نیب ترامیم کیس: ثابت کرنا ہو گا کہ ترامیم بنیادی حقوق کے خلاف ہیں یا نہیں، سپریم کورٹ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہے کہ نیب ترامیم کتنی ہی بری کیوں نہ لگیں مگر صرف یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ کیا نیب ترامیم سے متعلق بھارتی قانون کا حوالہ دیں گے.

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بھارتی قانون میں احتساب کے عمل کو بنیادی انسانی حقوق سے جوڑا گیا ہے، بھارت کے مطابق قانون کی بالادستی بھی بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کیا بھارت کا نیب جیسا قانون ہے،کیا نیب جیسے قوانین جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک میں ہیں اور اگر نیب قانون اچھا ہے تو اس سے ملک کو کتنا فائدہ ہوا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا نیب قانون سے حاصل ہونے والے فائدے پر کسی آزاد ادارے نے کوئی رپورٹ بنائی ہے، کیا نیب کی کارکردگی سے حاصل ہونے والے فائدے پر کوئی رپورٹ ہے۔

وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ عدالت کے تمام سوالات کا جواب تحقیق کر کے دوں گا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اگر سزا پر چھوٹ مل سکتی ہے تو کیا جرم کی شدت بھی کم کیی جا سکتی ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان نے نیب قانون میں خود بھی ترامیم کیں اور وہ خود ان نیب ترامیم کے ایک حصے کے مصنف ہیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کبھی یہ نہیں ہوا کہ ترامیم کرنے والا شخص خود بعد میں انہیں چیلنج کرے، عمران خان نے نیب ترامیم سے متعلق پارلیمنٹ میں بحث اور ووٹ میں حصہ نہیں لیا۔

وفاقی وکیل نے کہا کہ عمران خان کیسے مفاد عامہ کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت نیب ترامیم چیلنج کر سکتے ہیں،اگر عوامی مفاد تھا تو عمران خان نے نیب ترامیم پر پارلیمنٹ میں کوئی بل کیوں نہیں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ جو ان کو مناسب لگے وہ نہیں کر سکتے،عدالت قانونی نظائر کو دیکھے،عمران خان نے کہا کہ نیب ترامیم سے جرائم کا اثر ختم کیا گیا، نیب ترامیم کا ماضی سے اطلاق غلط ہے۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ ثبوت کا بوجھ استغاثہ پر ڈالنے سے ملزمان بری ہوں گے لیکن میں یہ ثابت کروں گا نیب ترامیم سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عدالت صرف یہ دیکھے گی کہ نیب ترامیم سے بنیادی حقوق کہاں متاثر ہوئے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترامیم کتنی ہی بری کیوں نہ لگیں مگر صرف یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہیں یا نہیں۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ نیب قانون میں دو بار ترامیم 2019، تین بار 2021 اور ایک بار 2022 میں ہوئیں۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 23 فروری تک ملتوی.

نیب ترامیم خیال رہے کہ رواں سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں 700 روزہ جنگ بھوک اور بربادی کے ہولناک اعداد و شمار

?️ 6 ستمبر 2025غزہ میں 700 روزہ جنگ بھوک اور بربادی کے ہولناک اعداد و

علی لاریجانی کے پاکستان دورے کے پیغامات کیا ہیں؟

?️ 2 دسمبر 2025سچ خبریں: ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے

غزہ کے راستے پر امن کارکن؛ "محاصرہ توڑنا چاہیے”

?️ 2 جون 2025سچ خبریں: سویڈش موسمیاتی تبدیلی کی کارکن گریٹا تھنبرگ اور 11 دیگر

ڈک چینی نے ٹرمپ کی طاقتوں کو ہموار کیا

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: گارڈین اخبار نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ڈک

افغانستان کے مختلف علاقوں کی جانب طالبان کی پیش قدمی جاری، ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کردیا

?️ 10 جولائی 2021کابل (سچ خبریں)  طالبان کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں پر

صیہونی عرب ممالک کے ساتھ ایک اور ملاقات کے خواہاں

?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی وزارت خارجہ

ہم فلسطین اور غزہ کیساتھ کھڑے ہیں: وزیر اعظم عمران خان

?️ 12 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)اسرائیلی دہشتگردی کیخلاف وزیراعظم عمران خان نے فلسطین اور غزہ

دودی خان نے راکھی ساونت کو انگوٹھی پہنادی

?️ 28 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی ماڈل و اداکار دودی خان کی جانب سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے