?️
حزب اللہ لبنان کا واحد محافظ ہے، قابض دشمن پر تیسری فتح قریب ہے: عبدالباری عطوان
بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) معروف فلسطینی تجزیہ کار اور روزنامہ رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے لبنانی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بیروت کی موجودہ قیادت امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے سامنے جھک گئی ہے، جبکہ دراصل حزب اللہ ہی ہے جس نے لبنان کو آزادی دلائی اور آج بھی مکمل قوت کے ساتھ قابض دشمن کو شکست دینے کے لیے تیار کھڑی ہے۔
عطوان نے اپنی تازہ تحریر میں اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاتس کے اس خط کو گستاخانہ اور متکبرانہ قرار دیا جو انہوں نے براہِ راست لبنانی صدر جوزف عون کو بھیجا۔ اس خط میں کاتس نے دھمکی دی تھی کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسرائیل ایک بار پھر لبنان پر حملہ کرے گا۔ عطوان کے مطابق، اس خط سے صاف ظاہر ہے کہ صہیونی وزیر جنگ خود کو لبنان کا گورنر سمجھ بیٹھا ہے اور لبنانی قیادت محض ماتحت کے درجے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل شدید خوف اور اسٹریٹجک اضطراب کا شکار ہے، کیونکہ حزب اللہ سیاسی و عسکری اعتبار سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنانی حکومت پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تاکہ حزب اللہ کو سال کے آخر تک ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔
عبدالباری عطوان کے مطابق، حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے حالیہ خطاب میں واضح کیا ہے کہ اگر کسی نے امریکی منصوبے کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی تو یہ جنگ کربلا کی یاد تازہ کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی صدر اور وزیراعظم اسرائیلی خط پر خاموش رہے لیکن حزب اللہ کی مزاحمت کو جنگِ داخلی کا بہانہ بنا کر نشانہ بنانے لگے۔
عطوان نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی فوج اب تک لبنان کے ساتھ جنگ بندی کی 4 ہزار بار خلاف ورزی کر چکی ہے، 220 لبنانی شہری شہید اور 600 زخمی ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فضائیہ نے سات ماہ کے دوران 600 فضائی حملے کیے۔ اس سب کے باوجود لبنانی حکومت نے کوئی سخت مؤقف اختیار نہیں کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ حزب اللہ نے محض بیانات سے نہیں بلکہ مزاحمت، خون اور قربانی کے ذریعے اسرائیل کو دو مرتبہ شکست دی۔ پہلی بار سن 2000 میں اور پھر جولائی 2006 کی جنگ میں، جب اسرائیل کو ذلت کے ساتھ لبنان چھوڑنا پڑا جبکہ لبنانی فوج خاموش تماشائی بنی رہی۔
عطوان نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ پہلے سے زیادہ منظم اور طاقتور ہو چکی ہے۔ عوامی حمایت بدستور اس کے گرد مضبوطی سے موجود ہے، اور آنے والے وقت میں دشمن پر تیسری تاریخی فتح یقینی ہے
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسرائیلی زندانبانوں کے ہاتھوں صمود فلوٹیلا کے اراکین پر تشدد کے الزامات
?️ 7 اکتوبر 2025سچ خبریں: عالمی مقاومت فلوٹیلا صمود کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے
اکتوبر
غزہ میں تازہ ترین شہدا کے اعداد و شمارک جنگ بندی کے بعد سے 405 شہداء
?️ 22 دسمبر 2025سچ خبریں: غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے پیر کے روز اعلان
دسمبر
ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو رد نہیں کیا
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر نے این بی سی نیوز کو ٹیلی فون
دسمبر
ڈاکٹر ذاکر نائیک دوبارہ پاکستانی دورے پر پہنچ گئے
?️ 25 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) ممتاز اسلامی اسکالر بھارتی نژاد ڈاکٹر ذاکر نائیک چند
فروری
2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کو درپیش چیلنجز
?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:امریکہ میں ہونے والے ایک نئے سروے کے نتائج سے ظاہر
جولائی
فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی جرائم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے: جہاد اسلامی
?️ 14 جون 2026سچ خبریں:فلسطینی جہاد اسلامی تحریک نے صیہونی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے
جون
امریکی سفیر کا فرانس سے خطا
?️ 13 اگست 2025سچ خبریں: امریکہ کے سفیر مائیک ہیکابی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں
اگست
بائیڈن بھیک مانگنے کے لیے خطے میں آئے ہیں: امریکی رپورٹر
?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں: ایک صہیونی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے نیوز میکس
جولائی