ایران کے خلاف جنگ پر عالمی ذرائع ابلاغ کا ردعمل؛ امریکہ اور مغرب کے خلاف نفرت کی نئی لہر

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس کارروائی کے اعلانیہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے بلکہ حملہ آور فریقوں کے لیے تزویراتی تعطل اور عسکری و سیاسی ناکامیوں کے بڑھتے ہوئے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ میں جنگ کے سیاسی، عسکری اور انسانی اثرات پر وسیع بحث جاری ہے۔ مغربی، عرب، روسی اور چینی ذرائع ابلاغ نے خطے میں بدلتی طاقت کے توازن اور سفارتی امکانات پر مختلف تجزیے پیش کیے ہیں۔

یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور معصوم شہریوں، حتیٰ کہ بے گناہ طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سلامتی اور اقتصادی پہلوؤں میں وسعت اختیار کر گئی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف ردعمل کا سبب بنی۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی حاصل ہوئی اور بعد ازاں اسے ٹرمپ کی جانب سے توسیع بھی دی گئی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک پہنچنے کے لیے ابھی ایک پیچیدہ راستہ باقی ہے۔

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے مخصوص زاویہ نگاہ سے اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے۔ ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورت حال اور اس کے مستقبل کے امکانات کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ

بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں تازہ ترین عسکری اور سفارتی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کے نئے فضائی حملوں اور بیس علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات کے ساتھ ہی ایران اور پاکستان کے حکام نے امن معاہدے کے غیر معمولی قریب پہنچنے کی خبر دی ہے۔

اس ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، جن کا ملک مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور اس کی حتمی شکل شاید آئندہ چوبیس گھنٹوں میں سامنے آ جائے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی بہت زیادہ امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے کو شامل کیا جائے گا، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو بعد کے مراحل کے لیے موخر کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اب ماضی کی طرح نہیں ہوگا اور ایران کی جانب سے گزرگاہ کے حق سے متعلق مطالبات کا بھی ذکر کیا۔

بی بی سی کے مطابق، ٹرمپ نے حملے کی دھمکی کے چند گھنٹوں بعد اس کے منسوخ ہونے اور ایک بہترین معاہدے تک پہنچنے کا اعلان کیا، لیکن بعد میں ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی معاہدے کی تفصیلات کو حقیقت سے مکمل طور پر غیر متعلق قرار دیا۔

امریکی حکام نے ایک پریس کانفرنس میں زور دیا کہ ایران کو پیشگی کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی اور پابندیوں میں نرمی اور اثاثوں کی رہائی مرحلہ وار اور تصدیق شدہ اقدامات کی بنیاد پر ہوگی۔

یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ محتاط خوش بینی کے باوجود حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی کچھ فاصلہ باقی ہے۔

عرب اور علاقائی ذرائع ابلاغ

الشرق الاوسط نے ایک تجزیہ میں غزہ جنگ کے بعد امریکہ اور مغرب کے خلاف بڑھتی نفرت کی لہر کا جائزہ لیا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق، یہ احساسات صرف عوام تک محدود نہیں رہے بلکہ بائیں بازو اور سیکولر دانشور بھی مغرب کے سخت ناقد بن چکے ہیں۔

اس نقطۂ نظر کی جڑیں مستشرقانہ فکر پر ہونے والی تنقید میں پائی جاتی ہیں، جسے ایڈورڈ سعید جیسے مفکرین نے فروغ دیا۔ اگرچہ سعید کے نزدیک استعمار اور روشن خیالی کی اقدار کے غلط استعمال بحرانوں کا سبب تھے، تاہم ان کے بعض پیروکار مغربی روشن خیالی کی بنیادی اقدار ہی کو عالمی بحرانوں کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں۔

تجزیہ نگار نے مغربی دائیں بازو کے ابھار، تہذیبوں کے تصادم کے نظریے اور دہشت گردی کے خلاف جنگوں کو بھی مغرب کے بارے میں بدگمانی بڑھنے کی وجوہات قرار دیا ہے۔

تجزیہ کے مطابق، مغرب کے ناقدین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشرق وسطیٰ کے بیشتر بحرانوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

تجزیہ نگار نے مارک لنچ کی کتاب امریکی مشرق وسطیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مغربی مداخلتوں اور مقامی عوامل نے مل کر خطے کے متعدد ممالک کی تباہی میں کردار ادا کیا اور مغرب کی اخلاقی ساکھ کو کمزور کیا، اگرچہ وہ اب بھی عالمی ہجرت کا اہم مرکز ہے۔

المیادین نے اپنے ایک تجزیہ میں لکھا کہ علاقائی جنگ اگرچہ رسمی طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن عملی طور پر ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کی عسکری اور سیاسی صلاحیتیں بڑی حد تک استعمال ہو چکی ہیں اور اس کے طویل ہونے کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔

تجزیہ نگار کے مطابق، جنگ کے نتائج میں بنیادی تبدیلی کی گنجائش اب محدود ہو چکی ہے اور امریکہ، ایران اور اسرائیل سمیت تمام فریق بتدریج مذاکرات، مفاہمت اور سیاسی سمجھوتے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اس تناظر میں واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلاف بھی دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے، جبکہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت جنگی ماحول برقرار رکھنے کی خواہاں نظر آتی ہے۔

رأی الیوم نے اپنے تجزیے میں استدلال کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ صورتحال ایک ہمہ گیر جنگ کی علامت نہیں بلکہ تصادم کے قواعد اور بازدارندگی کے توازن کی نئی تشکیل کی کوشش ہے۔

تجزیہ نگار نے کارل فون کلاوزویتس کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ دراصل سیاست کا دوسرے ذرائع سے تسلسل ہے، لہٰذا حالیہ عسکری کارروائیوں کو سیاسی اور تزویراتی مقاصد کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔

تجزیہ نگار کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کے حملے اپنے اعلانیہ سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ ایران نے اپنے مخالفین پر لاگت مسلط کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنے کا مظاہرہ کیا ہے۔

چین اور روسی ذرائع ابلاغ

راشا ٹوڈے عربی نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں کمی یا اس پر نظرثانی پر غور کر رہا ہے، جو بعض تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ممکن ہے کہ امریکی افواج ان فوجی اڈوں سے نکل جائیں جو فروری کے اواخر سے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

گلوبل ٹائمز چین نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران اور امریکہ ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ چکے ہیں، تاہم جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ایران اور امریکہ کے درمیان مختصر مدتی معاہدے کے امکانات اسی سے پچاسی فیصد تک قرار دیے ہیں۔

چینی ماہرین کے مطابق، اگرچہ دونوں فریق جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بحری سلامتی جیسے معاملات پر مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچ چکے ہیں، لیکن جنگی ہرجانے، جوہری مواد کے انتظام، آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے موضوعات اب بھی حل طلب ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ممکنہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان تزویراتی اختلافات کا خاتمہ نہیں کرے گا، لیکن کشیدگی میں کمی، تنازعات کے خاتمے اور سفارتی عمل کے آغاز کے لیے ایک بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید قلت برقرار

?️ 26 اکتوبر 2025غزہ میں طبی شعبہ بدستور بحران کا شکار امدادی سامان کی شدید

ابوظبی پورٹس کے ساتھ انفرااسٹرکچر کے معاہدے، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

?️ 9 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور ابوظبی پورٹس گروپ نے ریل،

فلاڈیلفیا میں فائرنگ ؛ 10 افراد زخمی

?️ 8 نومبر 2022سچ خبریں:امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از

افغانستان میں خوراک کا ذخیرہ ختم ہونے والا ہے:اقوام متحدہ

?️ 2 ستمبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ

اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری نتن یاہو پر ہے

?️ 18 اکتوبر 2025اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری نتن

افغانستان سے آپریٹ ہونے والے دہشتگردوں کو کھلی چھٹی حاصل ہے، وزیر اعظم

?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ

 فلسطینی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ثالث ممالک سے بات چیت جاری ہے:حماس

?️ 11 اکتوبر 2025 فلسطینی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ثالث ممالک سے بات چیت جاری

کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت حقیقت نہیں بدل سکتا، دہشتگردی بند کرے: پاکستان

?️ 25 اکتوبر 2025نیویارک: (سچ خبریں) اقوام متحدہ میں پاکستان نے بھارتی الزامات پر جواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے