تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہے، خواجہ آصف

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر دفاع اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہے، اس کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔

وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ملک میں ایک ساتھ انتخابات کے حوالے سے مذاکرات کا دوسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت ملک میں کوئی بحران کی صورتحال ہے، ہم نے کہہ دیا ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، اگر ملک میں الگ الگ الیکشن کرائے گئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس طرح سے پنجاب کے خلاف دیگر چھوٹے صوبوں میں منفی جذبات میں اضافہ ہوگا کہ وہاں حکومت بنا کر باقی صوبوں کے حقوق غصب کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی رائے ضرور دیتے ہیں لیکن جو فیصلہ پارٹی کرتی ہے، پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات کرنے ہیں، اتمام حجت کرنا ہے تو اتمام حجت ہو رہا ہے، کل بھی تین گھنٹے بات چیت ہوئی، مذاکرات مذاکرات کھیل رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر اس وقت کشیدہ صورتحال بالفرض ہے تو بھی یہ استدلال کیسے کیا جاسکتا ہے کہ قبل از وقت الیکشن کرائے جائیں، اگر ابھی الیکشن کرائے جاتے ہیں تو پھر تمام معاملات سے ہٹ کر تمام توجہ انتخابات کی جانب مرکوز ہوجائے گی، اس سے کشیدگی ختم نہیں ہوگی، کشیدگی تو اب شروع ہوگی کہ ابھی الیکشن کراتے ہیں پھر اس کے بعد اکتوبر میں الیکشن کراتے ہیں، پھر نومبر، دسمبر تک حکومت بنتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ حکومت عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے، ہم تو صرف آئین کی بات کر رہے ہیں، اس میں کوئی خوف کی یا مقبولیت کی بات نہیں ہے، مقبولیت کبھی ایک سطح پر برقرار نہیں رہتی، اوپر، نیچے ہوتی رہتی ہے، مقبول غیرمقبول، غیر مقبول مقبول ہوجاتے ہیں، ساری دنیا میں اسی طرح سے ہوتا ہے، اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، عمران خان کو خطرہ ہے کہ اگر ابھی ان کی کوئی مقبولیت ہے تو وہ ختم نہ ہوجائے، کم نہ ہوجائے، ان کو ایسا خطرہ ہے، باقی ہمیں ایسی خطرے والی کوئی بات نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں الیکشن ایک دن ہی ہوں گے اور اکتوبر میں ہوں گے، میرے خیال میں اکتوبر سے پہلے الیکشن نہیں ہوں گے۔

صحافی کے اس سوال پر کہ آپ کی پارٹی کے کچھ رہنما کہتے ہیں کہ عمران خان دہشت گرد ہے، اس کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کبھی ہو ہی نہیں سکتے جس پر جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں کہ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، میں خود اس بات کا حامی ہوں کہ وقت کا ضیاع ہے، آپ کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے بھی تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کی حمایت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بن رہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ میں اپنا مؤقف واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یہ سیاست دانوں کا بھی مسئلہ نہیں ہے کہ سیاستدان آپس میں بیٹھ کر بات کریں، یہ الیکشن کمیشن کا معاملہ ہے، الیکشن کمیشن بعض اوقات انتخابات کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لیے بلا لیتا ہے تو یہ اس کا اختیار ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا تھا کہ اگر سینیٹ کے اندر وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی سے بات چیت ہونی چاہیے تو وہ وفاق کا ایک ادارہ ہے، تاہم اپنے اصول کے تحت ہم پھر بھی اس کا حصہ نہیں بن رہے، ہمارا مؤقف یہی ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کا معاملہ ہے اور الیکشن کمیشن ہی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئےاس معاملے کو آگے لے کر جائے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کے حوالے سے مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز ہوا تھا جس میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اندرونی ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ پی ٹی آئی نے میٹنگ کے دوران تین اہم مطالبات پیش کیے جو درج ذیل ہیں:

جولائی میں عام انتخابات کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے مئی میں قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں۔اگر حکومت پنجاب میں انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ سے آگے جانا چاہتی ہے تو انتخابات کو 90 دن سے زیادہ مؤخر کرنے کے لیے ایک بار کی رعایت کے لیے آئینی ترمیم منظور کرائی جائے۔اسپیکرپی ٹی آئی کے اراکین کے استعفوں کی منظوری کا حکم واپس لیں تاکہ ان کی قومی اسمبلی میں واپسی ہوسکے۔

اتحادی حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سابق وزیراعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی مذاکرات میں شریک تھے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے، فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے قبل حکومتی اور تحریک انصاف کی کمیٹی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے چیمبر میں مشاورت بھی کی تھی۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے لیے عسکری مساوات مزید پیچیدہ کیسے ہو گئی؟

?️ 30 جون 2023سچ خبریں: صہیونی فوج کے فوجی مراکز اور اہم تنصیبات پر حملے

یورپی یونین کا مستقبل کیا ہوگا ؟

?️ 26 فروری 2023سچ خبریں:یوکرین میں جنگ کا آغاز، انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں میں

اسرائیل فلسطینی ریاست کو ختم نہیں کر سکتا

?️ 13 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کی صبح کہا کہ اسرائیل

امریکی ایلچی نے یمنی انصار اللہ کے اسرائیل پر جوابی حملوں کے بعد ایران پر الزام لگایا

?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں یمنی انصار اللہ

کھیلوں کے ایک اور مشہور یورپی برینڈ کا صیہونی فٹ بال فیڈریشن کے ساتھ معاہدہ منسوخ 

?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں:کھیلوں کی تیسری یورپی کمپنی کا صیہونی فٹ بال فیڈریشن

مریم نواز کا پنجاب میں انفراسٹرکچر اور ڈیزائن سٹینڈرائزیشن کا فیصلہ

?️ 25 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں انفراسٹرکچر

شام میں امریکہ، اسرائیل اور ترکی کی سازش ناکام 

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں: عبدالباری عطوان، علاقائی اخبار رائی الیوم کے ایڈیٹر اور ممتاز

آگ اور خون کے مناظر؛ بحری جہاز "میڈلین” غزہ کے پانیوں کے قریب پہنچ گیا

?️ 8 جون 2025سچ خبریں: جب بین الاقوامی کارکنوں کو لے جانے والا بحری جہاز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے