اداروں کے خلاف مہم چلانے کا کیس: صحافی اسد طور کی ضمانت منظور

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد نے اداروں کے خلاف مہم چلانے کے کیس میں صحافی اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی۔

کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل ہمایوں دلاور نے کی، اس موقع پر اسد طور کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جبکہ کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔

اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسپیشل پراسیکیوٹر سید اشفاق حسین شاہ بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

ہادی علی چٹھہ نے سپریم کورٹ کی آبزرویشن عدالت میں جمع کروا دی، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر اور اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ یہ آبزرویشن درست ہے ؟

جس پر ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ جی یہ آبزرویشن درست ہے۔

بعد ازاں عدالت نے اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد کو اداروں کے خلاف مہم چلانے کے کیس میں صحافی اسد طور کی درخواست ضمانت پر کل سماعت کر کے فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل 14 مارچ کو اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد نے سرکاری اداروں پر الزامات لگانے کے مقدمے میں گرفتار صحافی اسد طور کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نوٹسز کے خلاف صحافی اسد طور کی درخواست پر تحریریں فیصلہ جاری کردیا۔

’ڈان نیوز‘ کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں عدالت نے بادی النظر میں اسد طور کو جاری نوٹسز خلاف قانون قرار دے دیے۔

تحریری فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ نوٹسز خلافِ قانون جاری ہوئے، پھر ایف آئی آر درج ہوئی، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد متعلقہ فورم سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ از خود نوٹس کا اختیار نہیں اس لیے اسد طور کو رہا کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، صرف نوٹسز کو چیلنج کیا گیا تھا اس لیے درخواست کو آبزرویشنز کے ساتھ نمٹا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسد طور نے ایف آئی کی جانب سے 23 فروری اور 26 فروری کو جاری نوٹسز گرفتاری سے قبل چیلنج کیے تھے، عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد 7 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مشہور خبریں۔

شام کو 4 متحارب ریاستوں میں تقسیم کرنے کا خطرناک منصوبہ

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں:مغربی ایشیا کے امور کے ایک لبنانی ماہر نے امریکہ اور

القسام کی نیتن یاہو کو دھمکی

?️ 22 فروری 2025سچ خبریں: حماس کی عسکری شاخ کی قسام بٹالین سے وابستہ تلکرم بٹالین

حالیہ صورتحال میں پاکستان کس کے ساتھ ہے؟

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسرائیل کو کسی بھی

اوباما نے غزہ جنگ کا ذمہ دار کسے کہا؟

?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں: سابق امریکی صدر اوباما نے غزہ جنگ کے بارے میں

آئی ایم ایف پروگرام میں کوئی گڑبڑ ہوئی تو قوم بہت مضبوط ہے، وزیراعظم

?️ 8 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی

طالبان: افغان حکومت سرمایہ کاروں کی مدد کے لیے پرعزم ہے

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: طالبان حکومت کے نائب وزیر اعظم نے کابل سٹیل پلانٹ

اپنی ویڈیوز خود بنائی تھیں، انہیں ایک خاتون نے لیک کیا، رابی پیرزادہ کا انکشاف

?️ 23 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نازیبا ویڈیوز لیک ہونے کے بعد شوبز چھوڑ

فلسطینیوں کے ایک حملے میں کتنے صیہونی فوجی ہلاک ہوئے؟

?️ 3 دسمبر 2023سچ خبریں: جہاں تل ابیب نے غزہ میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے