صہیونی میڈیا کا یمن میں انصار اللہ کی بڑی کامیابی کا تجزیہ؛ باب المندب پر بڑھتی گرفت سے اسرائیل پریشان

انصار اللہ

?️

سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے یمن میں انصار اللہ کی حالیہ پیش قدمی اور باب المندب پر بڑھتی گرفت کو اسٹریٹجک تبدیلی قرار دیتے ہوئے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور سعودی عرب کے برآمدی راستوں کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

صہیونی میڈیا نے یمن میں جنگ کی حالیہ پیش رفت اور انصار اللہ کی نمایاں کامیابیوں کو ایک اسٹریٹجک تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اثرات علاقائی حدود سے آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ دنیا کے اہم ترین تجارتی اور توانائی کے راستوں میں سے ایک کو لاحق خطرات کے باعث صہیونی حکومت کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

صہیونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے خطے کی صورتحال اور حالیہ جھڑپوں میں انصار اللہ کی اہم پیش قدمی کا تجزیہ کرتے ہوئے ان تبدیلیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس حوالے سے صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول، عالمی تجارت کے لیے خطرہ کے عنوان سے شائع ایک مضمون میں یمن کی مسلح افواج کی جانب سے باب المندب پر کنٹرول کو عالمی تجارت کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم یمنی حکام کا کہنا ہے کہ وہ صرف سعودی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو اس آبنائے سے گزرنے سے روکیں گے، جبکہ دیگر ممالک کے جہاز معمول کے مطابق باب المندب سے گزر سکتے ہیں۔

یدیعوت احرونٹ نے لکھا کہ ایران کی حمایت یافتہ انصار اللہ کی جانب سے باب المندب پر کنٹرول، بالخصوص ساحلی علاقوں اور اسٹریٹجک جزیرے میون تک ان کی رسائی، ایک خطرناک پیش رفت ہے۔

صہیونی میڈیا کے مطابق ان تبدیلیوں کا خطرہ صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ سعودی عرب بھی اب اس کشیدگی کے اثرات کے مرکز میں آگیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسے بند کردیا گیا، جبکہ اسی دوران انصار اللہ یمنی ساحل پر بحیرہ احمر کی جانب پیش قدمی کررہی ہے۔

یدیعوت احرونٹ نے مزید لکھا کہ مذکورہ پائپ لائن سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے ایک اسٹریٹجک راستہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے مشرقی علاقے سے تیل کو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق اس پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے سے خلیج فارس میں بحری آمدورفت میں خلل کی صورت میں ریاض کے پاس موجود اہم متبادل راستوں میں سے ایک کمزور ہوگیا ہے۔

صہیونی حکومت کے نقطہ نظر سے ان پیش رفتوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ سعودی عرب کو اس وقت بیک وقت 2 بحری محاذوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ ایک طرف آبنائے ہرمز ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب باب المندب ہے جہاں انصار اللہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اسی سلسلے میں صہیونی حکومت کے داخلی سکیورٹی مطالعاتی ادارے کے محقق یوئل گوزانسکی نے یدیعوت آحارونوت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک ایسی صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں جس کا وہ کبھی تصور نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ان کی برآمدات کے 2 اہم بحری راستے بیک وقت خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

 ان کے مطابق مسئلہ اب صرف یہ نہیں کہ آبنائے ہرمز سے کیسے گزرا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ عالمی منڈیوں تک محفوظ رسائی کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔

صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے بھی بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزائر پر انصار اللہ کے کنٹرول اور سعودی آئل ٹینکروں کو خطرے میں ڈالنے کی اس گروپ کی صلاحیت کو اہم قرار دیا۔

 اخبار نے کہا کہ انصار اللہ کی پیش قدمی ایران کی پوزیشن کو خطے کے 2 اہم ترین بحری راستوں، یعنی آبنائے ہرمز اور باب المندب، پر مزید مضبوط کرتی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب انصار اللہ یمن نے المخا شہر اور باب المندب کے قریب متعدد اسٹریٹجک مقامات اور جزائر پر قبضہ حاصل کیا ہے۔ اسی دوران یمن کی کٹھ پتلی حکومت سے وابستہ فورسز نے انصار اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف جوابی حملے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے کی کشیدگی میں 500 سے زائد افراد ہلاک جبکہ دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

صہیونی میڈیا کے یہ تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ تل ابیب بحیرہ احمر کی صورتحال کو محض یمن کی جنگ کے تناظر میں نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں اہم سمجھ رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں مسلسل خلل اور باب المندب میں انصار اللہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور علاقائی بحری سلامتی کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

باب المندب کی اسٹریٹجک حیثیت، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بالآخر نہر سویز سے ملاتی ہے، صہیونی حکومت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس آبنائے میں طاقت کے توازن میں کسی بھی تبدیلی کے براہ راست اثرات ایشیا اور یورپ کے درمیان صہیونی حکومت کے بحری تجارتی راستوں پر پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب صہیونی چینل 15 نے بھی اعتراف کیا کہ انصار اللہ باب المندب پر حکمرانی کرنے والے اسٹریٹجک جزائر پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

 یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب سعودی عرب خود کو علاقائی تنہائی کا شکار دیکھ رہا ہے اور امریکہ نے ریاض کی براہ راست محاذ آرائی میں حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔

صہیونی چینل 14 نے بھی کہا: حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرکے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی حاصل کرلی ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ کی تعمیر نو میں کتنے سال لگیں گے؟

?️ 7 فروری 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی

پی ٹی آئی انتخابی دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کے مطالبے سے دستبردار، چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا

?️ 16 جنوری 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور

غزہ میں جنگ بندی کے لیے صیہونی حکومت کا نیا منصوبہ

?️ 20 ستمبر 2024سچ خبریں: صہیونی کان نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی

وفاقی وزیر تعلیم کے بیان پر عاصم اظہر کا ردعمل

?️ 19 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان میوزک انڈسٹری کے نوجوان گلوکار عاصم اظہر نے وفاقی

ڈیموکریٹس کا وسیع تحقیقات اور ٹرمپ کے مواخذے کا منصوبہ

?️ 9 اگست 2026سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے گرد

اسرائیل نے دنیا کے کئی ممالک الیکٹرانک آلات میں بم نصب کیا:موساد کے سابق سربراہ

?️ 1 نومبر 2025اسرائیل نے دنیا کے کئی ممالک الیکٹرانک آلات میں بم نصب کیا:موساد

پاکستان: افغانستان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات 2021 سے منقطع ہیں

?️ 12 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستانی وزیر خارجہ نے کوالالمپور میں ایک علاقائی اجلاس میں

حزب اللہ کے طاقتور میزائلوں کے سامنے ایک بار پھر گنبد آہنی ناکام

?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں:گزشتہ شب حزب اللہ نے تل ابیب پر ایک تباہ کن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے