ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات،تلخی کے بعد بات چیت

ٹرمپ

?️

ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات،تلخی کے بعد بات چیت

نیویارک کے نوجوان مسلمان میئر زہران ممدانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات نے یہ حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی کہ سیاست میں نہ کوئی جھگڑا دائمی ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی خفگی ہمیشہ رہتی ہے۔ دونوں شخصیات جو کچھ ہی عرصہ پہلے ایک دوسرے کو فاشسٹ اور کمیونسٹ کہہ رہی تھیں، آمنے سامنے بیٹھیں اور ایک پُرمغز گفتگو کے بعد فضا بدل گئی۔

ملاقات کے بعد ممدانی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے کبھی امریکی حکومت پر نسل کشی کا الزام نہیں لگایا بلکہ نشانہ اسرائیلی حکومت تھی، اور یہ بھی کہ امریکی حکومت اس کارروائی کی مالی مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ نیویارک کے شہری چاہتے ہیں کہ ان کا ٹیکس ان کی اپنی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہو۔

ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ممدانی کو طنزیہ انداز میں کمیونسٹ اور ان کے درمیانی نام’کوامی کو نشانہ بنا کر یہ تاثر دیا تھا کہ وہ ایک انتہاپسند تارک وطن ہیں۔ لیکن ملاقات کے فوراً بعد ٹرمپ کی زبان اور لہجہ دونوں بدل گئے۔ انہوں نے ممدانی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نیویارک کے نئے میئر سے ملاقات کرنا میرے لیے اعزاز تھا۔

ٹرمپ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ممدانی کو منطقی، مضبوط اور قابل گفتگو قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دنیا کے بڑے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں مگر ایسے عوامی ردعمل کہیں نہیں دیکھے۔ جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ ممدانی کے نیویارک میں رہنا چاہیں گے، تو ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہاں خاص طور پر آج کی ملاقات کے بعد۔

ممدانی بھی گفتگو میں کمزور نہیں پڑے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا نیویارک ٹرمپ کو پسند کرتا ہے، انہوں نے نہایت ہوشیاری سے بات کو شہری مسائل کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ نیویارک وہ مستقبل پسند کرتا ہے جو عوام کے لیے قابل برداشت ہو، اور پھر یاد دلایا کہ نیویارک نے آخر بار ٹرمپ کو کب ووٹ دیا تھا۔

ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اگر ممدانی نے مجھے فاشسٹ کہا ہے تو ایک ہاں کہہ دو، وضاحت سے بہتر ہے۔ یہ جملہ امریکی میڈیا کی سرخیوں میں رہا۔

ملاقات سے جو سب سے اہم سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ مغربی سیاست میں مکالمہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مخالفین سے گفتگو کو کمزوری نہیں سمجھا جاتا بلکہ سیاسی پختگی اور حقیقت پسندی کا تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ نے بھی یہی حقیقت تسلیم کی کہ اگرچہ ان کے اور ممدانی کے درمیان متعدد اختلافات ہیں، مگر دونوں کو چند برس ایک ہی ملک میں، ایک ہی شہر کے نظام کو چلانے کے لیے تعاون کرنا ہوگا۔

ممدانی نے بھی درست قدم اٹھایا کہ خود آگے بڑھ کر صدر سے ملاقات کی درخواست کی، کیونکہ کوئی بھی میئر وفاقی حکومت کی مدد کے بغیر شہر کی بہتری کے بڑے منصوبے آگے نہیں بڑھا سکتا۔ ملاقات کا مقصد جھکنا نہیں، راستہ بنانا تھا۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ’یا میں اسے قائل کروں گا یا وہ مجھے۔

آنے والے مہینوں میں اس تعلق کا رخ کیا ہوگا، اس پر ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں، مگر ایک بات واضح ہے کہ اس ملاقات نے موجودہ سیاسی کشیدگی میں ایک مؤثر اور مثبت موڑ پیدا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دکھایا کہ اختلاف کے باوجود رو در رو بات چیت سے بہت سی رکاوٹیں دور کی جاسکتی ہیں، اور سیاست میں سب سے مضبوط قدم وہ ہے جو مصالحے اور مکالمے کے دروازے کھولتا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہم نے دشمن کو بتادیا پاکستانی فوج اور عوام ایک ہیں۔ عبدالعلیم خان

?️ 30 مئی 2025خوشاب (سچ خبریں) استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات

یروشلم میں 5 امریکیوں کے زخمی ہونے پر واشنگٹن کا ردعمل

?️ 15 اگست 2022سچ خبریں:    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے آج

بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں، اویس لغاری

?️ 10 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے

فرخ حبیب کابلاول زرداری کے بیان پر ردعمل

?️ 4 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) فرخ حبیب نے پی پی چیئرمین بلاول زرداری کے

وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا روانہ

?️ 5 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہبازشریف ملائیشیا کے دو روزہ سرکاری

خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

?️ 13 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس

فرانس اور شیلی کے سربراہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا

?️ 19 جون 2024سچ خبریں: فرانسیسی اور شیلی کے صدر ایمانوئل میکرون اور گیبریل بورک نے

روس بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے: جرمنی

?️ 24 جون 2022سچ خبریں:     برلن میں جمعہ کی ریلی سے قبل جرمن وزیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے