?️
سچ خبریں:برطانوی قلمکار روڈنی شیکسپیئر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی یقینی اور سخت جوابی صلاحیت نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے فوجی جارحیت کو انتہائی مہنگا اور خطرناک بنا دیا ہے، جس کے نتائج عالمی معاشی بحران تک جا سکتے ہیں۔
ایک برطانوی محقق نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی جارحیت کے بھاری اور فوری نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی عملی بازدارندگی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے فوجی آپشن کو نہایت پرخطر اور مہنگا بنا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ہے: ہیرس
لندن میں گفتگو کرتے ہوئے، برطانوی قلمکار روڈنی شیکسپیئر نے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم جوئی کے نتیجے میں ایسے سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہو سکتے ہیں جن میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا، آبنائے ہرمز میں خلل ڈالنا، اور امریکہ یا صہیونی رژیم کی مدد کرنے والی ریاستوں کے خلاف کارروائی شامل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال بالآخر عالمی معاشی نظام کے انہدام کے خطرے کو جنم دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب کا طویل المدتی اسٹریٹجک ہدف دراصل نیل سے فرات تک عظیم اسرائیل کے تصور کو آگے بڑھانا ہے، تاہم اس مرحلے تک پہنچنے سے قبل امریکہ اور اسرائیل خطے میں آمرانہ حکومتوں کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ حکومتیں جمہوری قوتوں کو کچلتی ہیں اور عوامی مطالبات کے سامنے مزاحمت کرتی ہیں۔
شیکسپیئر نے اسی تناظر میں بعض علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قیام کو بھی ان حکومتوں کی پشت پناہی کا ایک ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ان اڈوں کی موجودگی داخلی عوامی بغاوتوں کو روکنے کے لیے ایک بازدار کردار ادا کرتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے سے متعلق دعوؤں سے پسپائی کی وجہ بیان کرتے ہوئے شیکسپیئر نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ ایران کے یقینی اور بھاری جواب کی قیمت ہے۔ ان کے مطابق، حملے کا کوئی بھی منظرنامہ ایران کے ردعمل کے سامنے تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس ردعمل میں خطے میں امریکی اڈوں پر حملے، آبنائے ہرمز کی بندش، اور ہر اُس ریاست کے خلاف اقدام شامل ہو سکتا ہے جو اس جارحیت میں معاونت کرے، اور اس کے اثرات قلیل وقت میں عالمی سطح کے شدید معاشی جھٹکے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس انٹرویو کے ایک اور حصے میں، شیکسپیئر نے مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن کی تعیناتی کے تناظر میں امریکی فوجی طاقت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ حملے کے ذرائع نہیں بلکہ طیارہ بردار بحری جہازوں کی کمزوری ہے، کیونکہ یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے سامنے نہایت حساس اہداف ہوتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق، واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے اصل چیلنج حملے کے وسائل نہیں بلکہ جوابی کارروائی کے نتائج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے حملہ بی-۵۲ بمبار طیاروں، اسٹیلتھ بمبارز، یا آبدوزوں سے داغے گئے اسٹیلتھ ٹام ہاک میزائلوں کے ذریعے ہی کیوں نہ کیا جائے، ایران کا ردعمل اس کے دائرہ کار کو غیر معمولی حد تک وسیع کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عملی طور پر حملے کے تمام ممکنہ آپشنز موجود ہیں، لیکن فیصلہ کن عنصر یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ ایران کا ردعمل کسی بھی حملے کو ایک بڑی تباہی میں بدل سکتا ہے، جس کے کم از کم نتائج میں عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کی تنہائی شامل ہوگی۔
علاقائی ممالک پر ممکنہ حملے کے اثرات کے حوالے سے شیکسپیئر نے کہا کہ خطے کی بعض حکومتیں اندرونی طور پر انتہائی نازک حالات کا شکار ہیں اور عوامی رائے سے فاصلے کے باعث کسی بھی جنگ کے سماجی و سیاسی نتائج سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی خدشات ہیں جن کی بنیاد پر بعض علاقائی حکومتوں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ جنگ کی آگ داخلی احتجاج اور عدم استحکام کو ہوا دے گی۔
ایران کی دفاعی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے شیکسپیئر نے کہا کہ ایران کی اصل بازدار قوت اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت اور علاقائی و عالمی معاشی و سلامتی توازن پر اثرانداز ہونے کی قدرت میں مضمر ہے۔
انہوں نے بالخصوص آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچنے کے امکان کی طرف اشارہ کیا، اور ساتھ ہی اس کے خطے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر براہ راست اثرات کا بھی ذکر کیا۔
ناتو یا بعض مغربی ممالک کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں سوال کے جواب میں شیکسپیئر نے کہا کہ اگرچہ مغربی سیاسی اشرافیہ کے بعض حلقے تل ابیب کی حمایت کے خواہاں ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں مغرب کے اندر سیاسی اختلافات اور ناتو کے مستقبل پر بحث جیسے عوامل اس حمایت کو غیر یقینی بنا رہے ہیں۔
ایرنا کے مطابق، روڈنی شیکسپیئر ایک آزاد برطانوی محقق اور سیاسی معیشت و دوہرے معاشی نظام (Dual Economy) کے ماہر ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمبرج سے ماسٹرز ڈگری رکھتے ہیں اور برطانوی قانونی نظام میں وکیل بھی ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا ایران امریکہ جنگ ہو سکتی ہے؟امریکی صدر کا کیا کہنا ہے؟
انہوں نے برطانیہ کی مختلف جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے ہیں اور ایک عرصے تک انڈونیشیا کی ٹری ساکتی یونیورسٹی میں مہمان پروفیسر بھی رہے،ان کی نمایاں تصانیف میں دوہرا معاشی نظام اور نیا پیراڈائم اور انصاف تک سات قدم شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
نیتن یاہو کو مظاہرین کی آواز کیوں نہیں سنائی دیتی؟: وال اسٹریٹ جرنل
?️ 6 ستمبر 2024سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ اسرائیل میں ہونے
ستمبر
لبنان، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا حصہ ہے: وزیر سلام
?️ 12 مئی 2026 سچ خبریں: غسان سلامہ ، وزیر فرهنگ لبنان نے کہا کہ لبنان
مئی
ہم فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھی ہیں: امریکی سینیٹر
?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: امریکہ کی سیاسی جماعت طاقتور صیہونی لابی کی وجہ سے
جولائی
بیروت حکومت نے جنوب لبنان میں اسرائیلی موجودگی پر رضامندی ظاہر کی: نیتن یاہو
?️ 28 جون 2026سچ خبریں: بنیامین نیٹن یاہو، وزیراعظم صیہونی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ
جون
"نریندر مودی” کی مغربی ایشیا کے بحران کے بعد تجارتی استحکام اور توانائی کی حفاظت پر تاکید
?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں: ہندوستان کے وزیرِ اعظم نے مغربی ایشیا میں جاری پیش
مارچ
حماس کا اسرائیلی فوج سے معلومات اکٹھا کرنے کا نیا طریقہ
?️ 11 اپریل 2026سچ خبریں: غزہ میں جنگ شروع ہوئے دو سال سے زیادہ کا
اپریل
خیبر پختونخوا: ہنگو تھانے کی حدود میں 2 دھماکے، 4 افراد جاں بحق، 12 زخمی
?️ 29 ستمبر 2023ہنگو: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے شہر ہنگو کے دوابہ تھانے کی
ستمبر
خارجہ پالیسی کی کامیابی شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے سر ہے۔ طلال چوہدری
?️ 23 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا
دسمبر