?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 4 روپے 50 پیسے مہنگا ہو کر 266 روپے کی سطح پر پہنچ گیا، ماہرین اس کی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی بحالی میں تاخیر کو قرار دے رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 0.60 فیصد اضافے کے بعد 261 روپے 50 پیسے پر بند ہوا تھا۔
کرنسی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے بتایا کہ پاکستانی روپیہ اور معیشت دوبارہ دباؤ کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا تعطل اور معاہدے میں تاخیر ہونا اور نئی شرائط کا سامنے آنا ہے، اس کی وجہ سے انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاسی افراتفری بھی سب کے سامنے ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو صرف اپنی پڑی ہوئی ہے۔
ظفر پراچا نے کہا کہ اگر ہم سنجیدہ ہو کر معاملات ٹھیک کرنا چاہیں اور حکومت کی مرضی ہو تو چیزیں ٹھیک ہو سکتی ہیں، کوئی مشکل بات نہیں ہے کیونکہ ہماری درآمدات تقریباً 60 ارب ڈالر کی ہیں اور ہماری آمدنی بھی 60 ارب ڈالر کے قریب ہے، اگر ہم چاہیں تو 10 سے 15 ارب ڈالر کی درآمدات کم کرکے قرضے اتار سکتے ہیں۔
میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ فروری میں مارکیٹ میں سکون تھا اور روپے کی قدر میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا تھا، آئی ایم ایف کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن معاہدے میں تاخیر اور افغانستان کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے 285 سے 290 روپے کے درمیان ہونے کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث لوگوں کے خلاف حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں اور مزید افراتفری سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط کو جلد سے جلد پورا کرنا چاہیے۔
ٹریس مارک کی ہیڈ آف اسٹرٹیجی کومل منصور نے بتایا کہ روپے کی قدر میں کمی کی متعدد وجوہات ہیں، جس میں سب سے اہم آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ نہ ہونا ہے۔
کومل منصور نے مزید کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے مرکزی بینک سے کہا ہے کہ وہ برآمد کنندگان کو آمدنی کی وصولی کے لیے دی گئی چھوٹ کو واپس لے، جس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، اس سے پالیسی میں استحکام کی عکاسی نہیں ہوتی، اگر پالیسیاں آئی ایم ایف کی طرف سے دی جائیں گی تو یقیناً مارکیٹ میں خوف ہوگا۔
پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، اس کے ذخائر صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جو صرف تین ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں، ایسی صورت حال میں ملک کو فوری طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرنے کی ضرورت ہے، جس سے نہ صرف ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملیں گے بلکہ دوست ممالک اور دیگر کثیر الجہتی قرض دہندگان کی جانب سے فنڈز ملنے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔


مشہور خبریں۔
فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کی نسل پرستی کا جائزہ
?️ 8 فروری 2022سچ خبریں: کوئی بھی صیہونی حکومت کو نسل پرست حکومت قرار دے
فروری
سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی کوشش
?️ 7 جنوری 2026 سعودی عرب کی سرحد کے قریب اسرائیلی اڈا بنانے کی اماراتی
جنوری
ماہرین ماحولیات کا پن بجلی منصوبوں کے حوالے سے بھارت کی موجودہ پالیسی پر اظہارتشویش
?️ 29 اکتوبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں بڑے
اکتوبر
مانیٹری پالیسی سے سٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول رکھنے کیلئے اقدامات کرے گا.وزارت خزانہ
?️ 26 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ مانیٹری
مارچ
2026 یوتھ کا سال، خواتین کو بااختیار بنا ر ہے ہیں۔ مریم نواز
?️ 11 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ 2026 پنجاب
فروری
پاکستانی متعدد رہنماؤں کا مغربی ممالک کو پیغام
?️ 11 دسمبر 2023سچ خبریں: پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے صیہونی
دسمبر
امریکہ پاکستانی فضائیہ کو F-16 طیارے فروخت کرنے کو تیار
?️ 20 اکتوبر 2022سچ خبریں:پاکستان کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر بھارت کی تشویش
اکتوبر
اڈیالہ جیل میں پرویز الہیٰ کی طبعیت بگڑ گئی، چیک اپ کیلئے پمز ہسپتال منتقل
?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعلیٰ
مارچ