وزیر اعظم کا افغانستان کے  مسئلہ کو مل کر حل کرنےکا مطالبہ

وزیر اعظم کا مسلمانوں کو نبی کریمؐ کی زندگی اور تعلیمات کو سمجھنے پر زور

?️

دوشنبے (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں 20 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈ آف اسٹیٹ کے سربراہی اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور افغانستان کے مسئلہ کو مل کر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی تعاون تنظیم کےسربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینٹرل ایشیا اور خطے کی صورتحال پر اظہارخیال کیا اور کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کی میزبانی پرتاجکستان صدر کے مشکورہیں۔

تجارت، سرمایہ کاری، اور روابط کے فروغ کیلئے تنظیم اہم پلیٹ فارم ہے،ہمیں خطے میں عالمی چیلنجز کا سامناہے اور ہم نے ملکر ان مسائل سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے پر عالمی حدت ،ماحولیاتی تبدیلی کےمنفی اثرات مرتب ہوئے۔ ہم نے بہتر ماحول کے فروغ کے لیے شجرکاری مہم شروع کی۔ہم نے ملک کے ہر اس حصے میں پودے لگائے جہاں سبزہ نہیں تھا۔ شجرکاری مہم کو دنیا کے مختلف ممالک میں سراہاگیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گرد ی کے خلاف جنگ میں 80ہزارسےزائد جانیں قربان کیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان پہنچا۔ افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کی حقیقت دنیا کو تسلیم کرنا ہوگی۔

ہم نے افغانستان کے حوالے سے ہمیشہ یکساں مؤقف رکھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں، پاکستان ایک پرامن اور مستحکم افغانستان میں اہم دلچسپی رکھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑا نہیں جاسکتا۔

وزیراعظم عمران خان تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں 20 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کونسل آف ہیڈ آف اسٹیٹ کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ زدہ ملک کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔

عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،افغانستان کوتنہا چھوڑا گیا تو مختلف بحران ایک ساتھ جنم لیں گے۔ خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستا ن پر امن افغانستان کا خواہاں ہے۔ پاکستان افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتاہے۔ پاکستان سمجھتا ہے افغان عوام اپنے فیصلے خود کریں ۔ افغانستان میں موجودہ صورتحال میں عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ افغان حکومت بنیادی طور پر غیر ملکی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے پناہ گزین کو تحفظ چاہئیے ،جس کےلیے دنیا بھر کو آگے آنا ہوگا۔ افغانستان کو انسانی بحرا ن ،خوراک ،بنیادی اشیا اور دیگر چیلنجز کا سامناہے۔ مسئلہ کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم آزاد خود مختار فلسطین کی حمایت کرتے ہیں ۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا کو معیشت سمیت مختلف مسائل کاسامنا کرناپڑا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم سینٹرل ایشیا کے ممالک کے روابط کےلیے تعاون کو فروغ دیناچاہتےہیں۔

مشہور خبریں۔

لاپتا صحافی عمران ریاض 4 ماہ بعد بازیاب، بحفاظت گھر پہنچ گئے

?️ 25 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے

پاکستان سے ایک ہزار طلبہ کو زراعت کی جدید تربیت کیلئے یانگلنگ ایگریکلچرل بیس بھیجنے کا فیصلہ

?️ 9 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان سے سرکاری

آرمی چیف سے سعودی عرب کے معاون وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال

?️ 19 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے سعودی عرب

گلگت بلتستان میں ایپکس کمیٹی کا چینی شہریوں کی سیکیورٹی میں اضافے کا فیصلہ

?️ 6 جنوری 2023 گلگت بلتستان: (سچ خبریں) اعلیٰ سول اور عسکری حکام پر مشتمل سیکیورٹی

جرمنی میں حقوق نسواں؛اس ملک کی خواتین کیا کہتی ہیں؟

?️ 9 مارچ 2023سچ خبریں:تازہ ترین سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ

بادی النظر میں ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیا، جسٹس منصور علی شاہ

?️ 23 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت شوکاز

روس کے ہاتھوں ایک دن میں3 یوکرائنی جنگی طیارے تباہ

?️ 11 جون 2022سچ خبریں:   روس کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز اعلان کیا

کویت کا بین الپارلیمانی یونین سے اسرائیلی وفد کو نکالنے کا مطالبہ

?️ 20 مارچ 2022سچ خبریں:کویتی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بین الپارلیمانی یونین کے صدر سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے