?️
سچ خبریں: ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کے پاکستان کے اہم دورے نے ملک کے وزیر اعظم، صدر اور آرمی چیف سے ملاقاتوں کے ساتھ خطے میں توانائی، سلامتی اور ایران کے کردار کے بارے میں اہم پیغامات دیئے ہیں۔
یہ دورہ حالیہ مہینوں کے اہم ترین سفارتی واقعات میں شمار کیا جاتا ہے، جو ایک سرکاری ملاقات سے بالاتر ہو کر خطے، خاص طور پر جنوبی ایشیا کے لیے سلامتی، سیاسی اور اسٹریٹجک پیغامات لے کر آیا ہے۔ یہ دورہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دوروں کے تسلسل میں ہے، جو اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان تہران کی خارجہ پالیسی میں ایک خاص اور اسٹریٹجیک اہمیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں لاریجانی کی موجودگی اور پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقاتیں ایران کے اس عزم کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ایک ایسے ملک کے ساتھ تعلقات کا نیا باب کھولے جس کا خطے کی سلامتی کے مستقبل میں کردار ناقابل تردید ہے۔
پاکستان؛ ایران کا اہم مشرقی ہمسایہ
پاکستان ایران کے لیے محض ایک مشرقی ہمسایہ نہیں بلکہ عالم اسلام کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک ہے جو جنوبی ایشیا، افغانستان اور بحر ہند کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی سیاسی محل وقوع اور سیاسی و سلامتی کی صلاحیتیں اس ملک کو خطے میں استحکام کے قیام میں ایران کا قدرتی شراکت دار بناتی ہیں۔
اسلام آباد کے گردونواح میں موجود چیلنجز، جیسے افغانستان کی پیچیدہ صورت حال اور بھارت کے ساتھ تاریخی مسابقت، رکاوٹ نہیں بلکہ مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے راستے میں ایران کے تعمیری کردار کے لیے مواقع ہیں۔
لاریجانی نے اپنی ملاقاتوں میں واضح طور پر کہا کہ ایران پاکستان کو "قیمتی اور اسٹریٹجیک” سمجھتا ہے اور تہران اسلام آباد، کابل اور نئی دہلی کے درمیان پیچیدہ چیلنجوں کو حل کرنے میں مدد کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی مدد کے لیے "خالی چیک” جیسے الفاظ کا استعمال خطے کے واقعات کو منظم کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے میں ایران کی اصل طاقت اور صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
12 روزہ جنگ میں پاکستانی قوم کی حمایت کی قدر
اس دورے کا ایک اہم پہلو لاریجانی کا پاکستان کے علماء، دانشوروں اور مذہبی شخصیات سے ملاقات تھی۔ سپریم لیڈر کا پاکستانی عوام کو گرمجوشی سے سلام پہنچانے کا اعلان عوام، سرکاری میڈیا اور سوشل میڈیا نے بے مثال استقبال کیا۔
لاریجانی نے 12 روزہ جنگ میں شیعہ، سنی اور پاکستانی دانشوروں کی وسیع پیمانے پر حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس تعاون کی سطح نے ظاہر کیا کہ پاکستان میں ایران کی نرم طاقت اور سماجی اثر تاریخی، ثقافتی اور اعتقادی ربط کی بنیاد پر گہری ہے جو حکومتوں کی سیاسی سرحدوں سے بالاتر ہے۔
یہ سماجی حمایت دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی، مذہبی اور سماجی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک قابل اعتماد بنیاد فراہم کر سکتی ہے اور تہران۔اسلام آباد تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اسٹریٹجیک اثاثے کے طور پر کام کر سکتی ہے۔
توانائی کی سفارتکاری؛ ایران کی ممکنہ طاقت اور پاکستان کی اسٹریٹجیک ضرورت
ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن، جو بیرونی دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں برسوں سے رکی ہوئی ہے، لاریجانی کی گفتگو کا ایک اہم محور تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر رکاوٹیں نہ ہوتیں تو پاکستانی عوام اب ایران کی گیس استعمال کر رہے ہوتے، پاکستان کو توانائی کے مستقل ذریعے سے محروم کرنے میں بیرونی عوامل کا کردار واضح کیا۔
جب پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے، تو ایران بطور ایک بڑی توانائی کی طاقت اس ملک کا قدرتی شراکت دار ہے۔ اگر پاکستان پر بیرونی رکاوٹیں اور دباؤ کم ہو جائیں تو توانائی کے شعبے میں تعاون تہران۔اسلام آباد اسٹریٹجیک تعلقات کا بنیادی ستون بن سکتا ہے۔
ایران اور پاکستان؛ پائیدار مستقبل کے لیے سلامتی کا اشتراک
لاریجانی کی پاکستانی آرمی چیف سے ملاقات اس دورے کا ایک اور اہم پہلو تھی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں فوج خارجہ اور سلامتی پالیسیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری کا براہ راست اس ادارے کے ساتھ تبادلہ خیال اس لیے اہم ہے کہ تہران سلامتی اور بارڈر کے اشتراک کا نیا ماڈل قائم کرنا چاہتا ہے؛ ایسا ماڈل جو سرحدی خطرات پر قابو پانا، دہشت گرد انتہا پسند گروہوں سے نمٹنا اور مستحکم سلامتی کو مضبوط بنانا ممکن بنا سکتا ہے۔
اس کے درمیان خطے کے بحرانوں کو منظم کرنے میں ایران کی طاقت اور تجربہ نے تہران کو اپنے گردونواح میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد کھلاڑی بنا دیا ہے۔
ایران؛ ایک ایسی طاقت جو خطے میں امن منظم کر سکتی ہے
اپنے جغرافیائی سیاسی محل وقوع، بھارت، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بیک وقت تعلق، اور بحرانوں کو منظم کرنے اور خطے میں ثالثی کے طویل تجربے کی وجہ سے ایران ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو خطے میں امن قائم کرنے میں فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
لاریجانی کے دورے نے ظاہر کیا کہ تہران نہ صرف اس صلاحیت سے آگاہ ہے بلکہ اس طاقت کو استعمال کرنے کی ضروری عزم بھی رکھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے تسلسل سے جنوبی ایشیا کے معاملات میں ایران کا وزن بڑھ سکتا ہے اور خطے میں استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔
آخری بات
لاریجانی کے دورے کو ایران۔پاکستان تعلقات میں ایک اہم موڑ سمجھنا چاہیے؛ یہ دورہ جو پزشکیان اور قالیباف کے دوروں کے بعد ہوا، ایک واضح پیغام دیتا ہے: پاکستان ایران کے لیے اہم ہے، اور ایران خطے کی سلامتی اور امن میں زیادہ طاقتور اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس دورے کے سلامتی، سیاسی، ثقافتی اور توانائی کے پیغامات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوں گے؛ ایسا مرحلہ جس میں تہران اور اسلام آباد محض دو ہمسایہ شراکت دار نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کے قیام میں دو فیصلہ کن کردار ہوں گے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
رانا ثناءاللہ کا 9 مئی واقعات میں پی ٹی آئی پر بہت بڑا الزام
?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناءاللہ نے انکشاف
جولائی
اسرائیل کی تباہی کی نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں:سید حسن نصر اللہ
?️ 7 مارچ 2023سچ خبریں:حزب اللہ کے جنرل سکریٹری نے اس بات کی طرف اشارہ
مارچ
چین کا مسافر بردار طیارہ گر کر تباہ
?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:چین کا 133 مسافروں کو کومنگ سے گوانگ زو لے جانے
مارچ
مصر کے چرچ میں خوفناک آتشزدگی؛41 افراد ہلاک
?️ 15 اگست 2022سچ خبریں:مصری سکیورٹی ذرائع نے اس ملک کے ایک چرچ میں آگ
اگست
سینیٹ اجلاس: فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کے خلاف سینیٹرز کا احتجاج
?️ 15 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے
نومبر
حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے نیٹو ممالک کو امریکی ہتھیاروں کی ترسیل رک گئی
?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی تاریخ کے طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن نے نیٹو
نومبر
ہیرس کی ایران سے اپیل
?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:امریکی نائب صدر نے ایران پر صہیونی جارحیت کے حوالے سے
اکتوبر
ایک فلسطینی پر برف کا گولہ پھینکنے کے الزام میں مقدمہ
?️ 8 فروری 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 7 ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ
فروری