آبنائے ہرمز؛ ایران پر حملے کی امریکہ کے لیے اسٹریٹجک قیمت، توانائی سے مہنگائی اور 40 ٹریلین ڈالر کے قرض تک اثرات

ایران پر امریکی حملے

?️

سچ خبریں:ایران پر امریکی حملے کے معاشی اثرات واشنگٹن تک پہنچ گئے ہیں؛ توانائی کے جھٹکے، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، شرح سود اور 40 ٹریلین ڈالر سے زائد کے امریکی قرض نے حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ایران پر امریکی حملے کے نتیجے میں جنگ کی لاگت کا ایک حصہ اب امریکی معیشت کو بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے؛ توانائی کے جھٹکے اور مہنگائی سے لے کر فیڈرل ریزرو پر بڑھتے دباؤ اور 40 ٹریلین ڈالر سے زائد کے قرض تک، واشنگٹن کو اس فیصلے کے معاشی اثرات کا سامنا ہے۔

ایران پر حملے کے حوالے سے واشنگٹن کی بڑی غلطی شاید یہ تھی کہ اس نے جنگ کی لاگت کا اندازہ زیادہ تر فوجی میدان تک محدود رکھا اور امریکی معیشت کی مجموعی صورتحال پر کم توجہ دی۔

ابتدائی تصور یہ ہوسکتا تھا کہ ایران پر دباؤ محدود، قابو میں اور قابل انتظام رہے گا، لیکن آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے بحران نے ظاہر کردیا ہے کہ آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں جنگ صرف ان مقامات تک محدود نہیں رہتی جہاں میزائل گرتے ہیں۔

 جنگ کی لاگت اب ڈیزل کی قیمت، گیس کے معاہدوں، بحری جہازوں کے انشورنس پریمیم، امریکی ٹریژری بانڈز کی مارکیٹ، فیڈرل ریزرو کی شرح سود اور 40 ٹریلین ڈالر سے زائد کے امریکی قرض کی مالیاتی لاگت میں بھی ظاہر ہورہی ہے۔

اسی لیے حالیہ بحران کی شدت کو صرف روزانہ تیل کی قیمت سے ناپنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 95 ڈالر فی بیرل ہو یا 100 ڈالر سے تجاوز کر جائے، یہ صرف مسئلے کی پہلی سطح ہے۔ اصل اہم تبدیلی مارکیٹ کی تہہ میں رونما ہورہی ہے۔ آبنائے ہرمز کا جھٹکا خام تیل سے آگے بڑھ کر ریفائنڈ مصنوعات اور گیس تک پہنچ گیا ہے، جس نے نقل و حمل اور پیداوار کی لاگت بڑھانے کے بعد امریکہ میں مہنگائی اور پیسے کی قیمت کو بھی متاثر کیا ہے۔

خام تیل کی مارکیٹ میں بحران کو کسی حد تک کم کرنے کے ذرائع اب بھی موجود ہیں۔ عراق کی برآمدات میں اضافہ، مال برداری کے راستوں میں تبدیلی، دیگر سپلائرز کی اضافی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا اور طلب میں کمی، قلت کے ایک حصے کو پورا کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں شدید کمی لازماً برینٹ کی قیمت میں اسی تناسب سے دھماکہ خیز اضافہ نہیں کرتی۔ تاہم یہ نسبتاً سکون گمراہ کن ہوسکتا ہے، کیونکہ بحران کی اصل منتقلی اب خام تیل کے بجائے ڈیزل اور جیٹ فیول جیسی مصنوعات میں زیادہ نمایاں ہورہی ہے۔

امریکہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 5.820 ڈالر فی گیلن تک پہنچ جانا، تنازع شروع ہونے کے بعد اس میں تقریباً 55 فیصد اضافہ اور ڈیزل کے ریفائننگ مارجن کا 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرجانا ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف خام تیل کی قلت تک محدود نہیں رہا۔

ڈیزل براہ راست ٹرکوں، کان کنی، زراعت، صنعتی مشینری، کولڈ چین، تعمیرات اور صنعتی پیداوار کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے اس کی قیمت میں اضافہ خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیداواری لاگت اور صارفین کی قیمتوں تک منتقل ہوتا ہے۔

ممکن ہے کہ ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ کرتے وقت امریکہ کی دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت کو مدنظر رکھا ہو، لیکن اسٹریٹجک حماقت اسی بات کو نظر انداز کرنے میں ہے کہ تیل کا مالک ہونا اور توانائی کے جھٹکے سے محفوظ ہونا 2 مختلف چیزیں ہیں۔

 کسی ملک کے پاس خام تیل کے وسیع ذخائر ہوسکتے ہیں، لیکن اگر اس کے پاس مناسب ریفائنڈ مصنوعات، کافی ریفائننگ صلاحیت، محفوظ نقل و حمل کے راستے یا کھپت کے مراکز پر مناسب ذخائر نہ ہوں تو وہ قیمتوں کے جھٹکے سے پھر بھی متاثر ہوسکتا ہے۔

یہی منطق مائع قدرتی گیس کے بازار میں بھی واضح ہوگئی ہے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کی بعض گیس کھیپوں کو آبنائے ہرمز سے باہر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کرنا، عملی طور پر برآمدات کا سلسلہ برقرار رکھنے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے، لیکن سیاسی معیشت کے اعتبار سے یہ اس بات کی علامت ہے کہ بحران مزید گہری سطح میں داخل ہوچکا ہے۔

جب دنیا کی سب سے معیاری اور سرمایہ طلب توانائی کی تجارتی زنجیروں میں سے ایک کو جغرافیائی سیاسی رکاوٹ عبور کرنے کے لیے نقل و حمل کا طریقہ تبدیل کرنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ خطرہ اب صرف تیل کی قیمت کے چارٹ میں ظاہر نہیں ہورہا بلکہ تجارت کی لاگت کے پورے ڈھانچے میں سرایت کررہا ہے۔

 اضافی جہاز، مہنگا انشورنس، طویل تر سفر، پیچیدہ آپریشنز، زیادہ حفاظتی ذخائر اور قانونی خطرات، یہ سب بالآخر صارف یا سرمایہ کار کو منتقل ہونے والی لاگت ہیں۔

اسی لیے کھیپ کا گزر جانا اور تجارت کا معمول پر آ جانا ایک ہی چیز نہیں۔ اگر آبنائے ہرمز باضابطہ طور پر کھلی بھی ہو، لیکن وہاں سے گزرنے کے دوران ضبط کیے جانے، حملے، جرمانے یا انشورنس پریمیم میں اچانک اضافے کا خطرہ موجود ہو تو اقتصادی اعتبار سے یہ راستہ ایک معمول کے تجارتی راستے سے بنیادی طور پر مختلف رہے گا۔

یہیں سے ایران پر امریکی حملے کی اسٹریٹجک غلطی توانائی کے شعبے سے نکل کر امریکی مالیاتی پالیسی تک پہنچتی ہے۔

فیڈرل ریزرو کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس کا کوئی آسان حل نہیں۔ شرح سود میں اضافہ آبنائے ہرمز کو نہیں کھول سکتا اور نہ ہی ڈیزل کا ایک اضافی بیرل پیدا کرسکتا ہے، لیکن اگر توانائی کا جھٹکا مہنگائی کی توقعات، اجرتوں، خدمات اور اشیا کی قیمتوں تک منتقل ہوگیا تو مرکزی بینک بھی اسے نظر انداز نہیں کرسکتا۔

فیڈرل ریزرو اب 2 خطرات کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ سخت ردعمل، ایسے وقت میں جب لیبر مارکیٹ نرم ہورہی ہو، معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے، جبکہ بہت زیادہ تاخیر مہنگائی کو دوبارہ مضبوطی سے جڑ پکڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔

یوں ٹرمپ کے فیصلے نے مرکزی بینک کے سامنے ایسا مسئلہ رکھ دیا ہے جس کی بنیادی وجہ مالیاتی نہیں، لیکن اس کے اثرات براہ راست مالیاتی ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ فیڈرل ریزرو کے عہدیدار کرسٹوفر والر کے ان ریمارکس میں پوشیدہ ہے جن میں انہوں نے امریکی ٹریژری بانڈز کے سلامتی اور نقد پذیری کے امتیاز کے کمزور پڑنے کا ذکر کیا تھا۔

امریکی حکومت کئی دہائیوں سے ایک غیر معمولی فائدے سے لطف اندوز ہوتی رہی ہے۔ سرمایہ کار سلامتی، نقد پذیری اور ڈالر کی عالمی حیثیت کی وجہ سے کم منافع پر بھی امریکی ٹریژری بانڈز اپنے پاس رکھنے پر آمادہ رہتے تھے۔

اگر یہ تاریخی رعایت واقعی کم ہورہی ہے اور معیشت کی غیر جانب دار شرح سود بھی ساختی طور پر بلند ہورہی ہے تو امریکہ کو، آبنائے ہرمز کے بحران سے قطع نظر، سرمایہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ شرح سود ادا کرنا پڑے گی۔ ہرمز کے بحران نے صرف اس دباؤ کے وقت اور شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جو امریکی محکمہ خزانہ کے لیے انتہائی ناموزوں ہے؛ جب وفاقی قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، بجٹ خسارہ بدستور بڑا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، چپس اور بجلی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ حاصل کرنے میں ایک سنجیدہ حریف بن چکی ہیں۔

لہٰذا امریکی حکومت اب سرمایہ بازار میں کسی مقابلے کے بغیر نہیں۔ اسے اسی ڈالر کے حصول کے لیے مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جس کے خواہاں بڑی نجی کمپنیاں بھی ہیں۔

ایسی صورتحال میں آبنائے ہرمز کا بحران ایک خطرناک باہمی اثر کا چکر پیدا کرتا ہے: مہنگی توانائی مہنگائی کو زیادہ مستقل بناتی ہے؛ مستقل مہنگائی شرح سود میں کمی کی گنجائش محدود کرتی ہے؛ بلند شرح سود قرض جاری کرنے اور پرانے قرض کی تجدید کی لاگت بڑھاتی ہے؛ زیادہ شرح سود کی ادائیگی بجٹ خسارے کو بڑھاتی ہے؛ زیادہ خسارے کے لیے مزید بانڈز جاری کرنا پڑتے ہیں اور بانڈز کی زیادہ فراہمی کے لیے خریداروں کو راغب کرنے کی خاطر زیادہ منافع دینا پڑتا ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ امریکہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے؛ ایسا دعویٰ مبالغہ آمیز اور تجزیاتی اعتبار سے کم اہم ہے۔ اصل مسئلہ واشنگٹن کی آزادیِ عمل میں کمی ہے۔

ایک بڑی طاقت کا اندازہ صرف اس کے وسائل کے حجم سے نہیں ہوتا بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اگلے بحران میں وہ کتنے اضافی وسائل استعمال کرسکتی ہے۔

امریکہ کے اسٹریٹجک تیل کے ذخیرے کی صورتحال اس مسئلے کو مزید واضح کرتی ہے۔ بڑے پیمانے پر تیل جاری کیے جانے کے بعد یہ ذخیرہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی واشنگٹن آج کی غلطی کے اثرات کو قابو کرنے کے لیے اپنے کل کے معاشی ذخیرے کا ایک حصہ استعمال کررہا ہے۔

اس ذخیرے کی دوبارہ تعمیر بھی بغیر لاگت اور حدود کے ممکن نہیں۔ وینزوئلا کے بھاری خام تیل کے استعمال سے متعلق بحث نے ظاہر کردیا ہے کہ خام تیل کی تکنیکی خصوصیات، ریفائننگ صلاحیت اور لاجسٹک پابندیاں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ کسی بھی بیرل کو آسانی سے اس بیرل کا متبادل بنا دیا جائے جو ہنگامی ذخیرے سے نکالا گیا ہو۔

امریکہ کے پاس اب بھی 3 بڑے حفاظتی حصار موجود ہیں: وسیع داخلی تیل پیداوار، اسٹریٹجک ذخیرہ اور دنیا کی سب سے گہری مالیاتی مارکیٹ۔ ان میں سے کوئی بھی حصار ختم نہیں ہوا، لیکن اسٹریٹجک نکتہ یہ ہے کہ تینوں کی حفاظتی گنجائش کم ہوگئی ہے۔

امریکی شیل آئل چند ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کی ہر ممکنہ رکاوٹ کا ازالہ نہیں کرسکتا، ہنگامی تیل کا ذخیرہ ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہوچکا ہے اور امریکی محکمہ خزانہ بھی ضروری نہیں کہ قرض لینے کی لاگت میں پہلے جیسی تاریخی رعایت سے لطف اندوز ہو۔

ٹرمپ کے فیصلے کی حقیقی لاگت تیل کی قیمت میں چند ڈالر کے اضافے میں نہیں بلکہ اسی حفاظتی گنجائش میں کمی میں تلاش کی جانی چاہیے۔

اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جنگ کا خاتمہ بھی لازماً معاشی بحران کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ مارکیٹیں واقعات کو یاد رکھتی ہیں۔

 آبنائے ہرمز کے تجربے کے بعد شپنگ کمپنیاں زیادہ انشورنس پریمیم طلب کریں گی، توانائی کمپنیاں زیادہ محفوظ ذخائر رکھیں گی، خریدار متبادل راستے بنائیں گے، سپلائی چینز تحفظ کے لیے اپنی کچھ کارکردگی قربان کریں گی اور سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی خطرات قبول کرنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کریں گے۔

جنگ رک سکتی ہے، لیکن جنگی خطرے کا پریمیم توانائی، تجارت اور سرمایہ کی قیمت میں برقرار رہ سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ٹرمپ کی حماقت ایک فوجی کارروائی سے بڑھ کر اسٹریٹجک غلطی بن جاتی ہے، کیونکہ فوجی آپریشن کو تباہ کیے گئے اہداف کی تعداد سے ناپا جاسکتا ہے، لیکن حکمت عملی کو طاقت کے حتمی توازن سے جانچنا پڑتا ہے۔

اگر ایران پر حملے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ہی توانائی مہنگی ہوجائے، امریکہ میں مہنگائی مستقل رہے، فیڈرل ریزرو کی آزادیِ عمل کم ہوجائے، امریکی محکمہ خزانہ زیادہ شرح سود پر قرض لے، اسٹریٹجک ذخائر کم ہوجائیں اور خود واشنگٹن کے لیے طاقت استعمال کرنے کی لاگت بڑھ جائے تو کامیابی کو محض جنگی نقشے سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

اس بحران میں شاید سب سے اہم عدد 95 ڈالر فی بیرل تیل، 5.82 ڈالر فی گیلن ڈیزل یا حتیٰ کہ 40 ٹریلین ڈالر کا قرض بھی نہیں؛ اصل مسئلہ ان تمام عوامل کا بیک وقت موجود ہونا ہے۔

ایک تنگ آبنائے نے توانائی کے بحران کو مہنگائی، مہنگائی کو شرح سود، شرح سود کو قرض کی لاگت اور قرض کی لاگت کو امریکی خارجہ پالیسی کی صلاحیت سے جوڑ دیا ہے۔

ٹرمپ شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ ایران پر حملے کا اصل بل تہران کو ادا کرنا ہوگا، لیکن ایران کی مزاحمت اور جوابی کارروائی نے آبنائے ہرمز کے بحران کو اس بل کے ایک حصے کو واشنگٹن تک واپس پہنچانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔

یہ صورتحال جتنی طویل ہوگی، اس کی لاگت اتنی ہی کم ایک بیرل تیل کی قیمت اور زیادہ پیسے، قرض اور امریکی طاقت کی قیمت سے مشابہ ہوگی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی وزیر جنگ کی فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے ساتھ ملاقات

?️ 30 اگست 2021سچ خبریں:صیہونی وزیر جنگ نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ سے رام اللہ

دنیا کی دوتہائی فعال سیٹلائٹس ایلون مسک کے کنٹرول میں ہونے کا انکشاف

?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: (سچ خبریں) رواں ہفتے اسٹار لنک کے 7ہزار ویں سیٹلائٹ

نیب ترامیم کیس میں چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔

?️ 5 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نیب ترامیم سے

گٹر جماعت اور ذہنیت کے یو ٹیومر معاشرے کو ناسور کی طرح چمٹ گئے۔ عظمی بخاری

?️ 24 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے غلیظ جماعت اور

الیکشن کمیشن کے چیف کو استعفی دے دینا چاہیے:فواد چوہدری

?️ 11 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے

غزہ میں ۲۰۰ ہزار زخمیوں کا بحران، فوری طور پر باہر جانے کی ضرورت

?️ 22 فروری 2026سچ خبریں:غزہ میں ۲۰۰ ہزار زخمی اور بیماروں کے بحران پر عالمی

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ عراق، پاکستان،عراق کا دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

?️ 5 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے تین روزہ سرکاری

امریکہ یمن جنگ کو صیہونی مفادات کی طرف لے جارہا ہے:انصاراللہ

?️ 12 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان نے اس بات کی طرف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے