پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر دوسرے جائزے کے لیے تیار ہیں، آئی ایم ایف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد وہ پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے دوسرے جائزے کے لیے تیار ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے صحافیوں کو بتایا ’فی الحال توجہ موجودہ اسٹینڈ بائی اریجمنٹ کی تکمیل ہے جو اپریل 2024 میں ختم ہوگا، ہم نئی حکومت کے ساتھ کلی معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پالیسیوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 11 جنوری کو پاکستان کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کی منظوری دی تھی، اب تک پاکستان کو تقریباً ایک ارب 90کروڑ ڈالرز موصول ہوچکے ہیں۔

اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا ہے، یہ بالخصوص آبادی کے کمزور طبقات کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔

نگران حکومت کی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے ڈائریکٹر کمیونیکیشن نے مالی اہداف، سماجی طبقات کے تحفظ اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی کے لیے نگران حکومت کے عزم کی تعریف کی۔

انہوں نے توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے ٹیرف میں بروقت ایڈجسٹمنٹ کا بھی اعتراف کیا۔

سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے سوال کے جواب میں جولی کوزیک نے سیاست پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، اس کے بجائے انہوں نے نئی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے آئی ایم ایف کے عزم کا اظہار کیا اور پاکستان کے عوام کے فائدے کے لیے استحکام کو فروغ دینے کے بارے میں امید ظاہر کی۔

گزشتہ ماہ 23 فروری کو آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی خوشحالی یقینی بنانے اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا، جب تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا تھا کہ عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھا جائے گا، جس میں کہا جائےگا کہ جتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی وہاں آڈٹ کرایا جائے۔

بیرسٹر علی ظفر نے بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے خط آئی ایم ایف کو جاری کیا جائے گا، آئی ایم ایف، یورپی یونین اور دیگر آرگنائزیشن کا اپنا ایک چارٹر ہے، ان کا چارٹر کہتا ہے ملک میں اسی وقت وہ کام کی اجازت، قرض دیں گے جب گڈ گورننس ہو، گڈ گورننس کی اہم شق یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہو، جس ملک میں جمہوریت نہیں وہاں بین الاقوامی ادارےکام کرنا پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا نے دیکھا لوگوں کا مینڈیٹ رات کے اندھیرے میں چوری ہوا، اگر الیکشن فری اینڈ فیئر نہیں ہوئے تو کوئی بھی ادارہ قرض نہیں دے سکتا، جو قرضہ دیا جائے گا عوام پر بوجھ بڑھے گا۔

مشہور خبریں۔

صہیونی شمالی غزہ سے ذلت کے ساتھ واپس

?️ 13 جنوری 2025سچ خبریں: القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے آج ایک مختصر

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 92 فیصد کم ہو گیا

?️ 22 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل دوسرے مہینے ستمبر

ججز کو ترقی یا ذاتی فائدے کیلئے طاقتوروں کی نہیں بلکہ آئین کی زبان بولنی چاہیئے، جسٹس منصور

?️ 18 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی

ہم مزاحمت کے میزائلی جواب کے منتظر ہیں

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل 14 کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی

الیکشن سے متعلق بانی پی ٹی آئی کا قوم کے نام پیغام

?️ 30 جولائی 2024سچ خبریں: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے کہا

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی، دوران حراست ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

?️ 30 جون 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت

سیاسی جماعتوں کی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت پر تنقید

?️ 17 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سیاسی جماعتوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا

جرمن سیاست دان: ایران پر فوجی حملے نے اس ملک کے عوام کو مزید متحد کر دیا

?️ 26 مارچ 2026سچ خبریں: جرمن سیاست دان اور ملکی پارلیمنٹ کے سابق رکن نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے