?️
سچ خبریں: صیہونی حکومت کا غزہ کے خلاف جنگ میں اپنے منصوبے کو تبدیل کرنے اور اس پٹی کے جنوب میں دیوانہ وار حملوں کا آغاز کرنے کا ایک اہم ترین مقصد خان یونس شہر پر تسلط کرنا ہے اس لیے کہ اس شہر کا نام حماس اور قسام سے جڑا ہوا ہے۔
طوفان الاقصیٰ کو 60 دن سے زیادہ گزر جانے کے بعد، ہم غزہ کی پٹی میں صہیونی زمینی جنگ کے چوتھے ہفتے کے آخری دنوں میں ہیں، غزہ کی پٹی میں صیہونیوں کی 20 دن کی عجیب و غریب، غیر معمولی اور دیوانہ وار بمباری کے بعد شروع ہونے والے زمینی حملہ کے دوران بھی صیہونی جنگی طیاروں کے وسیع حملوں کے باوجود ابھی تک اسرائیل اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کرسکا ہے۔
کیا شمال صیہونیوں کے کنٹرول میں ہے؟
عارضی جنگ بندی سے تقریباً دو ہفتے قبل صہیونیوں نے شمالی علاقے پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا اس لیے کہ وہ اپنے حملوں میں غزہ کے کچھ ساحلی اور جنوبی علاقوں میں پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہو گئے جو آباد نہیں تھے لیکن انہیں آباد علاقوں جیسے بیت لاہیا اور خود غزہ شہر میں گھسنے میں انہیں بہت شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا صیہونی غزہ میں زمینی حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟صیہونی تجزیہ نگار کا اظہارخیال
پیش قدمی کے باوجود ساحلی اور جنوبی علاقے کبھی بھی صہیونیوں کے کنٹرول میں نہیں آئے، چھ دن کے بعد عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے ساتھ ہی ہم نے غزہ کے شمالی علاقوں سے لے کر جنوبی علاقوں جیسے کہ جحرالدیک تک صیہونیوں کے خلاف قسام کی افواج کی مختلف کاروائیوں کا مشاہدہ کیا۔
حتیٰ کہ مختلف صہیونی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ نگاروں نے بھی کئی بار اعتراف کیا ہے کہ صیہونی فوج شمال میں اپنے اہداف تک نہیں پہنچ سکی ہے اور غزہ کے شمال پر کنٹرول کی بھی کوئی خبر نہیں ہے۔
عبرانی زبان کے اخبار Yedioth Aharanot نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ صیہونی فوج غزہ شہر اور اس کے گردونواح میں 60 دنوں کی جنگ کے دوران حماس کو شکست نہیں دے سکی، اس لیے وہ کم عرصے میں خان یونس کا صفایا نہیں کر سکے گی اور یہ مسئلہ اس حکومت کو بہت زیادہ دباؤ میں ڈالے گا۔
کنیسٹ میں حزب اختلاف کی کابینہ کے رہنما لاپڈ نے اسرائیلی سکیورٹی سروسز کی ناکامیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صہیونی برادری کا نیتن یاہو پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور انہیں اب مستعفی ہو جانا چاہیے۔
لیکن سب سے واضح اعتراف اسرائیلی فوج کے ترجمان کا تھا جس نے امریکی سی این این چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی تک غزہ کے شمال میں حماس کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں، اور اس علاقے میں آپریشن اور میدان کی صورتحال بہت مشکل اور پیچیدہ ہے۔
جنوب ہی کیوں؟
بہت سے لوگوں کے مطابق خانیونس (غزہ کے جنوب) میں القسام کا مرکز اور حماس کی فوجی طاقت محمد ضیف اور یحییٰ سنور کی جائے پیدائش ہے،غزہ کی آخری جنگ میں صہیونیوں نے خانیونس میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھایا اور اس شہر اور اس کی پوزیشن کو شمال سے بہت مختلف اور سنگین قرار دیا۔
واضح رہے کہ شمال میں حماس کی آپریشنل صلاحیت پر اثر نہ ہونے اور ہلاکتوں میں اضافے کی وجہ سے صیہونیوں نے جنگ کے نئے دور میں اپنی توجہ جنوب کی طرف مبذول کر لی ہے اور خانیونس جیسے علاقوں میں دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگر وہ خانیونس پہنچ جائیں تو غالباً وہ صہیونی برادری کو قسام اور حماس کے کمزور ہونے کے حوالے سے سنگین اور قابل دید ضربوں کی رپورٹ پیش کر سکیں گے۔
نیتن یاہو کو اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ وہ 60 دن کی جنگ کے بعد صہیونی برادری کے سامنے رپورٹ پیش کریں۔
صیہونی حکومت ایک ایسی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جس کی افرادی قوت کے استعمال اور میدانوں یعنی شمال سے آبنائے باب المندب تک، کی تعداد دونوں لحاظ سے جن میں وہ لڑ رہی ہے،اس کی جعلی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
لہٰذا، نیتن یاہو کو اس جنگ اور صہیونی معاشرے کے لیے اس کی قیمتوں کے لیے قابل قبول جواب دینا ہو گا۔
نتیجہ
ایسا لگتا ہے کہ صیہونی حکومت میدان کو شمال سے جنوب کی طرف تبدیل کرکے کئی مقاصد حاصل کر رہی ہے،سب سے پہلے، شمال میں پیشرفت کے تعطل پر قابو پانا اور میڈیا کی توجہ جنوب میں پیشرفت پر مرکوز کرنا،دوسرا، حماس اور القسام کے اہم شہروں میں سے ایک خانیونس تک پہنچنا اور آخری اور تیسرا مقصد سماجی تباہی کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: صیہونیوں کو غزہ پر زمینی حملہ کر کے کیا حاصل ہوا ہے؟
صیہونی کوشش کر رہے ہیں کہ غزہ اور حماس کے لوگوں کو سماجی دباؤ اور انسانی تباہی کے پیش نظر نقصانات میں اضافہ، بمباری اور جنوب میں عوامی مزاحمت کی قیمت میں اضافہ کر کے مزید 60 دن تک جنگ جاری رکھنے پر مجبور کریں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صیہونی حکومت 2 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی ہمت رکھتی ہے؟


مشہور خبریں۔
امریکی اڈے پر حملہ، الحشد الشعبی کا اقتدار اور مشکوک افواہیں
?️ 7 نومبر 2021سچ خبریں: بعض ذرائع نے مخصوص ذرائع سے مالی اعانت فراہم کرنے
نومبر
مظلوم کشمیری عوام مسلسل بھارت کے غیر قانونی تسلط میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، حریت کانفرنس
?️ 13 فروری 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
فروری
ایئر چیف کی فواد چوہدری سے ملاقات، ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون پر تبادلۂ خیال
?️ 10 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سربراہ پاک فضائیہ ایئر مارشل مجاہد انور خان
مارچ
برطانیہ اور امریکہ صیہونی حکومت کی مکمل حمایت کیوں کرتے ہیں؟
?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں: برطانوی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان جاری
دسمبر
یمنی ڈورن حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات،امریکہ،فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ کانفرانس
?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات نے یہ کہتے ہوئے کہ یمنی حملوں کا
فروری
سعودی شہزادے امریکی اورصیہونی منصوبوں کے حامی
?️ 7 نومبر 2021سچ خبریں: پرانے زمانے میں جب کچھ قبائل لوٹ مار کرتے تھے اور
نومبر
وزیراعظم کی چینی ہم منصب کے زیرِ صدارت اجلاس میں شرکت، غیررسمی گفتگو
?️ 24 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی
ستمبر
خیبر پختونخوا: صوبےکی تاریخ کا سب سے بڑا ترقیاتی بجٹ
?️ 16 جون 2021پشاور(سچ خبریں) 18 جون کو خیبر پختونخوا حکومت کا بجٹ 2021-22 پیش
جون