صہیونی نسل پرستی سے مغربی منافقت تک؛ فلسطینی عوام آخر کب تک قیمت چکائیں گے؟

فلسطینی

?️

سچ خبریں:یورپ کا صہیونی حکومت کے نسل پرستانہ اقدامات کے حوالے سے منافقانہ رویہ بین الاقوامی قانون کو قتل گاہ پر لے آیا ہے اور اس کی قیمت فلسطینی عوام ادا کر رہے ہیں۔

غزہ میں صہیونی جارحیت اور مغربی ممالک کی دوہری پالیسیوں نے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یورپی ممالک کی خاموشی اور تل ابیب کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا سب سے بڑا خمیازہ فلسطینی عوام بھگت رہے ہیں۔

المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق یورپی اتحاد کے بیشتر ممالک غزہ میں صہیونی حکومت کی نسل کشی کے باوجود، اور یہاں تک کہ صمود ۲ عالمی بحری قافلے میں شریک یورپی شہریوں کی ایتمار بن گویر کی جانب سے کی گئی توہین و تحقیر کے بعد بھی تل ابیب کے خلاف کوئی فیصلہ کن مؤقف اختیار نہیں کر سکے ہیں۔

دنیا کے متعدد ممالک میں غصہ بڑھنے کے باوجود، جو غزہ جانے والے عالمی صمود قافلے کے کارکنوں کے خلاف صہیونی وزیر کے نسل پرستانہ رویے پر ظاہر کیا جا رہا ہے، یورپی اتحاد کے ممالک اس واقعے اور اس جیسے دیگر واقعات کو انفرادی رویہ قرار دینے پر اصرار کر رہے ہیں، گویا یہ صہیونی حکومت اور اس کے سیاسی نظام کی حقیقی فطرت کی نمائندگی نہیں کرتے۔

اسی جواز کی بنیاد پر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایسے نظام کے خلاف تادیبی اقدامات کی ضرورت نہیں، جو بن گویر کے رویے کو سرکاری پالیسی کے حصے کے طور پر قبول اور حمایت کرتا ہے۔

یورپی رہنما طویل عرصے سے اس تصور کو فروغ دیتے رہے ہیں کہ صہیونی حکومت مشرق وسطیٰ میں مشرقی آمریتوں کے درمیان ایک جمہوری نظام ہے اور اسے مغربی آزاد جمہوری ثقافت کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تل ابیب کو ہمیشہ مغربی ممالک کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل رہی ہے اور دفاع کے حق کے نام پر اسے فوجی اور سیاسی برتری قائم رکھنے اور دوسروں پر طاقت کے استعمال کی اجازت دی جاتی رہی ہے۔

غزہ میں صہیونی نسل کشی کے آغاز کے بعد بھی مغربی رہنماؤں نے تل ابیب کی غیر مشروط حمایت ترک نہیں کی۔ اگرچہ انہوں نے زبانی طور پر فلسطینیوں کے حق میں بیانات دیے، لیکن عملی طور پر صہیونی حکومت کی حمایت جاری رکھی اور اسرائیل کے ساتھ اپنے اعلانیہ اور خفیہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔

مغربی رہنماؤں کے یہ جواز ایسے وقت میں سامنے آتے ہیں جب بعض صہیونی ذرائع ابلاغ بھی ان رویوں کو ناقابل دفاع قرار دیتے ہیں۔ صہیونی چینل بارہ کے شعبہ خارجہ کے مدیر آراد نیر نے صہیونی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ پرتشدد فریق بن چکا ہے اور ایک سلسلہ وار قتل کرنے والی حکمرانی رکھتا ہے۔

اس کے باوجود مغرب اسرائیل کے حوالے سے اپنے روایتی نرم رویے میں تبدیلی سے گریز کر رہا ہے۔

یہاں تک کہ جب یورپی اتحاد، مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کے باعث صہیونی شخصیات پر پابندیوں کے امکان پر غور کر رہا تھا، تو پولیٹیکو کی ایک رپورٹ نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ اور داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے نام ممکنہ پابندیوں کی فہرست سے نکال دیے گئے تھے۔

یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپ نے انتہا پسند صہیونی شخصیات کے خلاف عملی اقدامات سے پسپائی اختیار کی ہے۔

یورپی ممالک کی نرمی کے سائے میں صہیونی حکومت اپنے بے لگام رویوں پر بدستور قائم ہے، جس نے مغربی رہنماؤں کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور انہیں اپنی عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یورپی اتحاد آج ایک غیر معمولی اخلاقی اور سفارتی بحران سے دوچار ہے، کیونکہ وہ اپنے شہریوں کے خلاف صہیونی جرائم کی مذمت کرنے کا عادی نہیں۔ اسی لیے وہ تمام الزامات ایتمار بن گویر پر ڈال کر صہیونی حکمرانی کو ان رویوں سے بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

سرکاری یورپی سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کے مؤقف کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بن گویر کے رویے کو صہیونی کابینہ کی سرکاری پالیسی سے جوڑنے پر آمادہ نہیں۔

وہ دوہرے معیار اور منافقانہ رویوں کے ذریعے صہیونی حکومت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور فوجی، تجارتی اور سائنسی شعبوں میں اس کے ساتھ اپنی تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

یورپی ممالک نے بن گویر کے اقدامات کی مذمت میں جلد بازی کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگرچہ وہ صہیونی انتہا پسند دائیں بازو کے اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن ان کا رویہ محض ایک انفرادی انحراف ہے اور صہیونی کابینہ کی عمومی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔

بن گویر کے نسل پرستانہ رویے پر عالمی غصے کے سامنے یورپی اتحاد کے پاس بظاہر سفارتی مخالفت کا ایک منظر نامہ ترتیب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ اسی تناظر میں صہیونی سفیروں کی سرزنش اور بن گویر کے داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

یہ محدود اور کمزور اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ یورپ صہیونی حکومت کے جرائم پر حقیقی احتساب اور مؤثر پابندیوں سے گریز کرتا ہے۔ اس سلسلے میں کیے جانے والے بیشتر اقدامات دراصل عالمی غصے کو کم کرنے کے لیے ایک سفارتی ڈرامہ معلوم ہوتے ہیں۔

المیادین نے آخر میں زور دیا کہ یہ تمام فریقوں کے لیے ایک مفاداتی معادلہ بن چکا ہے۔ یورپی اتحاد بظاہر نسل پرستانہ رویوں پر غصے کا اظہار کرتا ہے، صہیونی کابینہ بن گویر کے اقدامات کو حکومتی پالیسی سے الگ قرار دے کر اپنی نام نہاد جمہوریت کا دعویٰ دہراتی ہے، جبکہ ایتمار بن گویر اس نمائشی مہم کے ذریعے صہیونی انتہا پسند حلقوں میں مزید طاقت حاصل کر لیتا ہے اور خود کو یہودی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اور اس تمام صورتحال میں، فلسطینی عوام ہی یورپ کی منافقت اور صہیونی حکومت کے تکبر کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کی طاقت اور بیجنگ واشنگٹن تعلقات پر اس کے اثر

?️ 25 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کے ریپبلکنز کے لیے نیا سال اس ملک کے

برطانوی ڈاکٹر فلسطینیوں سے یکجہتی کے جرم میں  معطل

?️ 15 ستمبر 2025برطانوی ڈاکٹر فلسطینیوں سے یکجہتی کے جرم میں  معطل برطانیہ کی نیشنل

پنجاب سے 1336 غیرملکی ڈی پورٹ، 2772 افغان باشندرے ہولڈنگ سینٹرز منتقل

?️ 6 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) غیرقانونی غیر ملکیوں کے خلاف مہم کے دوران پنجاب

ہم اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

?️ 25 جولائی 2026سچ خبریں: ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے قرقیزستان میں

صیہونی حکومت کا نئی پناہ گاہوں کی تعمیر کا فیصلہ 

?️ 21 جون 2025 سچ خبریں: اسرائیلی کابینہ نے وزارت دفاع اور ہوم فرنٹ کمانڈ

کہا جاتا ہے اسرائیل حقیقت ہے، تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 1 مئی 2024لاہور: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن

برطانوی اپوزیشن کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کرانے کی درخواست

?️ 12 جون 2023سچ خبریں:اپوزیشن لیبر پارٹی کے رہنما نے سابق وزیر اعظم بورس جانسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے