات میں یہ کمی صرف باب المندب کی ناکہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ بیک وقت ہونے والے متعدد حملوں اور اہم مقامات پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے بھی منسلک ہے، جن میں سعودی تیل کی تنصیبات اور اس کی منتقلی و برآمد کے راستوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کارروائیوں میں باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو انصار اللہ کی جانب سے نشانہ بنانا، جازان آئل ریفائنری پر حملہ، ینبع کے قریب بحری کارروائیاں اور بقیق میں تیل کی پروسیسنگ تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانا شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کے دہشت گرد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر جنگی پوسٹ
?️ 25 مئی 2026 سچ خبریں:امریکہ کے دہشت گرد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار
مئی
اقتدار چھننے کے بعد نیتن یاہو کی ذلت میں شدید اضافہ، بدعنوانی کے کیسز کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست مسترد
?️ 21 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیل کے سابق انتہا پسند وزیر اعظم بنجمن
جون
افغانستان میں تاجروں اور اہم لوگوں کی حفاظت کے لیے طالبان کا نیا فیصلہ
?️ 16 اکتوبر 2021سچ خبریں:طالبان کے نائب وزیر اطلاعات و ثقافت کے ترجمان نے کہا
اکتوبر
غزہ کے بہادر ڈاکٹر کے خلاف صہیونیوں کا انسانیت سوز اور غیر قانونی اقدام
?️ 15 فروری 2025سچ خبریں: قابض حکومت کی جیلوں میں کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ
فروری
عمران خان بالکل تندرست ہیں، معمول کا طبی معائنہ ہوا۔ عطاء اللہ تارڑ
?️ 29 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
جنوری
امریکہ کی روس میں نئی سرمایہ کاری پر پابندی
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںمغربی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ بدھ کو روس کے
اپریل
2022 میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے امریکی بچے
?️ 31 دسمبر 2022سچ خبریں:امریکہ میں گن وائلنس آرکائیو کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے
دسمبر
قبائلی عوام کا افغانستان کےحمایت یافتہ دہشت گردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان
?️ 12 اکتوبر 2025پشاور (سچ خبریں) قبائلی عوام نے افغان جارحیت پر افغانستان کے حمایت
اکتوبر