?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے آئندہ عام انتخابات رواں برس نومبر میں کروانے کا عندیہ دینے کے ایک روز بعد اپنے اتحادیوں کے ساتھ نگران سیٹ اپ کے قیام کے لیے مشاورت شروع کر دی۔
اسی حوالے سے ایک ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) کے سربراہ اور وزیر برائے انسداد منشیات نوابزادہ شاہ زین بگٹی سے ملاقات کی۔
یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل اتوار کو وزیراعظم نے لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔
سوشل میڈیا پر نگران وزیراعظم کے عہدے کے لیے ممکنہ امیدواروں کے طور پر کچھ بڑی شخصیات کے نام گردش کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور شاہ زین بگٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ متعلقہ وزارت سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی قمر زمان کائرہ نے گزشتہ روز کہا کہ وزیر اعظم نے عبوری سیٹ اپ کے قیام کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اتحادی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجا ریاض سے مشورہ کریں گے، جو پی ٹی آئی کے منحرف رہنما ہیں۔
’جیو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے زور دیا کہ کسی دوسرے شخص کے بجائے کسی سیاستدان کو ملک کا نگران وزیر اعظم بنایا جانا چاہیے۔
چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ حکومت آئندہ ماہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے قبل ملک کی باگ ڈور عبوری حکومت کو سونپ دے گی، اس کا مطلب ہے کہ ملک میں انتخابات کے انعقاد کے لیے نگران حکومت کے پاس 3 ماہ کا وقت ہوگا۔
قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لیے صرف کسی سیاست وزیرِ اعظم دان کے نام پر غور کیا جانا چاہیے، کسی جنرل، بیوروکریٹ، ٹیکنوکریٹ، صحافی یا کسی کارپوریٹ سیکٹر کے ملازم کو اس عہدے کے لیے مقرر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے کسی جج کا عہدہ خالی ہو جائے تو کیا مجھے اس پر تعینات کیا جا سکتا ہے؟
امکان ہے کہ وزیر اعظم آئندہ 2 روز میں حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ اگر حکومت 12 اگست (قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے) سے پہلے تحلیل وزیرِ اعظم ہوجاتی ہے تو انتخابات 90 روز کے اندر ہوں گے اور اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو الیکشن کمیشن 60 روز کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہوگا۔


مشہور خبریں۔
صیہونی بستیوں پر 180 راکٹ فائر
?️ 7 اگست 2022سچ خبریں:خبر رساں ذرائع نے غزہ کی صہیونی بستیوں میں خطرے کی
اگست
کیا امریکہ بحیرہ احمر میں اپنی چودھراہٹ دکھا سکے گا؟
?️ 13 اپریل 2024سچ خبریں: صنعاء کے ایک سرکاری عہدیدار نے غزہ پر قابضین کی
اپریل
عدت نکاح کیس: عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت
?️ 20 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں بانی
مارچ
امریکہ ترکی کے انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے:ترک وزیر داخلہ
?️ 14 مئی 2023سچ خبریں:ترکی کے وزیر داخلہ نے کہا کہ واشنگٹن اس ملک میں
مئی
اپنی جان پر مریضوں کو بچانے کو ترجیح دینے والے ڈاکٹر کی قید کا ایک سال
?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: قابضین کے وحشیانہ حملے میں کمال عدوان ہسپتال کے سربراہ
دسمبر
حالیہ غزہ جنگ کے بارے میں نیتن یاہو کے جھوٹے دعوے،صیہونی میڈیا کی زبانی
?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے عسکری تجزیہ کاروں میں سے ایک نے اس
مئی
بھارتی سرحد کے قریب چین کے فوجی ڈھانچے تشویشناک ہیں: امریکی جنرل
?️ 9 جون 2022سچ خبریں: جنرل چارلس فلن نے بدھ کے روز کہا کہ ہند
جون
چینی کی بڑھتی قیمت پر وزیر اعظم کا ردعمل
?️ 6 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے چینی کی بڑھتی قیمت
نومبر