خیبر پختونخوا کابینہ میں رد و بدل کا پھر امکان ہے

?️

خیبر پختونخوا(سچ خبریں) جب خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات کامران بنگش سے انڈپینڈنٹ اردو نے کابینہ میں بار بار ردوبدل کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ردوبدل ایک سیاسی ضرورت ہے جس میں ٹیم کی صلاحیتوں کو صحیح جگہ بروئے کار لانا مقصود ہوتا ہے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پچھلے تین سالوں میں وفاق اور خیبر پختونخوا کابینہ میں متعدد بار ردوبدل کیا جاچکا ہے، جب کہ اب خیبر پختونخوا میں ساتویں ردوبدل کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اسی سبب پی ٹی آئی کو کابینہ میں کثرت سے ردوبدل کرنے والی سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے، جس کو اپوزیشن، میڈیا اور عوامی حلقوں سے وقتاً فوقتاً تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

سینیئر سیاستدان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف میں زیادہ تر وزرا کی برطرفیاں اور ردوبدل اندرونی اکھاڑ پچھاڑ اور لابنگ کے تحت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مزید دو وزرا کو نکالے جانے کے اشارے دیے جارہے ہیں جن میں ایک کا تعلق سوات سے ہے، جب کہ دوسرے کے متعلق بتانے سے انہوں نے گریز کیا۔

نگہت اورکزئی نے بتایا کہ ہشام انعام اللہ خان اور قلندر لودھی کو نکالنے کے بعد ’مزید دو وزرا کو نکال کر چار وزرا کے لیے جگہ بنائی جارہی ہے جس میں ایک قلمدان سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے بھائی یا بیٹے کو سونپنے کا امکان ہے۔‘

انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پی ٹی آئی کے اب تک جتنے وزرا یہ کہہ کر مستعفی ہوئے کہ وہ اپنے حلقے پر توجہ دینا چاہتے ہیں، کو دراصل استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔

نگہت اورکزئی نے کابینہ میں کثرت سے ردو بدل پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسا کرنے سے نہ صرف ایک وزارت کا تمام انتظام اوپر سے نیچے تک درہم برہم ہوجاتا ہے بلکہ اس کا نقصان عوام کو بھی پہنچتا ہے۔

’ردوبدل اور برطرفیوں کے اس خوف کی وجہ سے کئی وزرا اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہے ہیں۔ وہ قوانین میں دلچسپی نہیں لیتے کیونکہ ان کو یہ احساس رہتا ہے کہ ہم کو اس وزارت سے چلے جانا ہے۔ میرے کئی اہم بِل اسی وجہ سے التوا میں پڑے ہیں۔‘

جب خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات کامران بنگش سے انڈپینڈنٹ اردو نے کابینہ میں بار بار ردوبدل کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ردوبدل ایک سیاسی ضرورت ہے جس میں ٹیم کی صلاحیتوں کو صحیح جگہ بروئے کار لانا مقصود ہوتا ہے۔

انہوں نے لابنگ اور وزرا کو ذاتی مفادات و خواہشات کی وجہ سے نکالنے یا اہم قلمدان سونپنے کو محض قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر لابنگ ہی معیار ہوتا تو انہیں تین اہم وزارتیں نہ ملتیں۔

’میں ورکر کلاس سے آیا ہوں۔ میری کوئی لابنگ نہ ہونے کے باوجود مجھے تعلیم، بلدیاتی حکومت اور اطلاعات کی وزارت سونپی گئی۔‘

مشہور خبریں۔

اس وقت شام کے ساتھ ترکی کی مفاہمت کا کیا مقصد ہے؟

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:    ترکی کی خارجہ پالیسی میں ایک سال پہلے سے

شمالی مقبوضہ علاقوں کی جانب چھ راکٹ فائر، اسکول بند

?️ 31 مئی 2026سچ خبریں: الجزیرہ نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی لبنان کے قصبے

وفاق سے رشتہ ایسا ہےکہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے: جسٹس منصور علی شاہ

?️ 2 جون 2024 لاہور: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور

امریکہ شام میں کیا دہشتگردیاں کر رہا ہے؛روس کی زبانی

?️ 22 جون 2023سچ خبریں:روسی صدر کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ ماسکو کے پاس

ایران میں سیکڑوں قیدیوں کی سزا میں کمی اور معافی

?️ 30 مارچ 2021سچ خبریں:ایرانی روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای کو متعدد قیدیوں کی

امریکی اور برطانوی حملوں کا یمن پر کیا اثر ہوا ہے؟نیویارک ٹائمز کی زبانی

?️ 14 جنوری 2024سچ خبریں: ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ یمن پر امریکی

5 سال سے کم عمر کے 1.1 ملین افغان بچے شدید غذائی قلت کے خطرے میں ہیں: یونیسیف

?️ 29 مئی 2022سچ خبریں:   اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسیف نے خبردار کیا

ٹرمپ ایران سے مذاکرات کے لیے دباؤ میں ہیں: نیویارک ٹائمز

?️ 28 اپریل 2026سچ خبریں:نیویارک ٹائمز کے مطابق، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی سپلائی چین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے