جب تک پاکستان کے اقتدار سے ان نااہلوں کو نکال باہر نہیں کرتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے:مولانا فضل الرحمٰن

فضل الرحمان

?️

(سچ خبریں)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے آج سرکاری ملازمین کو تنخوا دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور کہتے ہیں ہم لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، قوم کے سامنے جھوٹ بولتے ہو، دھوکا دیتے ہیں اور ایک ایک بات کو چاٹتے ہو اورمسخرہ بن گئے ہو انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کے اقتدار سے ان نااہلوں کو نکال باہر نہیں کرتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اسٹبلشمنٹ سے ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں اس کو مان کر قوم سے معافی مانگنی پڑے گی۔پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج حیدر آباد میں تاریخ کے فقیدالمثال جلسے پر سندھ دھرتی کے بھائیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عظیم الشان اجتماع اس بات کا پیغام ہے اور نہ صرف حکمرانوں کو آواز نہیں دی بلکہ دنیا کو جنجھوڑا ہے اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالکوں کو بتایا ہے کہ حکومتیں آپ کی وجہ سے عوام کے ووٹ سے بنیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہم پاکستان میں آزاد فضاؤں کو یکجا کرنے کے لیے نکلے ہیں، یہ تحریک اپنی منزل کو پہنچے گی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سمندر موجیں مار کر نہیں تھکتا اور سمندر کےاندر مچھلیاں تیرتی تیرتی نہیں تھکتی اور پاکستان کی سیاست میں ہمارا کارکن بھی اس وقت تک فعال رہیں گے جب تک یہ حکمران تھک نہیں جاتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عہد کیاہے کہ جب تک پاکستان کے اقتدار سے ان نااہلوں کو نکال باہر نہیں کرتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمران ناجائز راستے اور چور دروازے سے اقتدار میں آئے۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے یہ باتیں بھلی لگتی ہیں کہ ہمارے ملک کی اسٹبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہمارا سیاست سے تعلق نہیں ہے، ہم کب چاہتے ہیں کہ ہماری فوج سیاست میں ملوث ہو، ہم کب چاہتے ہیں کہ وہ دفاع کے علاوہ کوئی اور کردار ادا کرے لیکن کیا کریں غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کا ماننا پڑیں گی اور قوم سے معافی مانگنا پڑے گی، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے انتخابات کے نتائج تبدیل نہیں کیے اور عمران خان جیسے نااہل اور ان کی جماعت کو اقتدار نہیں دیا تو آپ نے اسی رات کیوں کہا کہ وتعز من تشاو تزل من تشا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ نے عزت و ذلت کے حوالے سے ان کو مبارک دی اور مجھے حیرت ہوئی جب کہا گیا کہ ہم نے تو دشمن کو شکست دی ہے، انتخابات پی ٹی آئی نے جیتے ہیں اور فتح کا اعلان آپ کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں اس کامیابی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم اپوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپ نے شکست دی ہے تو کس کو دی ہے، آپ نے فتح حاصل کی ہے تو کس کے مقابلے میں کی ہے، اگر آپ بھارت کو شکست دیں، سرحد پر پاکستان کے جھنڈے گاڑ دیں، اگر کشمیر کو بھارت کے پنجے سے آزاد کرالیں تو ہم آنکھوں کے پلکوں پر فوج اور جرنیل کو بیٹھانے کے لیے تیار ہیں لیکن بتایا جائے کہ فتح کس کے خلاف تھی اور یہ شکست کس کو دی گئی تھی’۔

صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ ‘آپ اگر پاکستان کے عوام کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں تو پھر واضح کردیجیے، آپ پاکستان کے عوام کو شکست دیتے ہیں تو آپ فتح کا اعلان کرتے ہیں، یہ سیاست نہیں چلے گی، ہم نے بزدلی کی سیاست نہیں دیکھی، ہم نے حق کی آواز بلند کی ہے اور بلند کرتے رہیں کہ تاوقتیکہ آئین کے مطابق تمام ادارے کام شروع نہ کردیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم آج جس محاذ پر ہیں، ہم اپنی رکاوٹیں جانتے ہیں، ہم جمہوریت کے راستے میں جو سنگ راہ اس کو سمجھتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں،ہمیں سیاست میں 40 سال ہوئے ہیں خدا کے لیے ہمیں سیاست کا اب ج مت سکھائیے، ہم پرائمری اسکول کے بچے نہیں ہیں کہ آپ ہمیں بلیک بورڈ پر اے بی سی اور اب ج پڑھائیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سیاست سیکھنی ہے، سیاست کے اصول جاننے ہیں تو پھر ہماری شاگردی کرنی ہوگی، ہمارے بغیر آپ کو سیاست نہیں آئے گی اور یہ یاد رکھیے کہ ہم نے کوئی کچی گولیاں نہیں کھائیں، ہم لڑنا جانتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم ملک کے آئین کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم اس قوم کی عزت و وقار اورحق کی جنگ لڑ رہے ہیں، قوم کے ووٹ کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں اورجب تک قوم کو اس کے ووٹ کا حق نہیں دلائیں گے آرام سے نہیں بیٹھیں گے اور ہماری پیش رفت چلتی رہے گی’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘آج سرکاری ملازمین کو تنخوا دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور کہتے ہیں ہم لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں دیں گے، قوم کے سامنے جھوٹ بولتے ہو، دھوکا دیتے ہیں اور ایک ایک بات کو چاٹتے ہو اورمسخرہ بن گئے ہو’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک منصوبے کے تحت ایسے لوگوں سے پاکستان کی پارلیمنٹ کو بھرا گیا کہ اگر یہ لوگ پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو اس بڑھ کر پارلیمنٹ کی بے توقیری نہیں ہوسکتی، جن کو حکومت، وزیراعظم کا منصب سپرد کردیا گیا اور کابینہ کے وزارتوں کے منصب جن کو دیا گیا، اس منصب کی اس سے بڑھ کر بے توقیری نہیں ہوسکتی جس طرح دو سال سے ہو رہی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج سینیٹ کے انتخابات کروائے جا رہے ہیں، جس طرح 2018 میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ملک کے انتخابات میں دھاندلی کرائی گئی، آج سینیٹ کے انتخابات میں دھاندلی کا بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، سمجھ میں نہیں آرہی ہے کیا کریں، کبھی آئین اور کبھی قانون میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘الیکشن کمیشن کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے جہاں ووٹ بیلٹ کاتصور ہوگا وہاں خفیہ کا تصور بھی ہوگا اور ہم ہاتھ اٹھا کر ووٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں، عدالت کا مسئلہ چلا گیا، عدالت کو امتحان میں ڈالا گیا’۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘میں آج بھی عدالت کو احترام فاضل جج صاحبان کے عزت و اکرام اور مقام کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرور استدعا کروں گا کہ اس مسئلے پر عدالت خود کو فریق نہ بنائے کیونکہ وہ خود کہہ چکے ہیں کہ آئین خاموش ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آئین جہاں بولتا ہے اور ابہام ہو تو پھر عدالت تشریح کر سکتی ہے لیکن اگر آئین خاموش ہے تو اس خاموشی کو سوائے پارلیمنٹ کے کوئی نہیں توڑ سکتا، اس کے لیے آئینی ترمیم لانی ہوگی، عدالت اس دھندوں میں نہ پڑے اور نہ ہی اپنے آپ کو ملک کی سیاست میں متنازع بنائے ان کا کہنا تھا کہ ‘آج جو کچھ کیا جا رہا ہے عدالتوں کے خلاف بھی مجھے عمران خان حکومت کی سازش لگتی ہے’۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آج پاکستان کی معیشت کا یہ عالم ہوگیا کہ غریب آدمی اپنے بچوں کو نہروں او دریاؤں میں پھینک رہے ہیں کیونکہ ان سے اپنے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جا رہی ہے، پاکستان کی سالانہ ترقی کی شرح صفر سے نیچے چلی گئی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘عمران حکومت کی بقا پاکستان کے خاتمے کی علامت ہوسکتی ہے اور ہم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے جزائر پر سندھ کے عوام، بلوچستان کے جزائر پر بلوچستان کے عوام کا حق ہے، کسی قیمت پر وفاق کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ان علاقوں کے جزائر پر قبضہ کر سکے، سندھ میں جو کمپنیاں آتی ہیں وہ چوکیدار تک بھی اپنے ملازم باہر سے لاتے ہیں کیا سندھی غریب کو حق حاصل نہیں کہ وہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کرے۔

صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ ہم سندھ کے غریب ہاری، غریب مزدور اور ملازم کی جنگ لڑیں گے اور ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے، ہم نے کچھ عزم کیا ہے اور اس کی طرف بڑھیں گے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ میں قطری وزیراعظم سے روبیو اور وٹکاف کی ملاقات

?️ 10 مئی 2026 سچ خبریں:امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ

محسن عباس حیدر کا نشئی شوبز شخصیات پر پابندی کا مطالبہ

?️ 31 جنوری 2025کراچی: (سچ خبریں) اداکار، گلوکار و ٹی وی میزبان محسن عباس حیدر

عراق میں امریکی فوجی مشن کا باضابطہ خاتمہ / اب مشیروں کے روپ میں موجودگی

?️ 23 جولائی 2021سچ خبریں:عراقی اور امریکی عہدیدار اس سال کے آخر تک مشیر کے

عمر ایوب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی

?️ 7 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب

پیوٹن نے ٹرمپ کے لیے اپنی شرط کا اعلان کیا 

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گذشتہ ہفتے امریکی ہم منصب

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 7.17 روپے مزید مہنگا ہو کر 262 روپے پر پہنچ گیا

?️ 27 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں گزشتہ روز ڈالر کی قدر

شہید السنوار کے شخصی محافظ ٹیم کے سربراہ کی شہادت 

?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: فلسطینی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے جنوب

کیپیٹل مارکیٹ کو ماحولیاتی پائیداری کیلئے متحرک بنانے کی منصوبہ بندی کا فیصلہ

?️ 27 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے کیپیٹل مارکیٹ کو ماحولیاتی پائیداری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے