?️
سچ خبریں:فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق مسعود پزشکیان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے انکار ایران کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ جنگ کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں میں تہران کی حکمت عملی نمایاں ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نظرانداز کرنا ایران کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق تہران کی جانب سے اس صورت حال کی منصوبہ بندی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران نے جنگ کے فوجی، سیاسی اور اقتصادی تینوں پہلوؤں میں دور اندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔
رائے الیوم کے مطابق، خطے کے تزویراتی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے ایک تازہ تجزیہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی پیشکش مسترد کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کی پیشکش میں تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، ایک ہفتے کے لیے دشمنانہ کارروائیاں روکنے اور اس کے بعد آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل تھی۔
اس پیشکش میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کے بعد طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں شامل بعض نکات پر عمل درآمد بھی شامل تھا۔ ان میں ایران کی تمام بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، ایران کے منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثے آزاد کرنا اور ایران پر عائد تمام تیل کی پابندیاں ختم کرنا شامل تھا۔
عطوان نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کرنے کی شاید سب سے منطقی وجہ ایرانی صدر کی جانب سے انہیں پہنچنے والی سخت ضرب پر ان کا شدید غصہ ہے۔ پزشکیان نے سربراہانِ مملکت کی سطح پر ملاقات کی تجویز قبول نہیں کی، جو جنگ روکنے کے معاہدے کی راہ ہموار کرسکتی تھی۔
عطوان کے مطابق ایسی ملاقات ٹرمپ کو امن کے علمبردار کے طور پر پیش کرنے، ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کا کچھ حصہ بحال کرنے اور ریپبلکن جماعت کو ممکنہ انتخابی شکست سے بچانے میں مدد دے سکتی تھی۔ اس کے نتیجے میں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، یعنی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کی اکثریت برقرار رکھنے کی راہ بھی ہموار ہوسکتی تھی۔
عطوان نے لکھا کہ ٹرمپ کو ایرانی صدر سے اس ملاقات کی بہت امید تھی اور انہوں نے اپنی تمام امیدیں پزشکیان سے وابستہ کر رکھی تھیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ ملاقات ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں ٹرمپ کے سخت مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے ایک راستہ فراہم کرے۔
عطوان کے مطابق یہ وہ جنگ ہے جس میں امریکی حکومت اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ ان اہداف میں ایرانی حکومت کی تبدیلی اور ایران کے جوہری و میزائل پروگراموں کو تباہ کرنا شامل تھا۔
امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات پر موجودہ صورت حال کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عطوان نے لکھا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک نہ پہنچنا یا فوجی طور پر جنگ کا فیصلہ کن خاتمہ اور فتح حاصل نہ کرنا ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال آگے چل کر ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے اور مختلف سیاسی و اخلاقی الزامات میں ان کے خلاف مقدمات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
عطوان نے مزید کہا کہ امن معاہدے کا مطلب ایران کو رعایتیں دینا اور اس کی بیشتر یا تمام شرائط کو قبول کرنا ہوگا۔ ان شرائط میں سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ فوجی طاقت کے ذریعے ایرانی حکومت کو گرانے میں ناکامی کے بعد اس کی پوزیشن کو مزید مضبوط تسلیم کیا جائے اور آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول اور خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔
عطوان نے یاد دلایا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نقشے بھی جاری کیے ہیں اور اسے خلیج ٹرمپ کا نام دینے کی بات کی ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار کے مطابق ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بظاہر کم ہوتے جارہے ہیں جبکہ فوجی راستہ اختیار کرنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں اس راستے کا انتخاب کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ اسے اپنے لیے باقی رہ جانے والا واحد راستہ سمجھ سکتے ہیں۔
تاہم عطوان نے خبردار کیا کہ فوجی راستہ انتہائی خطرناک ہے اور اس کے نتائج یقینی نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ 7 ماہ کے دوران اس راستے کے استعمال کے نتائج توقع کے برعکس سامنے آئے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایران کی مزاحمت، ایرانی حکومت کی مضبوطی، جوہری پروگرام کا برقرار رہنا اور میزائل و ڈرون صلاحیتوں کا تسلسل اور مزید فروغ دیکھنے میں آیا ہے۔
تجزیہ میں کہا گیا کہ ایرانی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ فوجی راستہ اختیار کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اسی وجہ سے ایران نے اپنی تیاریوں کی سطح میں اضافہ کیا ہے اور جنگ کا جغرافیائی دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
عطوان کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کو صرف بحیرۂ عرب اور بحیرۂ احمر میں ہی نہیں بلکہ بحر ہند میں بھی نشانہ بنانے کی کوشش کرے۔ اس کے علاوہ تہران جنگ کے آغاز سے اب تک برقرار رکھی گئی اپنی تمام سرخ لکیروں کو بھی عبور کرسکتا ہے۔
عطوان نے اپنے تجزیہ کے اختتام پر کہا کہ مسعود پزشکیان کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے انکار اور عالمی سطح پر انہیں نظرانداز کرنا ایران کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول یہ ایک اشتعال انگیز اقدام تھا جس کی ایرانی حکمران اداروں نے محتاط منصوبہ بندی کی اور جو فوجی، سیاسی اور اقتصادی تینوں میدانوں میں طویل المدتی حکمت عملی اور دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے۔


مشہور خبریں۔
وفاقی حکومت نے مالیاتی انتظامات کو سخت کردیا
?️ 30 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے تمام سرکاری اداروں بشمول وزارتوں،
اپریل
امریکہ کی دریائے نیل تا فرات تنازعہ پر قابو پانے کے لیے جدوجہد
?️ 23 فروری 2026 سچ خبریں:مقبوضہ علاقوں میں تعینات امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے
فروری
استنبول کے میئر کی گرفتاری؛ اردگان کے زوال کا آغاز یا اقتدار کا استحکام؟
?️ 21 مارچ 2025 سچ خبریں:ترکی میں اکرم امام اوغلو کی گرفتاری صرف ایک قانونی
مارچ
صہیونیوں کا فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک؛سرایا القدس کی زبانی
?️ 16 فروری 2025 سچ خبریں:جہاد اسلامی کی عسکری شاخ سرایا القدس کے ترجمان ابوحمزہ
فروری
انتہا پسند صیہونی وزیر کا غزہ کے باشندوں سے متعلق عجیب دعویٰ؛ 90 فیصد افراد کی ہجرت پر رضامندی کا دعویٰ
?️ 4 ستمبر 2026سچ خبریں:صہیونی حکومت کے وزیر داخلی سلامتی ایتمار بن گویر نے دعویٰ
ستمبر
پرتشدد احتجاج: امریکی سینیٹ کی کمیٹی کا پاکستان میں کشیدگی کم کرنے پر زور
?️ 12 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) امریکی سینیٹ کی ایک بااختیار کمیٹی نے حکومت پاکستان
مئی
ہمارا مقصد ایران کو ستانا ہے:صیہونی حکومت
?️ 9 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے ایک ذریعے نے اپنے مبینہ بیانات میں ایران
فروری
پنجاب اور وفاق میں چوروں کی حکومت ہے یہ عمران خان کی ملاقات نہیں روک سکتے
?️ 23 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم
نومبر