?️
سچ خبریں:سی این این کی رپورٹ کے مطابق جیرڈ کوشنر کی سرمایہ کاری کمپنی صیہونی مالیاتی ادارے فینکس فنانشل کی سب سے بڑی حصص دار ہے، جبکہ اس ادارے نے صیہونی فوج کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے والی متعدد کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کوشنر جب غزہ جنگ سے متعلق مذاکرات میں کردار ادا کر رہے تھے، اسی دوران ان کی نجی سرمایہ کاری کمپنی اسرائیل کے ایک بڑے مالیاتی ادارے میں نمایاں حصص رکھتی تھی۔ اس مالیاتی ادارے نے اپنی سرمایہ کاری کا ایک حصہ ایسی کمپنیوں میں لگا رکھا ہے جو صیہونی فوج کے لیے سازوسامان اور ہتھیار فراہم کرتی ہیں۔
سی این این کی تحقیقات کے مطابق اس مالی تعلق نے کوشنر کی تجارتی سرگرمیوں اور ٹرمپ انتظامیہ میں ان کے سیاسی و سفارتی کردار کے درمیان ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات کو جنم دیا ہے۔
کوشنر کی کمپنی صیہونی مالیاتی ادارے کی سب سے بڑی حصص دار
جیرڈ کوشنر کی ملکیت والی سرمایہ کاری کمپنی افینٹی پارٹنرز صیہونی مالیاتی ادارے فینکس فنانشل کی سب سے بڑی حصص دار ہے۔
افینٹی نے 2024 میں فینکس کے 4.95 فیصد حصص 128.5 ملین ڈالر میں خریدے تھے۔ اس کے بعد جنوری 2025 میں، ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے چند روز قبل، اس نے اپنے حصص تقریباً دوگنا کر دیے اور فینکس کی سب سے بڑی حصص دار بن گئی۔
سی این این کی جانب سے ہزاروں مالیاتی دستاویزات کے جائزے کے مطابق، فینکس فنانشل نے کم از کم 9 ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے جو اسرائیل کو فوجی سازوسامان فراہم کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں فینکس کے حصص کی مجموعی مالیت 456 ملین ڈالر سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
اگرچہ افینٹی کے ان 9 کمپنیوں میں براہ راست حصص نہیں ہیں، تاہم فینکس کی سب سے بڑی حصص دار ہونے کی وجہ سے فینکس کی سرمایہ کاری کی قدر میں اضافہ افینٹی کے اثاثوں اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران ان تمام 9 کمپنیوں کے حصص کی قدر میں اضافہ ہوا، جبکہ ان میں سے متعدد کمپنیوں نے غزہ جنگ کے بعد اپنی مصنوعات کی طلب میں اضافے کی بھی اطلاع دی ہے۔
صیہونی فوجی صنعت میں سرمایہ کاری
فینکس کی ان سرمایہ کاریوں کا ایک نمایاں حصہ ان کمپنیوں سے متعلق ہے جو صیہونی فوج کے لیے فوجی سازوسامان تیار کرتی ہیں۔
ان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ایل بٹ سسٹمز میں ہے، جو اسرائیل کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی ہے۔ فینکس کے پاس اس کمپنی کے کم از کم 0.6 فیصد حصص ہیں، جن کی مالیت سی این این کی جانب سے جائزہ لیے گئے دستاویزات کے مطابق کم از کم 265 ملین ڈالر ہے۔
ایل بٹ نے گزشتہ ایک سال کے دوران صیہونی وزارت جنگ کے ساتھ کروڑوں ڈالر کے معاہدے کیے ہیں، جن میں فضائی استعمال کے لیے گولہ بارود، 155 ملی میٹر توپ کے گولے اور صیہونی فوج کے ٹینکوں کی جدید کاری سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔
اس کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد صیہونی وزارت جنگ کی جانب سے اس کی مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایل بٹ کے حصص کی قدر میں بھی 165 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
فینکس کی ایک اور نمایاں سرمایہ کاری نیکسٹ ویژن میں ہے، جس میں اس کے حصص کی مالیت 68 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ کمپنی فوجی ڈرونز میں استعمال ہونے والے کیمرے تیار کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد صیہونی صارفین کی جانب سے اس کے آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔
فینکس نے رشف ٹیکنالوجیز میں بھی کم از کم 40 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ کمپنی توپ کے گولوں میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک فیوز تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد صیہونی وزارت جنگ سے 165 ملین ڈالر مالیت کے آرڈرز ملنے کی اطلاع دی ہے۔
فینکس کے سرمایہ کاری پورٹ فولیو میں اسرائیل شپ یارڈز بھی شامل ہے، جو صیہونی بحریہ کے لیے فوجی کشتیاں تیار کرتی ہے، جبکہ اشوت اشکلون ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے لیے گیئر باکس اور دیگر نظام تیار کرتی ہے۔
فینکس نے امریکی کمپنیوں بوئنگ اور کٹرپلر میں بھی سرمایہ کاری کی ہے، جن کی مصنوعات صیہونی فوج کے زیر استعمال آتی ہیں۔ فینکس کی بوئنگ میں سرمایہ کاری تقریباً 4 ملین ڈالر اور کٹرپلر میں تقریباً 2.5 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔
تجارت اور سفارت کاری کا بیک وقت جاری رہنا
ان سرمایہ کاریوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ 2025 سے جیرڈ کوشنر ٹرمپ انتظامیہ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے برعکس، اس مرتبہ کوشنر امریکی حکومت میں کوئی باضابطہ عہدہ نہیں رکھتے بلکہ مشیر اور غیر رسمی نمائندے کی حیثیت سے مذاکرات میں شریک ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان پر امریکی حکومت کے باضابطہ عہدیداروں پر عائد بعض مالیاتی معلومات ظاہر کرنے کی ذمہ داریاں لاگو نہیں ہوتیں۔
کوشنر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں فعال کردار ادا کیا اور مختلف مواقع پر صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور خطے کے دیگر عہدیداروں سے جنگ بندی کے معاہدے اور غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی۔
سی این این کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی تشکیل میں بھی کوشنر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
بعد ازاں کوشنر غزہ کی تعمیر نو سے متعلق منصوبوں میں بھی سرگرم رہے۔ انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں غزہ کی تعمیر نو کے ایک منصوبے کا ذکر کیا، جس میں ساحلی سیاحتی علاقے، نئے بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع شامل تھے۔
کوشنر اور ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے اسٹیو وٹکاف نے کئی مرتبہ اپنی سفارت کاری کے طریقۂ کار کو تجارتی اصطلاحات میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق تنازع کے فریق مشترکہ معاشی مفادات کی نشاندہی کرکے کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
کوشنر نے ایک انٹرویو میں اپنی تجارتی اور سفارتی سرگرمیوں کے ممکنہ باہمی تعلق سے متعلق خدشات پر کہا تھا کہ جسے دوسرے لوگ مفادات کا ٹکراؤ کہتے ہیں، وہ اور وٹکاف اسے تجربہ اور بااعتماد تعلقات سمجھتے ہیں۔
افینٹی؛ اسرائیل میں منافع بخش سرمایہ کاری
فینکس میں کوشنر کی کمپنی کی سرمایہ کاری سے افینٹی کو بھی نمایاں مالی منافع حاصل ہوا ہے۔
جولائی 2026 میں افینٹی نے فینکس میں اپنے تقریباً ایک چوتھائی حصص فروخت کیے اور 340 ملین ڈالر سے زیادہ حاصل کیے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والا منافع ابتدائی سرمایہ کاری کی رقم سے 5 گنا سے بھی زیادہ تھا۔
اس فروخت کے باوجود افینٹی فینکس کی سب سے بڑی حصص دار برقرار ہے اور اس کے پاس فینکس کے تقریباً 7.4 فیصد حصص موجود ہیں۔ جولائی میں ان حصص کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ بتائی گئی تھی۔
کوشنر نے اس سے قبل فینکس کے منتظمین کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے ادارے کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور وہ ہر چند ہفتوں بعد کمپنی کے منتظمین سے ملاقات کرتے ہیں۔
کوشنر کے وکیل نے بھی سی این این کو تصدیق کی کہ اس عرصے کے دوران کوشنر فینکس کے منتظمین سے کمپنی کی کارکردگی، مارکیٹ کے رجحانات اور ممکنہ حکمت عملی سے متعلق مواقع پر باقاعدگی سے بات چیت کرتے تھے۔
تاہم کوشنر کے وکیل کا کہنا ہے کہ فینکس کی جانب سے سی این این کی نشاندہی کردہ کمپنیوں کے حصص خریدنے، اپنے پاس رکھنے یا فروخت کرنے کے فیصلوں میں کوشنر کا کوئی کردار نہیں تھا۔
کوشنر اور وائٹ ہاؤس کا مؤقف
کوشنر کے وکیل نے ان کی سفارتی سرگرمیوں اور فینکس کی سرمایہ کاری کے درمیان کسی بھی تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ کوشنر کی سیاسی سرگرمیوں نے فینکس کے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کیا یا اس کے برعکس فینکس کی سرمایہ کاری نے کوشنر کی سیاسی سرگرمیوں پر اثر ڈالا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق خدشات کو مسترد کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ کوشنر کی ذاتی تجارتی سرگرمیوں کا ان کی سفارتی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور انہوں نے یہ سرگرمیاں رضاکارانہ طور پر صدر کی درخواست پر انجام دی ہیں۔
کوشنر پر سیاسی دباؤ میں اضافہ
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ خاندان اور ان کے قریبی ساتھیوں کی تجارتی سرگرمیوں پر توجہ بڑھ رہی ہے اور امریکی کانگریس میں تحقیقات کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن جیمی راسکن نے اس سے قبل کوشنر اور افینٹی پارٹنرز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی خارجہ پالیسی میں کوشنر کے کردار کی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔
رائٹرز نے ستمبر کے اواخر میں رپورٹ کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ خاندان کی تجارتی سرگرمیوں، جن میں افینٹی پارٹنرز کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں، کا جائزہ لینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
آخرکار، فینکس میں افینٹی کی سرمایہ کاری نے تجارتی سرگرمیوں اور کوشنر کے سفارتی کردار کے درمیان حد بندی سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ ایک طرف کوشنر جنگ اور غزہ کے مستقبل سے متعلق مذاکرات میں شریک ہیں، جبکہ دوسری طرف ان کی ملکیت والی کمپنی صیہونی مالیاتی ادارے میں اپنی سب سے بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے ان کمپنیوں کی مالی کارکردگی سے بالواسطہ طور پر وابستہ ہے جو صیہونی فوجی صنعت سے منسلک ہیں۔
سی این این کے مطابق، مالی اور سیاسی روابط کا یہ ڈھانچہ شفافیت اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔


مشہور خبریں۔
بارشی پانی میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز
?️ 17 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ بارشی
جولائی
برطانیہ کا یمن کے ساحل کے قریب ایک جہاز پر حملہ ہونے کا دعویٰ
?️ 29 اپریل 2023سچ خبریں:برطانوی میری ٹائم آپریشن ایجنسی نے اعلان کیا کہ اسے یمن
اپریل
انگلینڈ کے وزیر اعظم کے لیے ہونے والے پول میں لِز ٹرس کو 22% برتری حاصل
?️ 14 اگست 2022سچ خبریں: انگلینڈ میں کرائے گئے ایک نئے سروے سے معلوم ہوا
اگست
وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، بھارتی اقدامات یکسر مسترد کردیئے
?️ 4 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان
مئی
اسرائیل کی حمایت پر احتجاجاً تیسرے امریکی اہلکار کا استعفیٰ
?️ 29 مئی 2024سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے گزشتہ شب اعلان
مئی
غرب اردن میں اسرائیلی فوج کا سرچ آپریشن، متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا
?️ 11 اپریل 2021غرب اردن (سچ خبریں) اسرائیلی فوج نے غرب اردن میں بڑے پیمانے
اپریل
امریکی سینیٹر کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ ملک تسلیم کرنے کی قرارداد پیش
?️ 20 ستمبر 2025امریکی سینیٹر کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ ملک تسلیم کرنے کی
ستمبر
وزیراعظم کی سربراہی میں ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس 2 سال بعد بھی نہ ہوسکا
?️ 2 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کی سربراہی میں ہائی پاورڈسلیکشن بورڈکااجلاس 2
مارچ