غزہ کا شہر کیوں اسرائیل کے لیے اہم ہے؟

غزہ

?️

 غزہ کا شہر کیوں اسرائیل کے لیے اہم ہے؟
 دو سال سے زائد عرصے سے جاری غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کئی بار شمالی غزہ کے مرکزی شہر میں داخل ہوئی اور پھر پسپائی اختیار کر گئی، تاہم اب صہیونی کابینہ اور فوج دوبارہ اس شہر پر مکمل قبضے کی تیاری کر رہی ہے۔
اسرائیلی حملے زیادہ تر غزہ کے محلے الزيتون اور الصبرہ میں ہوئے جن میں فضائی بمباری، توپ خانہ اور دھماکہ خیز روبوٹ استعمال کیے گئے۔ اسرائیلی فوج بارہا یہ دعویٰ کرتی رہی کہ شہر خالی ہو چکا ہے لیکن ہر مرتبہ پسپائی کے بعد مزاحمتی گروہ دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔
اب وزیراعظم نیتن یاہو اور فوجی قیادت کھلے عام شہر غزہ اور پھر پورے غزہ پٹی پر قبضے کی بات کر رہے ہیں۔ عبرانی ویب سائٹ وائے نت نے خبر دی ہے کہ کابینہ نے بڑے پیمانے پر زمینی آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے اور ہزاروں ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے مطابق اگر یہ آپریشن شروع ہوا تو 8 سے 10 لاکھ افراد کو شمالی غزہ سے بےدخل کیا جائے گا، جس کے لیے جنوبی علاقے کو بظاہر انسانی کوریڈور میں تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے نزدیک یہ منصوبہ فوجی کارروائی سے بڑھ کر ایک بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے ایک صہیونی محقق کے مطابق غزہ، نوارِ غزہ کا سب سے بڑا اور فلسطین کا تیسرا بڑا شہر ہے جو ماضی میں حکومتی، تعلیمی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ اسی وجہ سے حماس کی سیاسی و عسکری قیادت کا بھی اہم مرکز یہی شہر تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کے کمانڈر عزالدین الحداد اب بھی یہیں موجود ہیں اور شہر کے اندر چھاپہ مار جنگ منظم کر رہے ہیں۔
اس شہر میں اس وقت تقریباً دس لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جس میں بڑی تعداد اُن مہاجرین کی ہے جو دیگر علاقوں سے یہاں پناہ لینے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس شہر پر حملے کی مخالفت شدید ہو سکتی ہے۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے صحافیوں کے قتل عام، محلے الزيتون اور الصبرہ پر بمباری اور وسیع تباہی کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد کو ہجرت پر مجبور کیا ہے۔ فوجی ذرائع کے مطابق چار بڑے ڈویژن اور ہزاروں ریزرو فوجی غزہ کے اندر نئے آپریشن کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب قطر اور مصر میں جنگ بندی کی بات چیت جاری ہے مگر مبصرین کے مطابق اسرائیل ان مذاکرات کو صرف وقت حاصل کرنے اور اصل منصوبے یعنی غزہ پر قبضے کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

شہریار آفریدی اور دیگر کی نظر بندی کیخلاف درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری

?️ 30 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور دیگر

آرمی چیف سے ترک بری فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات

?️ 27 دسمبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں)آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ترکی کی بری فوج کےچیف

اراکین اپوزیش کو اہمیت نہ دیں یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے: وزیراعظم

?️ 27 جنوری 2021اراکین اپوزیش کو اہمیت نہ دیں یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے:

ہمیں ایک ہائبرڈ دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا:قزاقستان

?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:قزاقستان کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اس ملک میں

حکومت اور پیپلز پارٹی آئینی عدالت کے قیام سے پیچھے ہٹنے پر رضامند

?️ 17 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے کے لیے قائم

یمنی عوام کے خلاف جنگ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے : انصار اللہ

?️ 18 فروری 2022سچ خبریں:   انصار اللہ کے رہنما عبدالمالک بدرالدین الحوثی نے جمعرات کو

جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ: صنم جاوید، عالیہ حمزہ کی ضمانت منظور

?️ 27 مارچ 2024لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کو

امریکی صدر نے شہباز شریف کو خط میں مبارکباد نہیں دی ،فرحت اللہ بابر

?️ 30 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماءفرحت اللہ بابر کا کہنا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے