لاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی تقاریر، بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف درخواست

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیمرا کی جانب سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر عائد کی گئی پابندی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ان کے وکلا محمد احمد پنجوتہ، اشتیاق اے خان اور حسان خان نیازی نے لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کے خلاف درخواست دائر کی۔

لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان نے پیمرا کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیمرا نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے نشریات پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا ہے جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

عمران خان نے پیمرا کی جانب سے ان کی تقاریر اور بیانات نشر کرنے پر عائد پابندی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا نے پیمرا آرڈیننس 2002 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ حکم جاری کیا ہے، نشریات پر پابندی عائد کرنا بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ پیمرا کے پابندی سے متعلق احکامات کالعدم قرار دینے کا حکم دیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز (5 مارچ) کو پیمرا نے عمران خان کی ریکارڈڈ اور لائیو تقاریر یا میڈیا ٹاک نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

پیمرا کی جانب سے تمام لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ عمران خان کے ریاستی اداروں کے خلاف ریکارڈ شدہ بیانات، براہ راست گفتگو یا پریس کانفرنس نشر نہ کریں۔

بیان میں کہاگیا تھا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اپنی تقاریر اور بیانات میں ریاستی اداروں پر مسلسل بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں اور اداروں اور اس کے افسران کے خلاف اپنے اشتعال انگیز بیانات سے منافرت پھیلا رہے ہیں جس سے امن عامہ کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

بعد ازاں پابندی کی خلاف ورزی پر پیمرا نے نجی ٹی وی اے آر وائی کا لائسنس منسوخ کیا تھا۔

پیمرا نے اپنے اعلامیے میں کہا تھا کہ اے آر وائی نیوز نے 5 مارچ کو رات 9 بجے کے خبرنامے میں عمران خان کی زمان پارک میں کی گئی تقریر نشر کی تھی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا تھا کہ اے آر وائی نے پابندی کے حکم کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ مواد نشر کیا۔

یاد رہے کہ 21 اگست 2022 کو پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے‘۔

نوٹی فکیشن میں ایک روز قبل عمران خان کی ایف-9 پارک اسلام آباد میں کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عمران خان ریاستی اداروں کے خلاف مسلسل بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، ریاستی اداروں اور افسران کے خلاف ان کے بیانات آرٹیکل-19 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

بعدازاں پابندی ہٹادی گئی تھی اور ٹی وی چینلز کو عمران خان کی تقاریر نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

الیکشن میں جس پارٹی کو بھی موقع ملے اسے سادہ اکثریت ملنی چاہیے، شہباز شریف

?️ 28 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے

دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر صیہونی حملے پر حماس کا ردعمل

?️ 2 اپریل 2024سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے دمشق میں اسلامی

شوبز شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے: مانی

?️ 5 جون 2021کراچی (سچ خبریں)پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف کامیڈین اداکار مانی نے کہا

عمران خان سے پرویز الہیٰ کی ملاقات کی اندرونی کہانی

?️ 1 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ

برطانیہ اور پاکستان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں

?️ 15 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستان کے وزیر تجارت اور برطانیہ کے نائب وزیر تجارت

اسرائیل کا چین کے خلاف اقدام؛کیا تل ابیب کی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے؟

?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں:اسرائیل نے چین کے خلاف اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے

وزیر اعظم نے فلسطین میں جاری اسرائیل جارحیت کی شدید مذمت کی ہے

?️ 9 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں )  تفصیلات کے مطابق وزیر اعطم عمران خان

کرزئی افغانستان سے باہر کیا کر رہے ہیں؟

?️ 20 دسمبر 2022سچ خبریں:افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بیرون ملک بعض افغان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے