?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے افغان بحران سے ممکنہ طور پر رونما ہونے والے مسائل کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ سے متاثرہ ملک کے بارے میں پاکستان کے مشورے کو نظر انداز کیا گیا تو دنیا کو ایک ’ناقابل تلافی نقصان‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ دنیا کو پاکستان کی بات سننی چاہیے کیونکہ ’ماضی قریب میں پاکستان کے مشوروں پر توجہ نہیں دی گئی تھی، اگر پاکستان اور وزیر اعظم کے مشورے کو سنا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پاکستان کے لیے بہت تشویشناک ہے،ہمیں ان مسائل سے نمٹنا پڑا جب 1988 میں سوویت یونین نے افغانستان چھوڑا تھا‘۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اگرچہ روس، چین، امریکا اور پاکستان پر مشتمل افغان تنازع کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ترکی، پاکستان، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں پر مشتمل دوسرے گروپ کو بھی فعال ہونے کی ضرورت ہے تاکہ (بحران کو حل کرنے میں مدد) مل سکے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر دلدل میں پھنسا ہوا ہے کیونکہ امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے نکل رہی ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جبکہ ہماری معیشت اس بڑی تعداد میں مہاجرین کی دیکھ بحال کے لیے اتنی مضبوط نہیں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جس طرح افغانستان کو ماضی میں چھوڑ دیا گیا ہے اور اگر دنیا نے وہی غلطی دہرائی تو ہمارے پاس پاکستان کی سرحد پر شدت پسند تنظیموں کا مرکز ہوگا جو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے بہت پریشان کن ہوگا۔
فواد چوہدری نے زور دیا کہ پاکستان خطے میں استحکام لانے کی پوری کوشش کر رہا ہے کیونکہ ہم علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ افغانستان میں ایک جامع حکومت کے لیے کام کر رہے ہیں۔
تاہم وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت مہاجرین کا کوئی بحران نہیں ہے، پاکستان نے غیر ملکی شہریوں کو کابل سے نکالا ہے اور جہاں تک تارکین وطن کا تعلق ہے ہماری سرحد فی الوقت معمول کے مطابق ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کے پاس عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ہے کیونکہ ’ہم 1977 کا واقعہ نہیں دہرانا چاہتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ یہ تارکین وطن پاکستان میں داخل ہوں‘۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر لوگوں کی ہجرت سے نمٹنے کے لیے انتظامات کیے جائیں گے، دنیا کو اس صورت حال میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی آبادکار شمالی بستیوں میں واپس کیوں نہیں آ رہے ہیں؟
?️ 23 دسمبر 2024سچ خبریں:تل ابیب کی جانب سے مختلف مراعات فراہم کرنے کے باوجود،
دسمبر
خطے کا سب سے بڑا ٹائم بم، مغربی جاسوس تنظیموں کا اڈا
?️ 3 جون 2023سچ خبریں:باخبر ذرائع نے شام کے الحول کیمپ میں سات مغربی انٹیلی
جون
مشرق وسطیٰ کی جنگیں جھوٹ پر مبنی ہیں: برازیل کے صدر
?️ 19 اپریل 2026 سچ خبریں:برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا نے پروگریسو
اپریل
شی جن پنگ کے ساتھ ٹرمپ کی فون پر بات چیت
?️ 5 فروری 2026سچ خبریں: چین کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک مختصر رپورٹ میں
فروری
ایم پیکیچ پر وزیر اعظم نے لگائی روک
?️ 8 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں وزیراعظم نے حکم
ستمبر
سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ صدر مملکت
?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے مسلم ورلڈ
اکتوبر
2023 صیہونی حکومت کی تاریخ کا بدترین سال
?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں:صہیونی سوشل نیٹ ورکس پر گراف کے مطابق الاقصیٰ طوفان آپریشن
جنوری
حلب یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسرز نےروس کی حمایت میں ریلی نکالی
?️ 11 مارچ 2022سچ خبریں: صنعا نے جمعرات کی شام اعلان کیا کہ حلب یونیورسٹی
مارچ