?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی نے کراچی اور حیدرآباد میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران صوبے میں برسراقتدار پیپلزپارٹی کی جانب سے سرکاری مشینری کے استعمال کے ممکنہ خدشات کے پیشِ نظر پولنگ اسٹیشنز پر فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دونوں جماعتوں نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران ہونے والے مہلک تشدد کا بھی حوالہ دیا جس میں پیپلزپارٹی کے ایک ہزار سے زائد امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کرالیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنسز میں حکمران جماعت کی جانب سے دھاندلی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ایک جیسا مطالبہ کیا۔
سینیئر پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’قابل اعتماد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور چند دیگر سیاسی جماعتیں ووٹرز کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کے لیے تشدد اور افراتفری کا سہارا لے سکتی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ پیپلزپارٹی انتخابات کے نتائج میں دھاندلی کر سکے کیونکہ وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں پی ٹی آئی کو شکست نہیں دے سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی الیکشن کمیشن سے رابطہ کر کے کراچی اور حیدر آباد کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دینے کی درخواست کر چکے ہیں تاکہ ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج اور رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے ایک ہزار سے زائد امیدواروں کو سرکاری مشینری کی مدد سے بلا مقابلہ منتخب کروا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کا متعصبانہ رویہ 15 جنوری کے انتخابات کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے ناپاک عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پولنگ اسٹیشنز پر پاک فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کی تعیناتی ہموار اور شفاف انتخابی عمل کے لیے انتہائی اہم ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر پولنگ اسٹیشنز پر فوج اور رینجرز کی تعیناتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم-پاکستان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اسے شہری سندھ کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیا۔
ایم کیو ایم-پاکستان نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے تمام ممکنہ قانونی آپشنز پر غور کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
ایم کیو ایم نے ایک بیان میں کہا کہ ’اس فیصلے کے ساتھ الیکشن کمیشن کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کے لیے آزادانہ اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کو یقینی بنانے میں ناکام ہوچکا ہے‘۔
ایم کیو ایم نے ’جعلی اور جانبدارانہ حلقہ بندی‘ کے خلاف (کل) 11 جنوری کو احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ووٹر لسٹوں اور غیر قانونی حلقہ بندیوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج کبھی قبول نہیں کریں گے۔


مشہور خبریں۔
شفاف انتخابات ایک چیلنج ہے
?️ 25 فروری 2021اسلام آباد {سچ خبریں} قوم کو اس وقت مجلس شوریٰ کے ایوانِ
فروری
اگرمزید گیس چاہئے تو نورڈ اسٹریم 2 ہٹا دیں: پیوٹن
?️ 17 ستمبر 2022سچ خبریں: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے جمعہ کے روز
ستمبر
ترکی میں ایک سیاسی ہلچل؛ پارلیمانی نظام کی واپسی کا امکان
?️ 21 مارچ 2025 سچ خبریں:ترکی میں استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی متنازع
مارچ
افغانی برطانوی قاتل شہزادے کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے خواہاں
?️ 10 جنوری 2023سچ خبریں:انگریزی اخبارگارڈین نے گزشتہ ہفتے جمعرات کو شہزادہ ہیری کی کتاب
جنوری
پیلی واسکٹوں نے اڑایا پیرس کا مزاق
?️ 21 نومبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی پیلی جیکٹ تحریک کے پہلے مظاہرے نومبر 2018 میں ایندھن
نومبر
روس اور چین: امریکی گولڈن ڈوم منصوبہ غیر مستحکم ہو رہا ہے
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں: عالمی تزویراتی استحکام کے بارے میں روس اور چین کے
مئی
صیہونی حکومت کو شدید ترین بحران کا سامنا ہے:امریکی اخبار
?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے بنجمن نیتن یاہو کو اس
مارچ
ہم صلح کے معاہدے سے صرف 10 فیصد دور ہیں: زیلینسکی
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین