کرم میں جنگ بندی کے بعد معمولات زندگی بحال، اسکول بھی کھل گئے

?️

کرم ایجنسی: (سچ خبریں) ضلع کرم میں کئی دن تک جاری مسلح تصادم کے نتیجے میں 100 سے زائد اموات کے بعد سیاسی جرگے کی مداخلت سے علاقے میں مکمل جنگ بندی کے بعد معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں اور آج علاقے میں اسکول بھی دوبارہ سے کھل گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کرم کے ڈپٹی کمشنر جاویداللہ محسود نے بتایا ہے کہ سیاسی جرگے کی جانب سے جنگ بندی کے بعد علاقے کے تمام اسکول اور کالجز کھل گئے ہیں۔

اس کے علاوہ موبائل فون سروس بھی بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں جو ضلع میں مسلح تصادم کے نتیجے میں بند کردی گئی تھیں۔

تاہم فریقین کے درمیان جنگ بندی کے باوجود پاراچنار اور اپر کرم کو صوبائی دارالحکومت پشاور سے ملانے والی ہائی وے تاحال ٹریفک کے لیے بند ہے۔

یاد رہے کہ 21 نومبر کو ضلع کرم کے علاقے اپر دیر میں اسی ہائی وے پر ایک گروپ کی جانب سے مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کرکے مسلح فسادات کی ابتدا کی تھی، جس کے بعد سے ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا، پہلے دن دونوں اطراف سے فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سڑکوں کی بندش سے ضلع میں کھانے پینے کی اشیا اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔

کرم کے ڈپٹی کمشنر محسود نے کہا ہے کہ فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی خندقوں کو خالی کرا لیا ہے جن پر سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے قبضہ کرلیا ہے۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے کرم کے معاملے پر قائم گرینڈ جرگے کے ارکان نے ملاقات کی اور کرم کے مسئلے کے حل کے لیے باضابطہ مذاکرات کے آغاز اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

جرگہ ارکان نے امن کے لیے صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اراکین نے جرگے کے ذریعے پر امن حل کرنے کے لیے وزیر اعلی کی کوشش کو بھی سراہا۔

علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت مذاکرات کے لیے تمام سہولیات اور تعاون فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے گرینڈ جرگے کے ذریعے کرم کے معاملے کا پرامن اور پائیدار حل نکل آئے گا، گرینڈ جرگہ آئندہ چند روز میں کرم کا دورہ کرکے فریقین سے بات چیت شروع کرے گا۔

وزیر اعلی نے کرم معاملے کےحل کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر جرگہ اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

مشہور خبریں۔

ایرانی جوہری معاملے اور ویانا مذاکرات کے سلسلہ میں سعودی وزیر خارجہ کا بیان

?️ 3 جنوری 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری معاملے اور ویانا مذاکرات

تل ابیب کے وزیر توانائی کی اپنی گیس فیلڈ کے بارے میں مبالغہ آرائی

?️ 6 جولائی 2022سچ خبریں:   گذشتہ دنوں لبنان کی حزب اللہ کی حکمت عملی اور

5لاکھ روپے سے زائد کے ڈپازٹس غیرمحفوظ ہونے کی خبریں مسترد

?️ 5 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک نے پانچ لاکھ روپے سے زائد

اردغان نے اسرائیلی صدر کو آنکارا کے دورے کی دعوت دی

?️ 19 جنوری 2022سچ خبریں:   صیہونی ٹیلی ویژن نے آج صبح حکومتی حکام کے حوالے

الیکشن کمیشن کی ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کی تردید

?️ 14 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن نے آئندہ انتخابات میں بڑی تعداد

اخبار الاخبار کے مطابق تہران میں سہ فریقی اجلاس کی کامیابی

?️ 20 جولائی 2022سچ خبریں:     ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

رحم کی بھیک مانگ کر فلسطینی عوام کا حق نہیں مل سکتا: حماس

?️ 23 فروری 2022سچ خبریں:فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اسرائیلی

ٹرمپ نے برکس شراکت داروں کے ساتھ تجارتی جنگ کا آغاز کیا

?️ 8 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے جنوبی افریقہ سے درآمد کی جانے والی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے