سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کےخلاف فوری کارروائی سے متعلق درخواست خارج

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) میں ججز کے خلاف شکایت پر ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل کارروائی کرنے سے متعلق درخواست خارج کردی۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ججز کے احتساب سے متعلق اس درخواست پر 13 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

درخواست گزار نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے خلاف شکایت آنے پر فوری کارروائی شروع کرنے کے احکامات دینے کی استدعا کی تھی۔

تاہم یہ درخواست سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریٹائر ہونے کے بعد دائر کی گئی تھی جب کہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک شکایت زیر التوا تھی۔

سینئر وکیل حنا جیلانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ بدعنوانی کے الزام والا جج اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التوا شکایت کے باوجود ریٹائرمنٹ پر پہنچ جاتا ہے تو وہ سرکاری خزانے پر بوجھ ہے۔

تاہم جسٹس منیب اختر نے آج مذکورہ درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کردی۔

فیصلے میں ذکر کیا گیا کہ درخواست گزار کی شکایت ان ججوں سے متعلق ہے جن کے خلاف کونسل کے سامنے شکایت دائر کی گئی ہے لیکن وہ کونسل کی جانب سے رپورٹ صدر کو بھجوانے اور صدر کے اس پر فیصلہ کرنے سے قبل ہی ریٹائر یا مستعفی ہوجاتے ہیں، ایسی صورت حال میں شکایت ختم ہو جاتی ہے اور معاملہ کسی بھی طرح سے حل کیے بغیر ختم ہو جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ یہی وہ چیز ہے جس سے درخواست گزار پریشان ہیں اور اس معاملے میں پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ یہ صورتحال انصاف تک رسائی، اس کی محفوظ فراہمی اور درحقیقت عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس طرح کے حالات نے استثنیٰ کا تاثر پیدا کردیا ہے، ججز آئین کے مقرر کردہ پیرامیٹرز کے اندر مناسب جوابدہی سے محفوظ نہیں ہیں اور مکمل اور مؤثر احتساب کا تقاضا ہے کہ نشاندہی کی گئی صورتحال کو درست طریقے سے ٹھیک کیا جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک جج جو ریٹائر ہو چکا ہے یا مستعفی ہو چکا ہے وہ بھی آرٹیکل 209 کے دائرے میں آتا ہے اور اس کے عہدہ چھوڑنے کی تاریخ تک زیر التوا کوئی بھی شکایت اٹھائی جا سکتی ہے، اس پر غور کیا جا سکتا ہے اور کونسل کے ذریعے اس پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر کونسل یہ نتیجہ اخذا کرتی ہے کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے تو وہ شق (6) کے لحاظ سے صدر کو مطلوبہ رپورٹ دے سکتی ہے، جو اس کے بعد اس پر مناسب حکم جاری کرسکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ جیسا کہ واضح ہے کہ کونسل کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ ضروری رائے دے تو صدر کو رپورٹ کرے کہ جج کو عہدے سے ہٹا دیا جائے اور اس طرح کی رپورٹ پر صدر ایسا کر سکتا ہے، یوں کونسل اور صدر کے لیے واحد مجاز کارروائی غلط جج کو عہدے سے ہٹانا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو پھر شق (6) کا کوئی اطلاق نہیں ہو سکتا کیوں کہ یہ نتیجہ کسی ایسے جج کے لیے ناممکن ہے جو پہلے ہی ریٹائر یا استعفیٰ دے چکا ہو، اس لیے جو تجویز پیش کی جا رہی ہے وہ آئینی طور پر غلط ہے۔

بینچ کا کہنا تھا کہ کہ یہ واضح ہے کہ آئین ایک ایسے شخص کے درمیان فرق کرتا ہے جو متعلقہ وقت پر جج کے عہدے پر فائز ہوتا ہے اور وہ جو ماضی میں اس عہدے پر فائز رہا ہے اور آئین کا آرٹیکل 209 عہدے سے ہٹ جانے والے کے بجائے صرف عہدے پر موجود فرد پر لاگو ہوتا ہے۔

لہٰذا عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ معاملے کے کسی بھی نقطہ نظر پر آرٹیکل 209 کا اطلاق کسی ایسے شخص پر نہیں ہوتا جو اس عدالت یا ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائر یا مستعفی ہو چکا ہو۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے پیش کی گئی تجاویز نہ تو قابل عمل ہیں اور نہ ہی میرٹ پر ہیں چنانچہ یہ درخواست خارج کی جاتی ہے۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب سے دوستی کا مقصد ایران کے ساتھ محاذ آرائی ہے:نیتن یاہو

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نے سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ تعلقات

گوگل ،فیس بک اور ٹویٹر کے خلاف ٹرمپ نے کھٹکھٹایا عدالت کا دروازہ

?️ 8 جولائی 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اکاؤنٹس بند کیے جانے

چلی کے صدر کا اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ 

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: چلی کے صدر گابریل بوریک نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی

پی ٹی آئی نے سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کردیں

?️ 2 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت

امریکا دباؤ کے بجائے افغانستان کے ساتھ بات چیت کرے: طالبان

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:  طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی

ایران کا سخت جواب واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے فوجی جارحیت کو مہنگا بنا چکا ہے:برطانوی قلمکار

?️ 24 جنوری 2026سچ خبریں:برطانوی قلمکار روڈنی شیکسپیئر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی

اسحٰق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

?️ 4 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار

اضافی ٹیرف ڈیوٹیوں کے علاوہ لگایا گیا، امریکی ٹیرف سے ٹیکسٹائل صنعت میں تشویش کی لہر

?️ 3 اگست 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل صنعت نے امریکہ کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے